اسپورٹس ماہر نفسیات کیسے کام کرے گا کپتان لاعلم
کبھی ساتھ سیشن نہیں کیا،اگرکسی کی خدمات لی گئیں توہی فائدہ بتا سکوں گا، سرفراز احمد
سیٹ ہونے کے بعد وکٹ گنوانے کی عادت سے پیچھا چھڑانا ہوگا،سرفراز احمد۔ فوٹو: فائل
قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اس حوالے سے لاعلم ہیں کہ اسپورٹس ماہر نفسیات کیسے کام کرے گا؟
ابوظبی ٹیسٹ میں شکست کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا تھا کہ دباؤ میں ہمت ہار جانا ٹیم کیلیے ایک مسئلہ ہے، حل تلاش کرنے کیلیے ہم اسپورٹس ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔
نیوزی لینڈ کیخلاف دبئی میں دوسرے ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس میں کپتان سرفراز احمد سے اس بارے میں بھی سوال ہوا، انھوں نے کہا کہ میں نے اسپورٹس ماہرنفسیات کے بارے میں سنا ضرور ہے لیکن کبھی کسی سے بات ہوئی نہ کام کرنے کا موقع ہی ملا،اگر کسی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تواس تجربے سے گزرنے کے بعد ہی کچھ بتا سکوں گا۔
سرفراز احمد نے تسلیم کیا کہ گزشتہ 10کے قریب میچز میں بیٹسمینوں کی کارکردگی میں تسلسل نہیں رہا،بعض اوقات پلیئرز40، 50یا 70رنز بنانے کے بعد بھی اہم موقع پر وکٹ گنوا دیتے ہیں،آسٹریلیا کیخلاف میچ کی ایک اننگز میں بھی سنچریاں بنیں لیکن دوسری میں بیٹسمین بڑا اسکور نہیں کرسکے،خاص طور پر چوتھی اننگز میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ایک سیٹ بیٹسمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ فتح کا مشن مکمل کرکے ہی میدان سے باہر آئے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں فتوحات کے ٹریک پر رہنا ہے تو ان مرحلوں میں ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دباؤ برداشت کرنے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔
ابوظبی ٹیسٹ میں شکست کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا تھا کہ دباؤ میں ہمت ہار جانا ٹیم کیلیے ایک مسئلہ ہے، حل تلاش کرنے کیلیے ہم اسپورٹس ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔
نیوزی لینڈ کیخلاف دبئی میں دوسرے ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس میں کپتان سرفراز احمد سے اس بارے میں بھی سوال ہوا، انھوں نے کہا کہ میں نے اسپورٹس ماہرنفسیات کے بارے میں سنا ضرور ہے لیکن کبھی کسی سے بات ہوئی نہ کام کرنے کا موقع ہی ملا،اگر کسی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تواس تجربے سے گزرنے کے بعد ہی کچھ بتا سکوں گا۔
سرفراز احمد نے تسلیم کیا کہ گزشتہ 10کے قریب میچز میں بیٹسمینوں کی کارکردگی میں تسلسل نہیں رہا،بعض اوقات پلیئرز40، 50یا 70رنز بنانے کے بعد بھی اہم موقع پر وکٹ گنوا دیتے ہیں،آسٹریلیا کیخلاف میچ کی ایک اننگز میں بھی سنچریاں بنیں لیکن دوسری میں بیٹسمین بڑا اسکور نہیں کرسکے،خاص طور پر چوتھی اننگز میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ایک سیٹ بیٹسمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ فتح کا مشن مکمل کرکے ہی میدان سے باہر آئے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں فتوحات کے ٹریک پر رہنا ہے تو ان مرحلوں میں ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دباؤ برداشت کرنے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔