میاں صاحب کا ایک اور دھماکا

جھیل سیف الملوک کی مانند صاف وشفاف وہ جھیل جو قدرت نے پاکستان کے قیام کی صورت میں اس قوم کو عطاکی تھی ہم پاکستانیوں۔۔۔

Abdulqhasan@hotmail.com

ISLAMABAD:
جھیل سیف الملوک کی مانند صاف وشفاف وہ جھیل جو قدرت نے پاکستان کے قیام کی صورت میں اس قوم کو عطا کی تھی ہم پاکستانیوں نے گزشتہ ساٹھ برس تک اس میں اپنی بداعمالی اور ناشکری کا اتنا بڑا گند ڈالا ہے کہ اب اس کا تعفن پاکستان تو کیا دور کی دنیا تک پھیل گیا ہے اور وہ جھیل جسے آسمان نے اپنا رنگ دیا تھا اور جس کا رنگ آسمان کی طرح نیلگوں تھا اس کے پانی پر ہر رات آسمان سے چاند ستارے اترا کرتے تھے اور عالم خیال سے پریاں اپنے شہزادے سیف الملوک کے لیے پھڑپھڑاتی رہتی تھیں اور سیف الملوک کے پانیوں پر اپنے شہزادے کی تلاش میں بھٹکتی تھیں اب ان کی یہ جھیل قدرت کا یہ عطیہ ہم پاکستانیوں نے اتنا گندا کر دیا ہے کہ چاند تارے اور پریاں اس گم شدہ جنت کی تلاش میں سرگرداں آنسو بہاتی ہیں۔ پاکستان کے اس قدرتی تالاب کو یا تو حالات کے سپرد کر کے اسے رفتہ رفتہ نابود کر دینا تھا یا پھر کسی پاکستانی حکمران کی روح میں اس جھیل کا کوئی طلسم جاگ اٹھنا تھا جو جادو کی اس زندہ نگری کو پاکستان کا نام دے سکتا اس کے بدبودار پانیوں کو کسی بدرو میں ڈال کر اسے اپنے آنسوؤں سے نیا رنگ دے کر بھر سکتا اسے پاکستانی بنا سکتا۔ پاکستان کی نیلے پانیوں اور پریوں کی جھیل۔

یہ سب باتیں مجھے ایک طرف تو اپنے گرد وپیش میں پھیلی ہوئی سیاسی اخلاقی اور کاروباری زندگی کی بو سے یاد آئیں یا پھر اپنے بچوں کی اس جھیل کی تازہ سیر کی ہمت نے یاد دلائیں جو کل پرسوں ہی اس پرمشقت مگر زندگی بخش سفر سے لوٹے ہیں اور اپنے ملک کے بے مثال شمالی پہاڑوں کی رعنائی اور ان کے درمیان اس خاموش جھیل کے بے پناہ بلکہ ناقابل برداشت حسن کو یاد کر رہے ہیں اور خوش ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی نئی نسل کی آنکھ سے ان کے وطن عزیز کی یہ تصویر دیکھ کر معاً مجھے یہ خیال کیوں آیا کہ میرا پورا ملک کبھی سیف الملوک کی جھیل کی مانند تھا۔

ہمارے شمالی پہاڑوں میں نیلے پانیوں والی یہ جھیل ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تمہارا تو پورا ملک میرے اندر آباد اور شاد تھا تم نے خود ہی اسے برباد کیا اور اب تمہیں ہی اسے آباد کرنا ہے۔ خوش قسمتی کہ انھی دنوں اس جھیل کے گدلے پانی کو باہر نکلنے کا ایک راستہ دیا گیا ہے اور ناانصافیوں کے ایک زندہ سلسلے کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آمر پرویز مشرف اس جھیل کی ایک بڑی غلاظت تھی اسے نکالنے کی جرأت کی گئی ہے اور جب یہ راستے سے ہٹے گی تو پھر اس جھیل سے اس کا گندا پانی جس کو اس گند نے روک رکھا تھا باہر کا راستہ پائے گا۔

سیف الملوک کی جھیل ہمارے پاکستان کا ایک استعارہ اور علامت ہے۔ جب یہ صاف اور گند سے خالی ہو گی تو ہم باقی ماندہ پاکستانی اسے اپنے آنسوؤں سے بھر دیں گے اور راتوں کو چاند ستارے حیرت زدہ ہو کر پھر اس پانی پر اتریں گے اور آسمانی پریاں اپنے شہزادے سیف الملوک کو تلاش کریں گی۔


وجہ جو بھی ہے اور قیاس آرائی کچھ بھی کر لیں اس گند کو صاف کرنے کا راستہ میاں نواز شریف نے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اسے اس کی سیاسی سزا ملے گی یا جزا، وقت یہ فیصلہ کرے گا لیکن اس کا یہ اعزاز کوئی نہیں چھین سکے گا کہ اس نے اپنی اس ملکوتی جھیل کو پاک کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک زندہ آمر کو صحیح نشانہ بنایا ہے۔ یوں تو کون ہے جو اس گندگی میں اضافے کا ذمے دار نہیں ہے۔ خود میاں نواز شریف بھی اس گروہ میں شامل ہیں لیکن یوں سمجھیں کہ وہ اپنے کسی گناہ کا کفارہ ادا کر رہے ہیں اور ایک آمر کو پکڑ لیا ہے۔

یوں پوری قوم کو ممنون کر دیا ہے لیکن یہ کوئی غیر قوم تھی وہ خود اس قوم کے فرد ہیں انھوں نے اپنی ذات اور قوم کے لیے یہ سیاسی رسک لیا ہے۔ حیرت ہے کہ کچھ لوگ کسی نہ کسی بہانے اور کسی موشگافی سے پرویز مشرف کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں میں کچھ متعفن سیاست دان بھی ہیں اور کچھ سیاسی علماء بھی لیکن یہ آپریشن ہے اور اس میں جسم کے کسی دوسرے حصے کو تکلیف ہو سکتی ہے مگر سیاست کے ڈاکٹر کا یہ فیصلہ ہے کہ آپریشن ضروری ہے مریض کی زندگی کے لیے ضروری ہے ورنہ یہ مریض اب مزید صدمہ برداشت نہیں کر سکے گا۔

اگر ہمارا آج کا فوجی قائد ایسی کوئی حرکت کر دیتا تو پھر اس کے بعد وہ ہوا میں معلق ہو جاتا۔ پاؤں تلے سے اس کے ملک کی زمین نکل جاتی' بار بار کی کوشش کے باوجود کئی طعن وتشنیع کے باوجود ہمارا یہ جرنیل اپنے اصل مقام پر ڈٹا رہا یہی اس کا مورچہ تھا۔ مارشل لاؤں میں مزے لوٹنے کے عادی سیاست دانوں نے بہت کہا کہ آؤ دیر کس بات کی ہے جلدی کرو لوہا بہت ہی گرم ہے لیکن قدرت نے اس جرنیل کو حوصلہ دیا' صبر دیا' مطلق اقتدار کو چند قدم دور دیکھ کر بھی اس کی آنکھوں میں حرص کی چمک پیدا نہ ہوئی اور ملک کو بچا لیا گیا۔ اب اس بچے ہوئے ملک کو میاں نواز شریف اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سیاست دان نے جن لوگوں کو اپنی سیاسی آغوش میں نہیں لیا اور مایوس کیا ہے وہ بہرحال اس سے خوش نہیں ہوں گے اور اس کے خلاف انھی لوگوں کی آوازیں اٹھ رہی ہیں مگر سیاسی دنیا میں یہ ایک معمول ہے میاں صاحب اس کے باوجود کہ خود کوئی برگزیدہ شخصیت نہیں ہیں لیکن کام وہ کر رہے ہیں جو کسی کسی کے نصیب میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اس غلاظت کو دور کریں بلکہ احتساب کا سلسلہ بھی شروع کریں ،تازہ آزمائش سے نکل کر وہ اپنا دوسرا سفر شروع کریں اور اس ملک کی تاریخ میں ہی نہیں مسلمانوں کی تاریخ میں ایک اور ایٹمی دھماکا کر دیں۔

میاں صاحب نے پرویز مشرف جیسے بااثر شخص پر ہاتھ ڈالا ہے جو فوج کا سابق سربراہ بھی ہے اور بیرون ملک بھی اس کی وفاداریوں کے چرچے ہیں لیکن اس ملک کے عوام میاں صاحب کے ساتھ ہیں بشرطیکہ میاں صاحب کے اناڑی اور شوقیہ وزراء نے عوام کو ان کے ساتھ رہنے دیا۔ بہرکیف عوام کو میاں صاحب کا یہ دوسرا دھماکا مبارک ہو۔ یہ فیصلہ بعد میں ہو گا کہ کون سا دھماکا بڑا ہے۔
Load Next Story