بچوں کا عالمی دن منایا گیا
جو بچے اسکولوں وغیرہ میں جاتے ہیں، ان کی ذہنی اور جسمانی تربیت بھی عصری تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی۔
جو بچے اسکولوں وغیرہ میں جاتے ہیں، ان کی ذہنی اور جسمانی تربیت بھی عصری تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی۔ فوٹو: فائل
LONDON:
چند روز قبل بچوں کا عالمی دن منایا گیا۔ اس موقعے پر سیاست دانوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے وعدوں سے روگردانی نہیں کریں گے۔
دریں اثناء بچوں کے عالمی دن کے موقعے پر مختلف روایتی سرگرمیاں بھی عمل میں لائی گئیں جن میں واک اور ریلیاں بھی شامل تھیں، جب کہ اس حوالے سے تقاریر اور خطابات بھی ہوئے۔ اس دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے حقوق کا اعلامیہ جاری کیا۔ اس پر پاکستان نے بھی دستخط ثبت کیے ہیں مگر ان پر عمل درآمد پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی جس کی ضرورت ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر والے کو بچہ تصور کیا جائے تاہم پاکستان کو بچوں کے مکمل حقوق کی بحالی کے لیے ابھی طویل سفر کرنا ہو گا کیونکہ یہاں بچوں کی بہت بڑی تعداد ابھی اسکول سے باہر ہے بلکہ وہ مختلف نوعیت کی مزدوریاں کرتے ہیں۔
2000ء کے ابتدا میں یونیسف نے ایک سروے کرایا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں 14سال سے کم عمر کے 80 لاکھ بچے اینٹیں بنانے کے علاوہ مختلف قسم کی جسمانی مشقتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ قالین سازی اور زراعت کے علاوہ مچھلیاں پکڑنے اور گھریلو صنعتوں میں مدد گار کے طور پر بھی چھوٹے بچوں سے کام لیا جاتا ہے۔
اندرون ملک ایک سروے کے مطابق مجموعی افراد ی قوت میں 7 فیصد بچے شامل ہیں اور چونکہ سخت قوانین موجود نہیں لہٰذا بچوں کی معصومیت سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بچوں کی بھاری اکثریت ابتدائی تعلیم سے ہی محروم نہیں ہے بلکہ ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے' بدقسمتی سے بچوں پر کام کرنے کی جگہوں پر ہی تشدد نہیں ہوتا بلکہ روایتی درس گاہوں میں بھی ان پر تشدد ہوتا ہے حتیٰ کہ والدین بھی اکثر اوقات معصوم بچوں پر تشدد کرتے ہیں' جو بچے اسکولوں وغیرہ میں جاتے ہیں، ان کی ذہنی اور جسمانی تربیت بھی عصری تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی' ہمارا تعلیمی نظام اورتعلیمی نصاب بچوں میں انتہا پسند خیالات کو پروان چڑھاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ چلنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔
حکومت کو بچوں کے عالمی دن پر جاری ہونے والے اعلامیے پر دستخط کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں رائج نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کو بھی درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
چند روز قبل بچوں کا عالمی دن منایا گیا۔ اس موقعے پر سیاست دانوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے وعدوں سے روگردانی نہیں کریں گے۔
دریں اثناء بچوں کے عالمی دن کے موقعے پر مختلف روایتی سرگرمیاں بھی عمل میں لائی گئیں جن میں واک اور ریلیاں بھی شامل تھیں، جب کہ اس حوالے سے تقاریر اور خطابات بھی ہوئے۔ اس دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے حقوق کا اعلامیہ جاری کیا۔ اس پر پاکستان نے بھی دستخط ثبت کیے ہیں مگر ان پر عمل درآمد پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی جس کی ضرورت ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر والے کو بچہ تصور کیا جائے تاہم پاکستان کو بچوں کے مکمل حقوق کی بحالی کے لیے ابھی طویل سفر کرنا ہو گا کیونکہ یہاں بچوں کی بہت بڑی تعداد ابھی اسکول سے باہر ہے بلکہ وہ مختلف نوعیت کی مزدوریاں کرتے ہیں۔
2000ء کے ابتدا میں یونیسف نے ایک سروے کرایا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں 14سال سے کم عمر کے 80 لاکھ بچے اینٹیں بنانے کے علاوہ مختلف قسم کی جسمانی مشقتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ قالین سازی اور زراعت کے علاوہ مچھلیاں پکڑنے اور گھریلو صنعتوں میں مدد گار کے طور پر بھی چھوٹے بچوں سے کام لیا جاتا ہے۔
اندرون ملک ایک سروے کے مطابق مجموعی افراد ی قوت میں 7 فیصد بچے شامل ہیں اور چونکہ سخت قوانین موجود نہیں لہٰذا بچوں کی معصومیت سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بچوں کی بھاری اکثریت ابتدائی تعلیم سے ہی محروم نہیں ہے بلکہ ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے' بدقسمتی سے بچوں پر کام کرنے کی جگہوں پر ہی تشدد نہیں ہوتا بلکہ روایتی درس گاہوں میں بھی ان پر تشدد ہوتا ہے حتیٰ کہ والدین بھی اکثر اوقات معصوم بچوں پر تشدد کرتے ہیں' جو بچے اسکولوں وغیرہ میں جاتے ہیں، ان کی ذہنی اور جسمانی تربیت بھی عصری تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی' ہمارا تعلیمی نظام اورتعلیمی نصاب بچوں میں انتہا پسند خیالات کو پروان چڑھاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ چلنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔
حکومت کو بچوں کے عالمی دن پر جاری ہونے والے اعلامیے پر دستخط کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں رائج نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کو بھی درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔