بد امنی سب سے بڑا مسئلہ قرار کراچی نہ رہا تو پاکستان بھی نہیں رہے گا سندھ اسمبلی میں تقاریر

دہشت گرد جب اور جس کو چاہتے ہیں، قتل کردیتے ہیں ، حکومت کو اب سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہونگے ، ارکان کے تاثرات۔

ایم کیو ایم پیسے لے، امن قائم کرکے دکھائے، منظور وسان، ایوان میں بجٹ پر بحث جاری ،جسٹس باقر پرحملے کیخلاف قرارداد منظور ۔ فوٹو : محمد ثاقب / ایکسپریس

معدنیات و معدنی ترقی اور اینٹی کرپشن کے صوبائی وزیر منظور حسین وسان نے کہا ہے کہ کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے سب کو حقیقت پسند ہونا پڑے گا اور واضح طور پر بتانا ہوگا کہ امن کون خراب کر رہا ہے؟

کراچی کو تباہ کرنے کی سازش بہت پرانی ہے، وہ بدھ کو سندھ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث کے دوران تقریر کر رہے تھے، بحث میں حصہ لینے والے زیادہ تر ارکان نے بھی کراچی کی بدامنی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گرد جب اور جس کو چاہتے ہیں، قتل کردیتے ہیں ، حکومت کو اب سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے ، منظور وسان نے کہا کہ کراچی کو تباہ کرنے کی سازش میں اندرونی اور بیرونی قوتیں ملوث ہیں، یہ سازش بہت پرانی ہے ،کراچی تباہ ہوا تو پاکستان تباہ ہوگا اور کراچی نہ رہا تو پاکستان بھی نہیں رہے گا۔

امن و امان قائم کرنے کے لیے سب کو حقیقت پسند ہونا پڑے گا اور یہ بتانا پڑے گا کہ کون امن خراب کررہا ہے، انھوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے جج پر حملہ قابل مذمت ہے، جج محفوظ نہیں ہیں تو پھر کیا محفوظ ہوگا، منظور وسان نے ایم کیو ایم کے رکن عبدالحسیب خان کی منگل کی کی تقریر کا حوالہ دیاجس میں انھوں نے کہا تھا کہ کراچی کے عوام کو48 ارب روپے میں سے 48 کروڑ روپے دے دیے جائیں تو امن قائم ہوجائے گا ، انھوں نے عبدالحسیب خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ48 کروڑ روپے لے لیں اور مجھے امن قائم کرکے دکھائیں ، کیا ان 48 کروڑ روپے سے لوگ اسلحہ خریدیں گے اور آپس میں لڑیں گے ؟ کیا اس سے انارکی پیدا نہیں ہوگی؟ ، آئندہ5 سال کے دوران مزید 2 لاکھ نوکریاں دیں گے۔




ایم کیو ایم کے رکن زبیر احمد خان نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں، پیپلز پارٹی کے سید اعجاز شاہ بخاری نے تجویز دی کہ امن و امان کے قیام کے لیے منتخب نمائندوں پر مشتمل علاقائی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، پی پی کے فقیر داد کھوسو نے کہا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں پولیس میں میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں،متحدہ کے معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے، جب تک سزاؤں کی شرح میں اضافہ نہیں ہوگا جرائم کم نہیں ہوں گے، ایم کیو ایم کے سلیم بندھانی نے کہا کہ سکھر کے لیے کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا گیا، اس پر اویس قادر شاہ نے کہا کہ گذشتہ 5 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے سکھر کو پہلی مرتبہ بڑے ترقیاتی منصوبے دیے ۔

متحدہ کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سندھ کے بجٹ میں شہری اور دیہی کی تفریق نمایاں ہے، فنڈز کی منصفانہ تقسیم نہیں کی گئی،انھوں نے کہا کہ سابقہ اسمبلی نے ایک نئے بلدیاتی نظام کو منظور کیا تھا، جس کی بعض لوگوں نے سندھ میں بڑی مخالفت کی تھی لیکن سندھ کے عوام نے انہی لوگوں کو انتخابات میں مسترد کردیا،اب سندھ اسمبلی کو چاہیے کہ وہ سندھ میں ایک ایسے بلدیاتی نظام کے لیے نیا ایکٹ منظور کرے جو سب کے لیے قابل قبول ہو ،بحث میں پیپلز پارٹی کے ارکان روبینہ قائم خانی، سائرہ شاہلیانی، ایشو مل، پرویز عزیز جونیجو، غلام مجتبیٰ اسران،

جام خان شورو، سید سردار علی شاہ، شاہینہ بلوچ، میر حیات تالپور ، ایم کیو ایم کے ارکان سمیتا افضل سید، شیخ عبداللہ، دیوان چند چاؤلہ، محمد راشد خلجی اور محمد کامران جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سید امیر حیدر شاہ شیرازی اور دیگر نے بھی حصہ لیا، سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کے قافلے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی،قرارداد میں اس واقعے کو دہشت گردی کا انتہائی غیر انسانی اور گھناؤنا اقدام قرار دیتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا، یہ قرارداد وزیر قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو، ایم کیو ایم کے رکن خالد بن ولایت اور مسلم لیگ (ن) کے رکن عرفان اللہ خان مروت نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی، بعدازاں اسپیکر نے اجلاس جمعرات کی صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردیا۔
Load Next Story