لیڈی ہیلتھ روکرزکو 4 ماہ کی تنخواہیں جاری کردی گئیں

ملک بھر میں ایک لاکھ30ہزارلیڈی ہیلتھ ورکرز ہیں جو قومی پروگرام میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دیتی ہیں.

متعدد بینک بند ہونے کی وجہ سے چیک کیش نہیں ہوسکے،لیڈی ہیلتھ ورکرز۔ فوٹو: فائل

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد کی ہدایت پر صوبے بھر کی تمام لیڈی ہیلتھ ورکرز کو چار ماہ کی رکی ہوئی تنخواہیں جاری کردی گئیں تاہم10فیصد لیڈی ہیلتھ ورکروں کا کہنا ہے کہ انھیں ہفتہ کو تنخواہوں کی ادائیگیاں نہیں کی جاسکیں، ملک بھر میںلیڈی ہیتھ ورکروںکی تنخواہیں گذشتہ چار ماہ سے ادا نہیں کی گئیں تھیں، وفاق کا کہنا تھا کہ18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتو ںکی ذمے داری ہے جبکہ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاق نے رقم جاری نہیں کی۔


واضح رہے کہ ملک بھر میں ایک لاکھ30ہزارلیڈی ہیلتھ ورکرز ہیں جو قومی پروگرام میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دیتی ہیں، متعدد لیڈی ہیلتھ ورکرز نے بتایا کہ انھیں حکومت نے چیک دیے تھے جوکہ ہفتہ کو متعدد بینک بند ہونے کی وجہ سے کیش نہیں ہوسکے جبکہ سپریم کورٹ نے ملازمین کو عید سے قبل اور ہفتہ کو بھی بینک کھول کر ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت کی ہے، لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی عہدیداروں نے بتایاکہ صوبے بھر کی90فیصد لیڈی ہیلتھ ورکرز کو تنخواہیں ادا کردی گئی ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story