واٹر بورڈ میں ہائیڈرنٹس کے نام پر بے قاعدگیوں کا انکشاف
ٹھیکیدار فی ٹینکر پانی بھرنے کے 178 روپے ایک ہزار گیلن کے حساب سے اداکرتا ہے
واٹربورڈ کے کمرشل نرخ کے مطابق ہائیڈرنٹس کا ٹھیکیدار فی ٹینکر پانی بھرنے کے 178 روپے ایک ہزار گیلن کے حساب سے فراہم کرتا ہے. فوٹو: فائل
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی ٹینکرسروس کی آمدنی میں ہر سال اضافے کے بجائے حیرت انگیز طور پر کمی واقع ہورہی ہے.
کراچی میں ٹینکر سروس سے پانی کی فراہمی میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے، باخبر ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کی ٹینکر سروس سے یومیہ بنیادوں پر10 ہزار واٹر ٹینکر ادارے کے مختلف ہائیڈرنٹس سے مختلف اوقات میں نکلتے ہیں، واٹربورڈ کے کمرشل نرخ کے مطابق ہائیڈرنٹس کا ٹھیکیدار فی ٹینکر پانی بھرنے کے 178 روپے ایک ہزار گیلن کے حساب سے فراہم کرتا ہے اس طرح واٹربورڈ کو روزانہ کم وبیش18 لاکھ روپے ملنے چاہئیں تاہم صورتحال قطعی طور پر مختلف ہے،ذرائع نے بتایا کہ 2012-13 میں ایک مہینے میں اس مد میں صرف 40 لاکھ روپے جمع ہورہے ہیں۔
جبکہ جاری صورتحال کے تحت کم وبیش 5 کروڑ روپے ماہانہ اس مد میں آنے چاہیںجو کہ سالانہ 60کروڑ روپے بنتے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال اوسطاً ماہانہ بنیادوں پر 55لاکھ روپے جمع ہوتے تھے، ٹینکر سروس کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث اس رقم میں اضافہ ہونا چاہیے تھا، واٹربورڈ میں کرپشن کا تناسب تیزی سے بڑھ رہا ہے لہٰذا سرکاری آمدنی تو کم ہوگئی تاہم افسران کے نذرانوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایم ڈی واٹربورڈ نے مارچ 2012 میں یہ اعلان کیا تھا کہ تمام ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر کیے جائیں گے تاہم ابھی تک ٹینڈر نہیں کرائے گئے ہیں اگر ان ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر کرالیے جائیں تو واٹربورڈ کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے تاہم کیونکہ ٹینڈرنگ سے افسران کی آمدنی کم ہوجائے گی لہٰذا واٹربورڈ کی انتظامیہ ٹینڈرنگ کرانے سے گریز کررہی ہے ،ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف تو ٹینڈرنگ نہیں کرائی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف تسلسل کے ساتھ قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر ہائیڈرنٹس کے اجازت نامے جاری کیے جارہے ہیں ۔
کراچی میں ٹینکر سروس سے پانی کی فراہمی میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے، باخبر ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کی ٹینکر سروس سے یومیہ بنیادوں پر10 ہزار واٹر ٹینکر ادارے کے مختلف ہائیڈرنٹس سے مختلف اوقات میں نکلتے ہیں، واٹربورڈ کے کمرشل نرخ کے مطابق ہائیڈرنٹس کا ٹھیکیدار فی ٹینکر پانی بھرنے کے 178 روپے ایک ہزار گیلن کے حساب سے فراہم کرتا ہے اس طرح واٹربورڈ کو روزانہ کم وبیش18 لاکھ روپے ملنے چاہئیں تاہم صورتحال قطعی طور پر مختلف ہے،ذرائع نے بتایا کہ 2012-13 میں ایک مہینے میں اس مد میں صرف 40 لاکھ روپے جمع ہورہے ہیں۔
جبکہ جاری صورتحال کے تحت کم وبیش 5 کروڑ روپے ماہانہ اس مد میں آنے چاہیںجو کہ سالانہ 60کروڑ روپے بنتے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال اوسطاً ماہانہ بنیادوں پر 55لاکھ روپے جمع ہوتے تھے، ٹینکر سروس کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث اس رقم میں اضافہ ہونا چاہیے تھا، واٹربورڈ میں کرپشن کا تناسب تیزی سے بڑھ رہا ہے لہٰذا سرکاری آمدنی تو کم ہوگئی تاہم افسران کے نذرانوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایم ڈی واٹربورڈ نے مارچ 2012 میں یہ اعلان کیا تھا کہ تمام ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر کیے جائیں گے تاہم ابھی تک ٹینڈر نہیں کرائے گئے ہیں اگر ان ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر کرالیے جائیں تو واٹربورڈ کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے تاہم کیونکہ ٹینڈرنگ سے افسران کی آمدنی کم ہوجائے گی لہٰذا واٹربورڈ کی انتظامیہ ٹینڈرنگ کرانے سے گریز کررہی ہے ،ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف تو ٹینڈرنگ نہیں کرائی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف تسلسل کے ساتھ قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر ہائیڈرنٹس کے اجازت نامے جاری کیے جارہے ہیں ۔