آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور عوامی مفاد

آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارہ کو بھی کم کیا جائے۔

آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارہ کو بھی کم کیا جائے۔ فوٹو: فائل

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان تاحال کسی جامع پیکیج کے حوالے سے کوئی بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا البتہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پیکیج کے لیے ایف بی آر ریونیو اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی مذاکرات کے مزید دور بھی ہونگے۔ جس کے بعد آئی ایم ایف بیان جاری کرے گا اور مثبت سگنل کی صورت میں پاکستان کو قرض کی رقم کے بارے میں بتائے گا۔

اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف کی مذاکراتی ٹیم جو بنیادی مطالبے کر رہی ہیں ان میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ پر سب سے زیادہ زور دیا گیا تا کہ سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ حل ہو سکے۔ روپے کی قدر میں مزید کمی اور نئی ٹیکسیشن کے ذریعے ریونیو میں اضافہ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مختلف ایشوز پر اختلاف رائے برقرار ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے چین کی طرف سے ملنے والے حالیہ پیکیج کی تفصیل بھی مانگی ہے جس پر پاکستان نے تحفظات ظاہر کیے ہیں کیونکہ نئی حکومت اب مزید سخت فیصلے نہیں کر سکتی۔


آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارہ کو بھی کم کیا جائے نیز لگژری آئیٹمز پر ٹیکس مزید بڑھا کر ایک سو سے ڈیڑھ سو ارب روپے اضافی جمع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور اسی وجہ سے آئی ایم ایف بھی کڑی شرائط عائد کر رہا ہے۔

وزیراعظم پاکستان گزشتہ دنوں چین کے دورے پر گئے تھے، وہاں سے اطلاعات تو اچھی آئی ہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ ان اچھی اطلاعات کے باوجود پاکستان کی معاشی مشکلات کم نہیں ہوئی ہیں، وزیراعظم عمران کو متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی اسی تناظر میں کرنا پڑا ہے۔

سعودی عرب سمیت تمام دوست ممالک سے اچھی اطلاعات کے باوجود پاکستان کو مزید رقم کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی عالمی اور مقامی فنانشل ذمے داریاں پوری کرسکے۔حکومت کو سخت مالیاتی ڈسپلن قائم کرنا ہوگا، اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔ پارلمیٹرینز کو اس سلسلے میں اپنی تنخواہیں اور مراعات کو کم ازکم ایک دو برس کے لیے ختم کردینا چاہیے۔

آئی ایم ایف سے معاملات طے ہو گئے تو پھر بھی مہنگائی کا طوفان اٹھے گا۔ حکومت کو اس کی پیش بندی کرنی چاہیے۔ملک کے جاگیرداروں، گدی نشینوں، قبائلی سرداروں سے ان کے لائف اسٹائل کے حوالے سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ملک میں جو بڑے بڑے فلاحی ادارے چل رہے ہیں، ان کے حسابات کا آڈٹ کرایا جائے ۔ عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایسا کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔

 
Load Next Story