کراچی اور اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردی

سیکیورٹی میکنزم مکمل فالٹ فری ہونا ناگزیر ہے۔

سیکیورٹی میکنزم مکمل فالٹ فری ہونا ناگزیر ہے۔ فوٹو: اسکرین گریب

جمعہ کو کراچی اور خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر اورکزئی ایجنسی میںدہشتگردی کی دو الم ناک واقعات رونما ہوئے جن میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

پہلے واقعہ میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں صبح تین دہشتگرد چینی قونصل خانہ میں داخل ہونے کی کوشش میں ناکام ہوئے تو انھوں نے قونصل خانہ کے باہر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں 4 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد ہلاک کردیے اور ان کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور اسلحہ برآمد کرلیا، کارروائی میں 2 پولیس اہلکار شہید جب کہ ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی بھی ہوا جب کہ اورکزئی دھماکا میں 25 افراد جاں بحق ہوئے۔

ایک ہی دن میں دہشتگردی کے دو بڑے واقعات اس بات کا عندیہ ہے کہ ملکی سالمیت کے دشمن پاکستان کے بنیادی مفادات کو ٹارگٹ کرنے پر تل گئے ہیں اور نئی دہشتگردانہ لہر ان کے مذموم عزائم اور ہولناک سازشوں سے جڑی ہوئی ہے۔

چینی قونصل خانہ پر اگر دہشتگرد عمارت کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے تو بڑی تباہی مچ سکتی تھی تاہم پولیس اور رینجرز کی منظم کارروائی کے باعث دہشتگرد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے، تاہم لوئر اورکزئی اور کراچی میں دہشتگردی کی کارروائی چشم کشا ہے ، کراچی میں سیکیورٹی فورسز کی کمانڈو کارروائی سے چینی سفارتکاروں کے بروقت تحفظ کو یقینی بنایا گیا جب کہ دہشتگرد کیفر کردار کو پہنچ گئے۔

تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے میں آنے والی تبدیلیوں ، افغان جنگ کے مضمرات، سی پیک دشمنوں کے اضطراب انگیز رد عمل کے ادراک میں کسی غفلت کی کوئی گنجائش نہیں، چینی قونصلیٹ پر حملہ آوروں کا تعلق ایک بلوچ دہشت گرد تنظیم سے بتایا جاتا ہے جس نے قونصلیٹ پر حملہ کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے سی پیک کے خلاف اپنی برہمی اور مخاصمت کا اظہار کیا ہے، دوسری طرف اورکزئی ایجنسی میں بم دھماکا داخلی عناصر کی بے چینی اور افغان صورتحال کی سیکیورٹی ابتری کی غمازی کرتا ہے۔

ادھر لوگر کے افغان علاقے میں امریکی بمباری سے 20 افراد کی ہلاکت ایک بڑے طوفان کے نکتہ عروج کا پتا دیتی ہے، پاکستان کو خطے کی نئی اور ہولناک ڈائنامکس میں اپنے سیکیورٹی میکنزم کو مزید موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے، عالمی قوتوں میں مفادات کی جنگ نے خطے کو آتش فشاں بنادیا ہے جس میں حکومت کو ملکی سلامتی، قومی یکجہتی، کنٹرول لائن پر کشیدگی اور افغانستان میں طالبان کی عسکری فعالیت اور مسلسل یلغار کے تناظر میں قومی سلامتی اور داخلی امن و استحکام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے،مذکورہ دونوں حملے دشمنوں کی طرف سے ایک انتباہ ہیں۔


وزیراعظم عمران خان نے چینی قونصل خانے پر حملے کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پاکستان اور چین کے تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتے، وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے کے پیچھے موجود عناصر اور محرکات کو فوری بے نقاب کیاجانا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ پاک چین معاشی اور اسٹرٹیجک تعاون کے خلاف سازش ہے، لیکن اس طرح کے واقعات دونوں ملکوں کے تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتے ، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعدی کے ساتھ دہشت گرد حملہ ناکام بنایا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے چینی قونصل خانے پر حملے کا نوٹس لے کر ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی، واقعے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں چینی قونصلیٹ پر حملے کو دہشت گردوں کا بزدلانہ عمل قرار دیا۔واضح رہے کہ چینی قونصل خانہ سی ویو سے کچھ دور کلفٹن بلاک 4 میں واقع ہے، جہاں غیر ملکی قونصل خانوں سمیت ہائی پروفائل دفاتر واقع ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں پاک چین دوستی کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتی ہیں، انھوں نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور سیکیورٹی فورسز نے قونصل میں داخل ہونے والوں کا حملہ ناکام بنایا،ان کی کارکردگی قابل تحسین ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش میں ملوث قوتیں پاکستان میں امن اور ترقی نہیں چاہتیں مگر ہم نے ایسی قوتوں سے نمٹنے کے لیے فورس تیار کر رکھی ہے۔

ترجمان رینجرز کرنل فیصل اعوان نے بھی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملے کے وقت چوکی میں موجود اہلکاروں نے قونصلیٹ اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اطراف میں واقع دیگر سفارتخانوں کا بھی تحفظ کیا۔

امید کی جانی چاہیے کہ ملکی سالمیت اور داخلی استحکام ، امن و امان اور ترقی و خوشحالی کے سفر میں رخنہ ڈالنے والوں کے عزائم سے خبردار رہنا چاہیے اور سیکیورٹی میکنزم مکمل فالٹ فری ہونا ناگزیر ہے۔
Load Next Story