جو بھی گزرے گی گزاریں گے گزرنے والے
دنیا کے اکثر وہ کھیل جن میں ایک گیند کا استعمال ہوتا ہے جیسے فٹ بال، والی بال، باسکٹ بال، بیس بال،کرکٹ، ہاکی ، ٹینس۔۔۔
barq@email.com
ISLAMABAD:
دنیا کے اکثر وہ کھیل جن میں ایک گیند کا استعمال ہوتا ہے جیسے فٹ بال، والی بال، باسکٹ بال، بیس بال،کرکٹ، ہاکی ، ٹینس وغیرہ میں کھیل کا مرکز ایک گیند ہوتی ہے دیکھا جائے تو ان کھیلوں میں اور جمہوریت میں بہت زیادہ مشابہت پائی جاتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ جمہوریت کے کھیل کا میدان پورے ملک پر مشتمل ہوتا ہے اور گیند کی جگہ انسان بلکہ صحیح معنوں میں انسانوں کی کھوپڑیاں استعمال کی جاتی ہیں اور ان کھوپڑیوں کے بارے میں وہ مشہور و معروف شعر کہا گیا ہے جو اپنے بہت زیادہ استعمال سے اپنی معنویت کھو چکا ہے یعنی
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اس کھیل میں وہ ممالک نسبتاً خوش نصیب ہوتے ہیں جن میں دو سے زیادہ پارٹیاں ہوتی ہیں پارٹیوں سے مطلب صرف نام کی پارٹیاں نہیں بلکہ وہ پارٹیاں ہیں جو کھیل کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں اور سب سے زیادہ بدنصیب وہ ملک ہوتے ہیں جن کے اندر ایک ہی پارٹی ہے اور پاکستان ان سب سے الگ ایک ایسا ملک ہے جس میں درحقیقت تو ایک ہی پارٹی یا ٹیم کھیلتی ہے لیکن کھیل کود کو جاری رکھنے کے لیے اسی ایک ٹیم کو دو بنا کر ''دوستانہ'' (کھلاڑیوں کے لیے) میچ اور گیند کے لیے ''دشمنانہ'' میچ کھیلے جاتے ہیں۔
پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے یہاں جب کھیل کی ابتداء ہوئی تو صرف ایک ہی پارٹی تھی جو خود بھی سرسبز تھی اور ملک کو بھی سرسبز بنانے پر تل گئی تھی، کافی عرصے تک اس کی ''سبز قدمی'' چلتی رہی۔ پھر کسی نے سوچا کہ آخر ساری دنیا جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے جیسا کہ آج کل دنیا میں کرکٹ کا کریز اتنا ہی ہے کہ افغانستان بھی اس میں شامل ہو گیا ہے حالاں کہ وہاں کی ٹیم کو باہر کھیلنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیوں کہ وہاں کے چپے چپے پر کسی نہ کسی کھوپڑی الیون کی چیمپیئن شپ چلتی ہے چونکہ کھوپڑیاں بھی بہت ہیں اور بلے بھی کم نہیں ہیں اور امریکا نے ایک بہت ہی قابل ایمپائر جناب کرزئی کو بھی رکھا ہوا ہے اس لیے افغانستان کی ٹیم کو ہوم گراؤنڈ ہی پر کھیلنا چاہیے لیکن کریز تو کریز ہوتی ہے،
ٹھیک آج کی کرکٹ پسندی کی طرح اس زمانے میں جمہوریت کی کریز بہت زیادہ تھی، اندازہ اس سے لگائیں کہ بعض ممالک میں صرف ایک ہی ٹیم ہوتی تھی چنانچہ پاکستان نے بھی سوچا کہ جمہوریت کو ذرا اور بھی ترقی دینے کی ضرورت ہے اور واحد ٹیم کی جگہ دوسری ٹیم بھی ہونی چاہیے، چنانچہ سب سے پہلے جناح مسلم لیگ وجود میں آگئی جس نے بعد میں عوامی لیگ کا نام اختیار کیا اس ٹیم کے سارے کھلاڑی مین ٹیم یعنی سبز قدم الیون ہی کے تھے لیکن نام بدل کر نئی ٹیم میں چلے گئے، اصل سبز قدم الیون کو اس سے بڑا دھچکا پہنچا چنانچہ اس کے کچھ کھلاڑیوں نے ری پبلکن الیون کی بنیاد ڈالی لیکن جس طرح ایک شخص کی چادر چرانے کے لیے ایک گاؤں والوں نے میلہ لگایا تھا ٹھیک اسی طرح ری پبلکن الیون بھی بعض مخالف سیاستدانوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد نہ جانے کس جہاں میں کھو گئی،
مسئلہ پھر وہی پیدا ہو گیا سبز قدم الیون میں کھلاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تھی اور کھیل میں مزہ بھی نہیں آرہا تھا آخر کوئی کب تک اکیلے ہی تاش کا پتہ کھیلے، چنانچہ اسی ٹیم میں سے کھلاڑی نکال کر ایک اور ٹیم بنائی گئی جس کا نام محض پہچان اور شناخت اور تماشائیوں کو ٹکٹوں کی خریداری پر آمادہ کرنے کے لیے پی پی پی رکھ دیا گیا ورنہ اس کا سارا مال مسالہ سبز قدم الیون ہی سے لیا گیا تھا خود اس کا پاکستان بھی سبز قدم الیون کا نائب کپتان ہی تھا اکا دکا کھلاڑی باہر سے بھی لیے گئے لیکن بنیادی طور پر یہ سبز قدم الیون ہی کی کونپل تھی، اس دن کے بعد پاکستان کے جمہوری میدان پر ان ہی دو ٹیموں کا میچ چلتا رہا، بیچ بیچ میں کپتانی کچھ باوردی لوگوں نے بھی کی لیکن کھلاڑی وہی رہتے تھے،
یہ پس منظر ہم نے یونہی تفریح طبع کے لیے بیان نہیں کیا ہے بلکہ حالیہ انتخاب اور اس کے نتائج سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے، دونوں بڑی جماعتوں یا ٹیموں کے درمیان ٹورنامنٹ تو ایک عرصے سے چل رہے تھے لیکن ان دونوں ٹیموں کے یکساں کھیل ایک ہی قسم کے چہروں اور ایک ہی طرح کے کھیل سے عوام بیزار ہو چکے تھے اور وہ ان دونوں ٹیموں کے بجائے کچھ تبدیلی چاہتے تھے عوام کو اس سے بھی کوئی سروکار نہیں تھا کہ تبدیلی کیا ہو کیسی ہو، لیکن تبدیلی ضرور ہو کیوں کہ ان دو ٹیموں کے یکساں کھیل یکساں شارٹس اور یکساں نتائج سے لوگ اوب گئے تھے، تنگ آگئے تھے چناں چہ
اس گزر گاہ سے پہنچیں تو کہیں منزل تک
جو بھی گزرے گی گزاریں گے گزرنے والے
حالاں کہ عمران خان کے پاس بھی صرف نعرے ہی تھے کروں گا، کریں گے کے علاوہ اور کوئی ٹھوس پروگرام اس کے پاس بھی نہیں تھا اور یہ محض ہوائی باتیں ہی تھیں کیوں کہ سمجھ دار لوگ جانتے تھے کہ اس نظام کے ہوتے ہوئے کسی بھی بہتری کی گنجائش نہیں، لیکن آواز نئی تھی چنانچہ پرانے راگوں سے ناک تک تنگ آنے والے لوگ آنکھوں میں امیدیں اور دل میں بے پناہ آرزوئیں لے کر اندھا دھند دوڑ پڑے، فی الحال تو نتائج ویسے نہیں نکلے جیسا عام لوگ چاہتے تھے کیوں کہ پنجاب اور سندھ میں پرانی ٹیموں کی پوزیشن مضبوط تھی جب کہ خیبر پختون خوا میں مضبوط نظر آنے والی اے این پی اپنا سب کچھ ہار چکی تھی بلکہ بیچ کر کھا چکی تھی چنانچہ ابلا ہوا بپھرا ہوا اور بے قابو زور ادھر ہی نکل گیا، اب صورت حال ایک مرتبہ پھر ویسی ہی ہے جیسی اسی خطے میں ایم ایم اے کی خلاف توقع جیت پر ہو چکی تھی جس طرح ایم ایم اے کو توقع کے خلاف بلکہ بہت ہی زیادہ خلاف ''شکار'' مل گیا تھا جو اس کے خورجین سے کئی گنا زیادہ تھا ٹھیک اسی طرح پی ٹی آئی کو بھی اتنا شکار ملا کہ اب اسے سنبھالنے کے لیے اس کے پاس نہ تھیلے ہیں نہ برتن ہیں اور نہ لے جانے کا ذریعہ۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں صرف آئیں بائیں شائیں ہی ہانکی جا سکتی ہیں وہ ہانکی جارہی ہیں۔ اب تک کی کارکردگی صرف اچھے اچھے بیانوں تک محدود ہے، گاڑی شارٹ تو ہوئی ہے لیکن اسی جگہ پہیے گھوم رہے ہیں، انجن کی غراہٹ کافی بلند ہے پہیے بھی تیزی سے گھوم رہے ہیں لیکن ڈرائیور حیران ہے کہ ایکسیلریٹر دے کر سٹئرینگ کس طرف گھما دے۔ بات ''نئے پاکستان'' کی ہوئی تھی لیکن وہی پرانی اینٹیں ہی اوپر نیچے کی جارہی ہیں حسب معمول پشاور شہر کو بھی دلہن بنانے کی بات بھی ہوئی ہے جب کہ ابھی تک صرف ٹریفک تک میں کوئی اصلاح احوال نہیں ہوئی ہے۔
وزیروں کے اسکواڈ کے علاوہ جو نئی بات دیکھنے سننے میں آئی ہے وہ مشیروں اور معاونوں کا تقرر ہے، ابھی تک یہ تو معلوم نہیں ہو پایا کہ اگر محکمے مشیروں اور معاونین کے ذریعے چلائے جائیں گے تو وزیر صاحبان کس مرض کی دوا ہیں، اگر محکمے وزیر چلائیں گے تو یہ معاون اور مشیر لوگ کیا بیچیں گے اور کیا خریدیں گے اور اگر سب کے سب ہی اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے تو شاید وہی نتیجہ ہو جو ایک گھر میں ہانڈی کے ساتھ ہوا تھا۔ شوہر نے چارپائی پر لیٹے لیٹے دیکھا کہ اس کی بڑی بیوی آئی اور ہانڈی میں مٹھی بھر نمک ڈال کر چلی گئی پھر دوسری نے بھی آکر اتنا ہی نمک ڈالا وہ گئی تو اس کی ماں نے بھی وہی کیا اس پر وہ شخص اٹھا اور چولہے سے مٹھی بھر راکھ لے کر ہانڈی میں ڈال دی، عورتوں نے دیکھا تو پوچھا یہ کیا کیا تو بولا تم لوگوں نے ہانڈی کا ذائقہ بگاڑ دیا میں نے سوچا رنگ بھی بگاڑ دوں کیوں کہ کھانے کے لائق تو ویسے بھی نہیں رہی ہے۔
دنیا کے اکثر وہ کھیل جن میں ایک گیند کا استعمال ہوتا ہے جیسے فٹ بال، والی بال، باسکٹ بال، بیس بال،کرکٹ، ہاکی ، ٹینس وغیرہ میں کھیل کا مرکز ایک گیند ہوتی ہے دیکھا جائے تو ان کھیلوں میں اور جمہوریت میں بہت زیادہ مشابہت پائی جاتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ جمہوریت کے کھیل کا میدان پورے ملک پر مشتمل ہوتا ہے اور گیند کی جگہ انسان بلکہ صحیح معنوں میں انسانوں کی کھوپڑیاں استعمال کی جاتی ہیں اور ان کھوپڑیوں کے بارے میں وہ مشہور و معروف شعر کہا گیا ہے جو اپنے بہت زیادہ استعمال سے اپنی معنویت کھو چکا ہے یعنی
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اس کھیل میں وہ ممالک نسبتاً خوش نصیب ہوتے ہیں جن میں دو سے زیادہ پارٹیاں ہوتی ہیں پارٹیوں سے مطلب صرف نام کی پارٹیاں نہیں بلکہ وہ پارٹیاں ہیں جو کھیل کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں اور سب سے زیادہ بدنصیب وہ ملک ہوتے ہیں جن کے اندر ایک ہی پارٹی ہے اور پاکستان ان سب سے الگ ایک ایسا ملک ہے جس میں درحقیقت تو ایک ہی پارٹی یا ٹیم کھیلتی ہے لیکن کھیل کود کو جاری رکھنے کے لیے اسی ایک ٹیم کو دو بنا کر ''دوستانہ'' (کھلاڑیوں کے لیے) میچ اور گیند کے لیے ''دشمنانہ'' میچ کھیلے جاتے ہیں۔
پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے یہاں جب کھیل کی ابتداء ہوئی تو صرف ایک ہی پارٹی تھی جو خود بھی سرسبز تھی اور ملک کو بھی سرسبز بنانے پر تل گئی تھی، کافی عرصے تک اس کی ''سبز قدمی'' چلتی رہی۔ پھر کسی نے سوچا کہ آخر ساری دنیا جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے جیسا کہ آج کل دنیا میں کرکٹ کا کریز اتنا ہی ہے کہ افغانستان بھی اس میں شامل ہو گیا ہے حالاں کہ وہاں کی ٹیم کو باہر کھیلنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیوں کہ وہاں کے چپے چپے پر کسی نہ کسی کھوپڑی الیون کی چیمپیئن شپ چلتی ہے چونکہ کھوپڑیاں بھی بہت ہیں اور بلے بھی کم نہیں ہیں اور امریکا نے ایک بہت ہی قابل ایمپائر جناب کرزئی کو بھی رکھا ہوا ہے اس لیے افغانستان کی ٹیم کو ہوم گراؤنڈ ہی پر کھیلنا چاہیے لیکن کریز تو کریز ہوتی ہے،
ٹھیک آج کی کرکٹ پسندی کی طرح اس زمانے میں جمہوریت کی کریز بہت زیادہ تھی، اندازہ اس سے لگائیں کہ بعض ممالک میں صرف ایک ہی ٹیم ہوتی تھی چنانچہ پاکستان نے بھی سوچا کہ جمہوریت کو ذرا اور بھی ترقی دینے کی ضرورت ہے اور واحد ٹیم کی جگہ دوسری ٹیم بھی ہونی چاہیے، چنانچہ سب سے پہلے جناح مسلم لیگ وجود میں آگئی جس نے بعد میں عوامی لیگ کا نام اختیار کیا اس ٹیم کے سارے کھلاڑی مین ٹیم یعنی سبز قدم الیون ہی کے تھے لیکن نام بدل کر نئی ٹیم میں چلے گئے، اصل سبز قدم الیون کو اس سے بڑا دھچکا پہنچا چنانچہ اس کے کچھ کھلاڑیوں نے ری پبلکن الیون کی بنیاد ڈالی لیکن جس طرح ایک شخص کی چادر چرانے کے لیے ایک گاؤں والوں نے میلہ لگایا تھا ٹھیک اسی طرح ری پبلکن الیون بھی بعض مخالف سیاستدانوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد نہ جانے کس جہاں میں کھو گئی،
مسئلہ پھر وہی پیدا ہو گیا سبز قدم الیون میں کھلاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تھی اور کھیل میں مزہ بھی نہیں آرہا تھا آخر کوئی کب تک اکیلے ہی تاش کا پتہ کھیلے، چنانچہ اسی ٹیم میں سے کھلاڑی نکال کر ایک اور ٹیم بنائی گئی جس کا نام محض پہچان اور شناخت اور تماشائیوں کو ٹکٹوں کی خریداری پر آمادہ کرنے کے لیے پی پی پی رکھ دیا گیا ورنہ اس کا سارا مال مسالہ سبز قدم الیون ہی سے لیا گیا تھا خود اس کا پاکستان بھی سبز قدم الیون کا نائب کپتان ہی تھا اکا دکا کھلاڑی باہر سے بھی لیے گئے لیکن بنیادی طور پر یہ سبز قدم الیون ہی کی کونپل تھی، اس دن کے بعد پاکستان کے جمہوری میدان پر ان ہی دو ٹیموں کا میچ چلتا رہا، بیچ بیچ میں کپتانی کچھ باوردی لوگوں نے بھی کی لیکن کھلاڑی وہی رہتے تھے،
یہ پس منظر ہم نے یونہی تفریح طبع کے لیے بیان نہیں کیا ہے بلکہ حالیہ انتخاب اور اس کے نتائج سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے، دونوں بڑی جماعتوں یا ٹیموں کے درمیان ٹورنامنٹ تو ایک عرصے سے چل رہے تھے لیکن ان دونوں ٹیموں کے یکساں کھیل ایک ہی قسم کے چہروں اور ایک ہی طرح کے کھیل سے عوام بیزار ہو چکے تھے اور وہ ان دونوں ٹیموں کے بجائے کچھ تبدیلی چاہتے تھے عوام کو اس سے بھی کوئی سروکار نہیں تھا کہ تبدیلی کیا ہو کیسی ہو، لیکن تبدیلی ضرور ہو کیوں کہ ان دو ٹیموں کے یکساں کھیل یکساں شارٹس اور یکساں نتائج سے لوگ اوب گئے تھے، تنگ آگئے تھے چناں چہ
اس گزر گاہ سے پہنچیں تو کہیں منزل تک
جو بھی گزرے گی گزاریں گے گزرنے والے
حالاں کہ عمران خان کے پاس بھی صرف نعرے ہی تھے کروں گا، کریں گے کے علاوہ اور کوئی ٹھوس پروگرام اس کے پاس بھی نہیں تھا اور یہ محض ہوائی باتیں ہی تھیں کیوں کہ سمجھ دار لوگ جانتے تھے کہ اس نظام کے ہوتے ہوئے کسی بھی بہتری کی گنجائش نہیں، لیکن آواز نئی تھی چنانچہ پرانے راگوں سے ناک تک تنگ آنے والے لوگ آنکھوں میں امیدیں اور دل میں بے پناہ آرزوئیں لے کر اندھا دھند دوڑ پڑے، فی الحال تو نتائج ویسے نہیں نکلے جیسا عام لوگ چاہتے تھے کیوں کہ پنجاب اور سندھ میں پرانی ٹیموں کی پوزیشن مضبوط تھی جب کہ خیبر پختون خوا میں مضبوط نظر آنے والی اے این پی اپنا سب کچھ ہار چکی تھی بلکہ بیچ کر کھا چکی تھی چنانچہ ابلا ہوا بپھرا ہوا اور بے قابو زور ادھر ہی نکل گیا، اب صورت حال ایک مرتبہ پھر ویسی ہی ہے جیسی اسی خطے میں ایم ایم اے کی خلاف توقع جیت پر ہو چکی تھی جس طرح ایم ایم اے کو توقع کے خلاف بلکہ بہت ہی زیادہ خلاف ''شکار'' مل گیا تھا جو اس کے خورجین سے کئی گنا زیادہ تھا ٹھیک اسی طرح پی ٹی آئی کو بھی اتنا شکار ملا کہ اب اسے سنبھالنے کے لیے اس کے پاس نہ تھیلے ہیں نہ برتن ہیں اور نہ لے جانے کا ذریعہ۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں صرف آئیں بائیں شائیں ہی ہانکی جا سکتی ہیں وہ ہانکی جارہی ہیں۔ اب تک کی کارکردگی صرف اچھے اچھے بیانوں تک محدود ہے، گاڑی شارٹ تو ہوئی ہے لیکن اسی جگہ پہیے گھوم رہے ہیں، انجن کی غراہٹ کافی بلند ہے پہیے بھی تیزی سے گھوم رہے ہیں لیکن ڈرائیور حیران ہے کہ ایکسیلریٹر دے کر سٹئرینگ کس طرف گھما دے۔ بات ''نئے پاکستان'' کی ہوئی تھی لیکن وہی پرانی اینٹیں ہی اوپر نیچے کی جارہی ہیں حسب معمول پشاور شہر کو بھی دلہن بنانے کی بات بھی ہوئی ہے جب کہ ابھی تک صرف ٹریفک تک میں کوئی اصلاح احوال نہیں ہوئی ہے۔
وزیروں کے اسکواڈ کے علاوہ جو نئی بات دیکھنے سننے میں آئی ہے وہ مشیروں اور معاونوں کا تقرر ہے، ابھی تک یہ تو معلوم نہیں ہو پایا کہ اگر محکمے مشیروں اور معاونین کے ذریعے چلائے جائیں گے تو وزیر صاحبان کس مرض کی دوا ہیں، اگر محکمے وزیر چلائیں گے تو یہ معاون اور مشیر لوگ کیا بیچیں گے اور کیا خریدیں گے اور اگر سب کے سب ہی اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے تو شاید وہی نتیجہ ہو جو ایک گھر میں ہانڈی کے ساتھ ہوا تھا۔ شوہر نے چارپائی پر لیٹے لیٹے دیکھا کہ اس کی بڑی بیوی آئی اور ہانڈی میں مٹھی بھر نمک ڈال کر چلی گئی پھر دوسری نے بھی آکر اتنا ہی نمک ڈالا وہ گئی تو اس کی ماں نے بھی وہی کیا اس پر وہ شخص اٹھا اور چولہے سے مٹھی بھر راکھ لے کر ہانڈی میں ڈال دی، عورتوں نے دیکھا تو پوچھا یہ کیا کیا تو بولا تم لوگوں نے ہانڈی کا ذائقہ بگاڑ دیا میں نے سوچا رنگ بھی بگاڑ دوں کیوں کہ کھانے کے لائق تو ویسے بھی نہیں رہی ہے۔