کراچی کے الہ دین پارک سے غائب لڑکیاں ساہیوال سے بازیاب

ثنا اور نائلہ نے فرار ہونے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی، ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر

ثنا اور نائلہ نے فرار ہونے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی، ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر۔ فوٹو: فائل

کراچی پولیس نے الہ دین پارک سے پنجاب جانیوالی لڑکیوں کو ساہیوال سے بازیاب کرالیا۔

ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر کے مطابق چند روز قبل اندرون سندھ کے ایک اسکول کے طلبا کو اسٹڈی ٹور پر الہ دین پارک لایا گیا تھا جہاں سے 2 طالبات ثنا میمن اور نائلہ اپنی مرضی سے دیگر ساتھیوں سے علیحدہ ہوکر پارک سے چلی گئی تھیں ، پولیس نے والدین کی مدعیت میں اغوا کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی اور ٹیکنیکل سپورٹ کے ذریعے دونوں لڑکیوں کی لوکیشن حاصل کی جوکہ پنجاب کی آئی تھی۔


انھوں نے مزید کہا کہ ثنا اور نائلہ نے فرار ہونے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی، پہلے طبیعت خرابی کا بہانہ بنایا اور کچھ دیر بعد پارک سے باہر چلی گئیں ، دونوں نے پہلے ایک رکشا روکا لیکن اس سے بات نہ بنی تو ایک ہائی روف گاڑی کے ڈرائیور کو لانڈھی جانے کا کہا ، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ایک لڑکی نے مسلسل موبائل فون اپنے کان سے لگایا ہوا ہے جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ فون پر کسی سے ہدایات لے رہی تھی ۔

غلام اظفر مہیسر کا مزید کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کا دوسرا ثبوت یہ تھا کہ ایک لڑکی نے کراچی آنے سے چند دن قبل ہی اپنا موبائل فون بند کرکے والدہ کا فون استعمال کرنا شروع کردیا تھا جبکہ فرار کے بعد وہ فون بھی بند کردیا گیا۔

پولیس پارٹی خانیوال پہنچی جہاں تفتیش میں معلوم ہوا کہ لڑکیاں ساہیوال پہنچ چکی ہیں جس کے بعد دونوں لڑکیوں کو ساہیوال سے بحفاظت بازیاب کرلیا گیا، ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا تھا ک دونوں لڑکیوں کو ساہیوال میں دارالامان میں رکھا گیا ہے ، انھیں آج (ہفتہ کو) عدالت میں پیش کیا جائے گا اور قانونی اجازت نامہ حاصل کرکے کراچی منتقل کیا جائے گا۔
Load Next Story