فہمیدہ ریاض بنت حوا کے حقوق کی علمبردار
ترقی پسند تحریک سے وابستگی تاعمر رہی، حقوق نسواں کی ترجمان اور ان کے حقوق کی جدوجہد میں پیش پیش رہیں۔
ترقی پسند تحریک سے وابستگی تاعمر رہی، حقوق نسواں کی ترجمان اور ان کے حقوق کی جدوجہد میں پیش پیش رہیں۔ فوٹو: فائل
فہمیدہ ریاض، اردو زبان وادب کے دامن کو اپنی تخلیقات سے بھرنے کے بعد اس دار فانی سے کوچ کرگئیں، (انا للہ وانا الیہ راجعون)اہل علم وادب، ان کے پرستاروں اور زبان سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ خبر یقینا افسردہ کرنے والی ہے۔ ان کی محبوب ترین صنف سخن ''نظم'' رہی۔ علمی وادبی سطح پر ان کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں، وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ اور ایک انجمن تھیں ۔ ترقی پسند تحریک سے وابستگی تاعمر رہی، حقوق نسواں کی ترجمان اور ان کے حقوق کی جدوجہد میں پیش پیش رہیں۔
ایک بلندپایہ ادیبہ تھیں جو آمروں کو للکارنے کی جرات رندانہ بھی رکھتی تھیں ۔ انھوں نے ایک بھرپور فعال زندگی گزاری، فہمیدہ ریاض 1946 میں میرٹھ میں پیدا ہوئیں ۔خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آئیں، حیدرآباد میں سکونت اختیار کی ۔ فہمیدہ نے بچپن ہی میں سندھی اور اردو ادب سے روشنائی حاصل کی اور بعد میں انھوں نے فارسی بھی سیکھی۔ ریڈیو پاکستان میں بھی کام شروع کر دیا اور ان ہی دنوں ان کا پہلا مجموعہ کلام شائع ہوا۔ برطانیہ میں انھوں نے فلم میکنگ میں ڈگری حاصل کی اور بی بی سی ریڈیو کے ساتھ بھی کام کیا۔
اپنی پبلیکشنز ''آواز'' شروع کرنے سے پہلے کراچی کی ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بھی کام کیا۔ جنرل ضیاء الحق دور میں فہمیدہ اور ان کے شوہرکو جیل جانا پڑا مگر فہمیدہ اپنے بچوں کے ہمراہ بھارت چلی گئیں اور بے نظیر دور میں پاکستان واپس آئیں۔ انھیں نیشنل بک فاؤنڈیشن کا ایم۔ڈی تعینات کیا گیا۔
فہمیدہ ریاض نے زندگی میں جہاں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے وہیں 2007 میں اپنے جواں سال بیٹے کبیر کی موت کا صدمہ بھی سہا۔2000سے 2011تک فہمیدہ اردو ڈکشنری بورڈ کی ایم۔ڈی بھی رہیں انھوں نے مولانا روم کی قریباً 50نظموں کا فارسی سے اردو ترجمہ بھی کیا اور انھیں شمس تبریز کو انتساب کیا۔
ان کا پہلا مجموعہ 22برس کی عمر میں شائع ہوا۔ ان کی مشہور کتابوں اور نظموں میں ''پتھر کی زبان،خطِ مرموز ،گوداوری،کیا تم پورا چاند دیکھو گے،کراچی،گلابی کبوتر، بدن دریدہ،دھوپ،آدمی کی زندگی کھلے دریچے،حلقہ میری زنجیر کا،ادھورا آدمی، پاکستان،لٹریچر اور سوسائٹی،قافلے پرندوں کے یہ خانہ آب و گل شامل ہیں۔
فہمیدہ ریاض کوہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ہیمٹ ہیلمن، سندھ حکومت کی جانب سے شیخ ایاز ایوارڈ،حکومت پاکستان کی جانب سے پرائڈ آف پر فارمنس اور 2010میں ستارۂ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔ اردو زبان کے آسمان ادب پر چمکنے والا یہ روشن ستارہ ٹوٹ گیا، لیکن تاریخ میں امر ہوگیا ۔
ایک بلندپایہ ادیبہ تھیں جو آمروں کو للکارنے کی جرات رندانہ بھی رکھتی تھیں ۔ انھوں نے ایک بھرپور فعال زندگی گزاری، فہمیدہ ریاض 1946 میں میرٹھ میں پیدا ہوئیں ۔خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آئیں، حیدرآباد میں سکونت اختیار کی ۔ فہمیدہ نے بچپن ہی میں سندھی اور اردو ادب سے روشنائی حاصل کی اور بعد میں انھوں نے فارسی بھی سیکھی۔ ریڈیو پاکستان میں بھی کام شروع کر دیا اور ان ہی دنوں ان کا پہلا مجموعہ کلام شائع ہوا۔ برطانیہ میں انھوں نے فلم میکنگ میں ڈگری حاصل کی اور بی بی سی ریڈیو کے ساتھ بھی کام کیا۔
اپنی پبلیکشنز ''آواز'' شروع کرنے سے پہلے کراچی کی ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بھی کام کیا۔ جنرل ضیاء الحق دور میں فہمیدہ اور ان کے شوہرکو جیل جانا پڑا مگر فہمیدہ اپنے بچوں کے ہمراہ بھارت چلی گئیں اور بے نظیر دور میں پاکستان واپس آئیں۔ انھیں نیشنل بک فاؤنڈیشن کا ایم۔ڈی تعینات کیا گیا۔
فہمیدہ ریاض نے زندگی میں جہاں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے وہیں 2007 میں اپنے جواں سال بیٹے کبیر کی موت کا صدمہ بھی سہا۔2000سے 2011تک فہمیدہ اردو ڈکشنری بورڈ کی ایم۔ڈی بھی رہیں انھوں نے مولانا روم کی قریباً 50نظموں کا فارسی سے اردو ترجمہ بھی کیا اور انھیں شمس تبریز کو انتساب کیا۔
ان کا پہلا مجموعہ 22برس کی عمر میں شائع ہوا۔ ان کی مشہور کتابوں اور نظموں میں ''پتھر کی زبان،خطِ مرموز ،گوداوری،کیا تم پورا چاند دیکھو گے،کراچی،گلابی کبوتر، بدن دریدہ،دھوپ،آدمی کی زندگی کھلے دریچے،حلقہ میری زنجیر کا،ادھورا آدمی، پاکستان،لٹریچر اور سوسائٹی،قافلے پرندوں کے یہ خانہ آب و گل شامل ہیں۔
فہمیدہ ریاض کوہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ہیمٹ ہیلمن، سندھ حکومت کی جانب سے شیخ ایاز ایوارڈ،حکومت پاکستان کی جانب سے پرائڈ آف پر فارمنس اور 2010میں ستارۂ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔ اردو زبان کے آسمان ادب پر چمکنے والا یہ روشن ستارہ ٹوٹ گیا، لیکن تاریخ میں امر ہوگیا ۔