واجبات کی عدم ادائیگی واسا کے2بجلی کنکشن منقطع
حیسکو نے اپنے اعلان پر عمل شروع کر دیا، ادائیگی نہ کرنے پر باقی کنکشن بھی کاٹ دینے کا انتباہ
واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کے فراہمی آب کے 2کنکشن منقطع کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں لطیف آباد کے مختلف رہائشی یونٹس کے 3 لاکھ سے زائد شہری پانی سے محروم ہو گئے ہیں. فوٹو: رائٹرز/فائل
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے واجبات کی عدم ادائیگی پر اپنے اعلان کے عین مطابق نادہندگان کے کنکشن کاٹنے شروع کر دیے۔
بدھ کو واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کے فراہمی آب کے 2کنکشن منقطع کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں لطیف آباد کے مختلف رہائشی یونٹس کے 3 لاکھ سے زائد شہری پانی سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ حیسکو نے واجبات ادانہ کرنے کی صورت میں واسا کے مزید کنکشن منقطع کرنے کا عندیہ بھی ظاہرکیاہے۔ حیسکو ٹیم نے واجبات کی عدم ادائیگی پر لطیف آباد یونٹ نمبر 4 اور10 اور ملحقہ علاقوں کو پانی فراہم کرنے والے 2 پمپنگ اسٹیشنوں کی بجلی منقطع کر دی جس کے بعدمذکورہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بند ہوگئی۔
اس حوالے سے واسا کے ایم ڈی سلیم الدین کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اور حیسکو کے درمیان بجلی واجبات کے حوالے سے تنازع چل رہا ہے اس کے باوجود واسا پر واجبات کی مد میں ایک سال کے دوران سندھ حکومت نے حیسکو کو ساڑھے5سو ملین روپے کی ادائیگی کی ہے جبکہ بجلی کے کنکشن کاٹنے کیلیے حیسکو کو صبر سے کام لینا چاہیے۔
کیونکہ اگر فراہمی و نکاسی آب کا نظام بند ہو گیا تو شدید گرمی میں شہر بھر میںپانی کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ دوسری جانب رابطہ کرنے پر حیسکو کے ڈائریکٹر کمرشل محمود علی قائمخانی نے ایکسپریس کو بتایاکہ واجبات کے حوالے سے گزشتہ سال جون میں حکومت سندھ نے حیسکو کو 3 سو ملین روپے ادا کیے۔
جبکہ 3 ماہ قبل بھی صرف 2 سو ملین روپے جمع کرائے لیکن اب بھی حیسکو کے واسا پر مجموعی طور پر 3 ارب 46 کروڑ 30 لاکھ روپے (3463ملین) کے واجبات باقی ہیں۔ انھوںنے بتایاکہ واسا نے قانونی طور پر حیسکو سے 98 کنکشن حاصل کررکھے ہیں اوراسکا ماہانہ اوسط بل ایک سو سے ایک سو پچاس ملین روپے بنتا ہے لیکن ادائیگی ایک روپے کی نہیں کی جاتی۔ انھوں نے بتایاکہ ہم نے واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے پہلے واسا کو نوٹس جاری کیا تھا جس کے بعد ہم نے ابھی صرف دوکنکشن کاٹے ہیں لیکن اگر واجبات ادا نہیں کیے گیے تو دیگرکنکشن بھی منقطع کرنے پر مجبور ہو نگے۔
بدھ کو واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کے فراہمی آب کے 2کنکشن منقطع کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں لطیف آباد کے مختلف رہائشی یونٹس کے 3 لاکھ سے زائد شہری پانی سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ حیسکو نے واجبات ادانہ کرنے کی صورت میں واسا کے مزید کنکشن منقطع کرنے کا عندیہ بھی ظاہرکیاہے۔ حیسکو ٹیم نے واجبات کی عدم ادائیگی پر لطیف آباد یونٹ نمبر 4 اور10 اور ملحقہ علاقوں کو پانی فراہم کرنے والے 2 پمپنگ اسٹیشنوں کی بجلی منقطع کر دی جس کے بعدمذکورہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بند ہوگئی۔
اس حوالے سے واسا کے ایم ڈی سلیم الدین کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اور حیسکو کے درمیان بجلی واجبات کے حوالے سے تنازع چل رہا ہے اس کے باوجود واسا پر واجبات کی مد میں ایک سال کے دوران سندھ حکومت نے حیسکو کو ساڑھے5سو ملین روپے کی ادائیگی کی ہے جبکہ بجلی کے کنکشن کاٹنے کیلیے حیسکو کو صبر سے کام لینا چاہیے۔
کیونکہ اگر فراہمی و نکاسی آب کا نظام بند ہو گیا تو شدید گرمی میں شہر بھر میںپانی کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ دوسری جانب رابطہ کرنے پر حیسکو کے ڈائریکٹر کمرشل محمود علی قائمخانی نے ایکسپریس کو بتایاکہ واجبات کے حوالے سے گزشتہ سال جون میں حکومت سندھ نے حیسکو کو 3 سو ملین روپے ادا کیے۔
جبکہ 3 ماہ قبل بھی صرف 2 سو ملین روپے جمع کرائے لیکن اب بھی حیسکو کے واسا پر مجموعی طور پر 3 ارب 46 کروڑ 30 لاکھ روپے (3463ملین) کے واجبات باقی ہیں۔ انھوںنے بتایاکہ واسا نے قانونی طور پر حیسکو سے 98 کنکشن حاصل کررکھے ہیں اوراسکا ماہانہ اوسط بل ایک سو سے ایک سو پچاس ملین روپے بنتا ہے لیکن ادائیگی ایک روپے کی نہیں کی جاتی۔ انھوں نے بتایاکہ ہم نے واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے پہلے واسا کو نوٹس جاری کیا تھا جس کے بعد ہم نے ابھی صرف دوکنکشن کاٹے ہیں لیکن اگر واجبات ادا نہیں کیے گیے تو دیگرکنکشن بھی منقطع کرنے پر مجبور ہو نگے۔