قائداعظم نے قرارداد پاکستان پر گاندھی کے اعتراضات کو رد کردیا تھا

قائداعظم اکیڈمی کے تحت 3 روزہ کانفرنس سے مقررین کا خطاب، 23 مقالے پڑھے گئے۔

قائداعظم اکیڈمی کے تحت 3 روزہ کانفرنس سے مقررین کا خطاب، 23 مقالے پڑھے گئے. فوٹو: وکی پیڈیا

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس سعیدالزماں صدیقی نے کہا ہے کہ قائداعظم ایک جدید جمہوری اسلامی ریاست کے خواہش مند تھے اور انھوں نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کو افراد کی حکمرانی پر ترجیح دی وہ قائداعظم اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ تین روزہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

ان کا کہناتھا کہ ارسطو نے بھی قانون کی حکمرانی کا ہی راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی تھی قائداعظم پر کانفرنس کے 7 اجلاس ہوئے جن میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے مندوبین نے قائداعظم کی شخصیت اور پاکستان کے قیام کے لیے ان کی جدوجہد پر 23 مقالے پڑھے جس کے بعد سوال و جواب کے اجلاس بھی ہوئے افتتاحی اجلاس میں قائداعظم پر گایا ہوا مشہور نغمہ ''یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران، اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان'' لڑکیوں نے کورس کی شکل میں گایا جس نے حاضرین کو بہت محظوظ کیا، اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر شہلا کاظمی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں قائد کی شخصیت اور منفرد اوصاف کو اجاگر کیا۔

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈاکٹر ریاض احمد نے گاندھی، جناح گفت و شنید 1944 کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ قائداعظم نے قرارداد پاکستان پر گاندھی کے تمام اعتراضات کو رد کردیا تھااور انھوں نے گاندھی کو اس کے جوابات بھی دیے تھے چنانچہ اس بارے میں کسی بحث کی اب ضرورت نہیں ہے اور کسی سے بھی ملک کی تعمیر میں یا ایسے بڑے کام میں کسی سہو کا ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، ڈاکٹر شہلا کاظمی نے قرارداد پاکستان 1940 پر اپنے مقالے میں کہا کہ قرارداد پاکستان کا مطالعہ اور اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے مسلم لیگ کے 1946 کی اسمبلی ارکان کے کنونشن کی قرارداد کے ساتھ پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔




انھوں نے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ 1940 کی قرارداد کے متن میں States کا لفظ محض ایک Type کی غلطی تھی اور کسی نے بھی ملک کی تعمیر میں یا ایسے بڑے کام میں کسی سہو کا ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اور قائداعظم نے خود ان اعتراضات کا تدارک کیا، گاندھی سے خط و خطابت کے دوران قائداعظم نے کہا تھا کہ قرارداد لاہور میںStates سے مراد پاکستان کی اکائیاں ہیں اور اس سے مراد صرف ایک ریاست کا قیام ہے، پروفیسر ڈاکٹر ایاز محمد رانا چیئرمین شعبہ سیاسیات ڈین فیکلٹی آف آرٹس بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان نے اپنے مقالے میں قائداعظم کے تعلیمی نظریہ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے لازمی پرائمری تعلیم پر بہت زور دیا تھا اور اردو کو ریاست کی زبان کہا تھا۔

یقیناً اردو کو زیادہ سے زیادہ فروغ ملنا چاہیے اور نا خواندگی کی شرح کو کم سے کم کرنا چاہیے، این ای ڈی یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر فرزانہ بلوچ نے اپنے مقالے میں قائداعظم کی شخصیت کو ایک طلسماتی شخصیت قرار دیا، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چائولہ، چیئرمین شعبہ جنرل ہسٹری ڈین فیکلٹی آف آرٹس پنجاب یونیورسٹی نے وزارتی مشن 1946 پر تحقیقی مقالہ پڑھا، پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام ڈائریکٹر پاکستان اسٹڈیز سینٹر پشاور یونیورسٹی نے قائداعظم کے14 نکات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ قیام پاکستان کی تاریخ میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

فرزانہ شکور نے اپنے مقالے میں قائداعظم کی قیادت کو طلسماتی کہا، پروفیسر ڈاکٹر منیر احمد گچکی ڈائریکٹر ایریا اسٹڈی سینٹر بلوچستان یونیورسٹی نے قائداعظم اور مسلم دنیا پر اپنا تحقیقی مقالہ فلسطین کے حوالے سے پڑھا، پاکستان میں قومی تعمیر کے حوالے سے ڈاکٹر شہلا کاظمی نے اپنے اختتامی تجزیے میں بتایا کہ پاکستان میں قومی ترقی اور تعمیر اس وقت ممکن ہے کہ ہم سب اپنے آپ کو ایک پاکستانی قوم کی حیثیت سے دیکھیں اور عمل کریں جس میں ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
Load Next Story