سلامتی کونسل شام میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں ناکام ہوگئی امریکا
شام میں 90 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، ناکامی ایسی اخلاقی اور اسٹریٹجک پستگی ہے جس پر تاریخ سختی سے نمٹے گی،سوزن رائس
شامی باغیوں کیلیے ہتھیار لے جانے والا بحری جہاز غرق، صدر اوباما نے سوزن رائس کو اپنی قومی سلامتی کی ٹیم میں شامل کرلیا. فوٹو : اے ایف پی
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے اپنے آخری خطاب میں شام کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی ناکامی پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے ایک 'داغ' قرار دیا ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما نے سوزن رائس کو اپنی قومی سلامتی کی ٹیم میں شامل کیا ہے۔ اس لیے وہ اقوام متحدہ میں سفارتکاری سے سبکدوش ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ میں اپنے آخری خطاب میں انھوں نے شام کے صدر پر دباؤ بڑھانے کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قراردادوں کو روس اور چین کی جانب سے ویٹو کرنے پرسخت نکتہ چینی کی۔ سوزن رائس نے اقوام متحدہ میں اپنی مدت کو مجموعی طور پر اہم قرار دیا۔ لیکن شام میں جاری خون ریزی روکنے پر موثر کردار ادا نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا 'مجھے خصوصاً اس بات پر افسوس ہے کہ سلامتی کونسل شام میں فیصلہ کْن کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
جہاں نوے ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔ سلامتی کونسل کی ناکامی ایسی اخلاقی اور اسٹریٹجک پستگی ہے جس پر تاریخ سختی سے نمٹے گی۔' لیکن اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی ناکامی کی ذمے داری امریکا کے سر نہیں ڈالی جا سکتی۔ 'میں نہیں سمجھتی کہ جب کونسل کی اکثریت پیش رفت کرنے اور آگے بڑھنے کیلیے تیار تھی تو کسی بھی صورت میں اسے کوئی امریکی پالیسی کی ناکامی قرار دے سکتا۔' واضح رہے کہ شام کے مسئلے پر چین اور روس نے 2011 میں ایک بار اور 2012 میں دو بار سلامتی کونسل میں ویٹو کرنے کا حق استعمال کرتے ہوئے شام مخالف قراردادوں کو روک دیا تھا۔
ادھر شامی باغیوں کے لیے ہتھیار لے جانے والا بحری جہاز بحر ہند میں ڈوب رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے ذریعے شامی باغیوں کے لیے ہتھیار لے جائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ بحری جہاز بھارت کی ریاست گوا کے ساحل سے 530 میل کے فاصلے پر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے گوا کے وزیر اعلی منوہر پریکار کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جہاز میں ہتھیاروں کی موجودگی اور یہ ہتھیار شامی باغیوں کے حوالے کئے جانے کے منصوبے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ وزیر کے مطابق ساحلی علاقوں کو خطرہ نہیں ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما نے سوزن رائس کو اپنی قومی سلامتی کی ٹیم میں شامل کیا ہے۔ اس لیے وہ اقوام متحدہ میں سفارتکاری سے سبکدوش ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ میں اپنے آخری خطاب میں انھوں نے شام کے صدر پر دباؤ بڑھانے کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قراردادوں کو روس اور چین کی جانب سے ویٹو کرنے پرسخت نکتہ چینی کی۔ سوزن رائس نے اقوام متحدہ میں اپنی مدت کو مجموعی طور پر اہم قرار دیا۔ لیکن شام میں جاری خون ریزی روکنے پر موثر کردار ادا نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا 'مجھے خصوصاً اس بات پر افسوس ہے کہ سلامتی کونسل شام میں فیصلہ کْن کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
جہاں نوے ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔ سلامتی کونسل کی ناکامی ایسی اخلاقی اور اسٹریٹجک پستگی ہے جس پر تاریخ سختی سے نمٹے گی۔' لیکن اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی ناکامی کی ذمے داری امریکا کے سر نہیں ڈالی جا سکتی۔ 'میں نہیں سمجھتی کہ جب کونسل کی اکثریت پیش رفت کرنے اور آگے بڑھنے کیلیے تیار تھی تو کسی بھی صورت میں اسے کوئی امریکی پالیسی کی ناکامی قرار دے سکتا۔' واضح رہے کہ شام کے مسئلے پر چین اور روس نے 2011 میں ایک بار اور 2012 میں دو بار سلامتی کونسل میں ویٹو کرنے کا حق استعمال کرتے ہوئے شام مخالف قراردادوں کو روک دیا تھا۔
ادھر شامی باغیوں کے لیے ہتھیار لے جانے والا بحری جہاز بحر ہند میں ڈوب رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے ذریعے شامی باغیوں کے لیے ہتھیار لے جائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ بحری جہاز بھارت کی ریاست گوا کے ساحل سے 530 میل کے فاصلے پر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے گوا کے وزیر اعلی منوہر پریکار کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جہاز میں ہتھیاروں کی موجودگی اور یہ ہتھیار شامی باغیوں کے حوالے کئے جانے کے منصوبے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ وزیر کے مطابق ساحلی علاقوں کو خطرہ نہیں ہے۔