میکسیکو نے 3 ہزار ٹن پاکستانی چاول ضبط کرلیا
دعویٰ درست نکلا تو پاکستانی چاول کے برآمد کنندگان کو 13 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا
حکام وایکسپورٹرز لاعلم، میکسیکو کو اتنی بڑی مقدار میں چاول برآمد نہیں کرتے، جاوید غوری۔ فوٹو: فائل
پاکستانی چاول کی ایک بڑی کھیپ میکسکو کے قرنطینہ حکام نے ضبط کرلی ہے جس سے پاکستانی چاول کی برآمدات کو ایک بڑا دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق میکسکو کے کسٹم حکام نے پاکستان سے 3 ہزار ٹن چاول کی ایک کھیپ کو کھپڑا بیٹل (Trogoderma granarium) نامی کیڑے کی موجودگی کے سبب کلیئر کرنے سے انکار کرتے ہوئے تحویل میں لے لیا ہے اور 120 کنٹینرز پر مشتمل یہ کھیپ تلف کرنے یا پاکستان واپس بھجوانے پر غور کیا جارہا ہے۔ چاول کی کھیپ سے کیڑے برآمد ہونے پر کسٹم حکام نے پاکستان سے آنے والے ہر کنٹینرز کی تفصیلی ایگزامنیشن کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر پاکستانی ایکسپورٹرز اور سرکاری حکام نے میکسکو میں پاکستانی چاول کی بڑی کھیپ مسترد کیے جانے کی اطلاعات سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے ایسے کسی امکان کو رد کردیا ہے۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید غوری نے فوری طور پر اس طرح کی کسی اطلاع کی تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میکسکو کو اتنی بڑی مقدار میں چاول ایکسپورٹ نہیں ہوتا تاہم رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن تمام اراکین سے معلومات کرکے لائحمہ عمل اختیار کرے گی۔
ایکسپورٹرز کے مطابق پاکستان سے میکسکو کو محدود مقدار میں چاول برآمد کیا جاتا ہے اور پاکستان سے اتنی بڑی کھیپ میکسکو کو برآمد نہیں کی گئی۔ بعض ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ کھپڑا بیٹل کی برآمدگی کا مسئلہ پرانا ہے، یہ کیڑا چاول کا نہیں بلکہ باردانے کا کیڑا ہے جو پڑوسی ملک بھارت کی کنسائنمنٹ سے بھی برآمد ہوتا ہے۔ میکسکو کو نان باسمتی اری 6 چاول ایکسپورٹ کیا جاتا ہے جس کی قیمت 400 سے 450 ڈالر فی ٹن بتائی جاتی ہے۔ میکسکو کے حکام کا دعویٰ درست ہونے کی صورت میں پاکستانی چاول کے برآمد کنندگان کو 13 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کا سامنا ہوگا۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق میکسکو کے کسٹم حکام نے پاکستان سے 3 ہزار ٹن چاول کی ایک کھیپ کو کھپڑا بیٹل (Trogoderma granarium) نامی کیڑے کی موجودگی کے سبب کلیئر کرنے سے انکار کرتے ہوئے تحویل میں لے لیا ہے اور 120 کنٹینرز پر مشتمل یہ کھیپ تلف کرنے یا پاکستان واپس بھجوانے پر غور کیا جارہا ہے۔ چاول کی کھیپ سے کیڑے برآمد ہونے پر کسٹم حکام نے پاکستان سے آنے والے ہر کنٹینرز کی تفصیلی ایگزامنیشن کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر پاکستانی ایکسپورٹرز اور سرکاری حکام نے میکسکو میں پاکستانی چاول کی بڑی کھیپ مسترد کیے جانے کی اطلاعات سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے ایسے کسی امکان کو رد کردیا ہے۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید غوری نے فوری طور پر اس طرح کی کسی اطلاع کی تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میکسکو کو اتنی بڑی مقدار میں چاول ایکسپورٹ نہیں ہوتا تاہم رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن تمام اراکین سے معلومات کرکے لائحمہ عمل اختیار کرے گی۔
ایکسپورٹرز کے مطابق پاکستان سے میکسکو کو محدود مقدار میں چاول برآمد کیا جاتا ہے اور پاکستان سے اتنی بڑی کھیپ میکسکو کو برآمد نہیں کی گئی۔ بعض ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ کھپڑا بیٹل کی برآمدگی کا مسئلہ پرانا ہے، یہ کیڑا چاول کا نہیں بلکہ باردانے کا کیڑا ہے جو پڑوسی ملک بھارت کی کنسائنمنٹ سے بھی برآمد ہوتا ہے۔ میکسکو کو نان باسمتی اری 6 چاول ایکسپورٹ کیا جاتا ہے جس کی قیمت 400 سے 450 ڈالر فی ٹن بتائی جاتی ہے۔ میکسکو کے حکام کا دعویٰ درست ہونے کی صورت میں پاکستانی چاول کے برآمد کنندگان کو 13 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کا سامنا ہوگا۔