ووٹ فکسنگ فیکا نے آئی سی سی ایتھک آفیسر کا در کھٹکھٹا دیا
کرکٹ کمیٹی میں سیواراما کے انتخاب پر تحفظات نظرانداز کر دیے گئے، پال مارش
کرکٹ کمیٹی میں سیواراما کے انتخاب پر تحفظات نظرانداز کر دیے گئے، پال مارش فوٹو: رائٹرز/فائل
فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن (فیکا) نے 'ووٹ فکسنگ' پر آئی سی سی ایتھک آفیسر کا در کھٹکھٹا دیا۔
پال مارش کا کہنا ہے کہ گورننگ کونسل نے کرکٹ کمیٹی میں لکشمن سیواراما کرشنن کے انتخاب پر ہمارے تحفظات پر کوئی ایکشن نہیں لیا، 6 ہفتے انتظار کے بعد ہمیں خود ہی آگے بڑھنا پڑگیا، ہمارے پاس دھاندلی کے واضح شواہد موجود ہیں۔ ادھر6 ممالک کے پلیئرز نے فیکا پر اعتماد کا اظہار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق کچھ عرصے قبل آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی میں موجودہ کھلاڑیوں کے نمائندے کی نشست پر ہونے والی ووٹنگ میں متنازع طور پر بھارت کے سابق اسپنر سیوا راما کرشنن نے فیکا کے سابق چیف ایگزیکٹیو ٹم مے کو شکست دی تھی، اس پر پلیئرز کی تنظیم نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے ووٹ فکسنگ کا نام دے دیا تھا۔
فیکا کا اعتراض ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ میں ممبر بورڈز نے اپنے کپتانوں پر دباؤ ڈال کر انھیں بھارتی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کیا۔ فیکا نے اس معاملے کی ایتھک کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جو پورا نہیں کیا گیا،اب کرکٹرز باڈی نے خود ہی معاملہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلیے آئی سی سی ایتھک آفیسر کو بھجوانے کااعلان کردیا۔ اس بارے میں ایگزیکٹیو چیئرمین پال مارش نے اپنے بیان میں کہا کہ فیکا نے پوری کوشش کی کہ آئی سی سی خود ہی یہ معاملہ ایتھک کمیٹی کو بھجوائے مگر 6 ہفتوں تک جب کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو ہمیں آگے بڑھنا پڑا، ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ کپتانوں کو ٹم مے کے مخالف سیواراما کرشنن کو ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا، ہم یہ ایتھک آفیسر کو پیش کریں گے۔
یہ شواہد کافی مضبوط اور ہمیں یقین ہے کہ ان کے تحت کارروائی کی جائے گی، ہمارا یہ ماننا ہے کہ آئی سی سی کو اپنے بنائے ہوئے ایتھک کوڈ کے تحت کام کرنا چاہیے مگر اس نے معاملہ دبانا چاہا جو کرکٹ میں ناقص گورننس کی ایک اور مثال ہے۔
دریں اثنا فیکا نے اپنے 6 ممبر ممالک کا اعلان کردیا جس میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں، ان ممالک کی پلیئرز باڈی نے چیمپئنز ٹرافی کے دوران ایک بیان پر دستخط کیے جس میں فیکا کو مشترکہ طور پر نمائندہ باڈی قرار دیا گیا، یہ اسٹیٹمنٹ آئی سی سی کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔
پال مارش کا کہنا ہے کہ گورننگ کونسل نے کرکٹ کمیٹی میں لکشمن سیواراما کرشنن کے انتخاب پر ہمارے تحفظات پر کوئی ایکشن نہیں لیا، 6 ہفتے انتظار کے بعد ہمیں خود ہی آگے بڑھنا پڑگیا، ہمارے پاس دھاندلی کے واضح شواہد موجود ہیں۔ ادھر6 ممالک کے پلیئرز نے فیکا پر اعتماد کا اظہار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق کچھ عرصے قبل آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی میں موجودہ کھلاڑیوں کے نمائندے کی نشست پر ہونے والی ووٹنگ میں متنازع طور پر بھارت کے سابق اسپنر سیوا راما کرشنن نے فیکا کے سابق چیف ایگزیکٹیو ٹم مے کو شکست دی تھی، اس پر پلیئرز کی تنظیم نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے ووٹ فکسنگ کا نام دے دیا تھا۔
فیکا کا اعتراض ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ میں ممبر بورڈز نے اپنے کپتانوں پر دباؤ ڈال کر انھیں بھارتی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کیا۔ فیکا نے اس معاملے کی ایتھک کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جو پورا نہیں کیا گیا،اب کرکٹرز باڈی نے خود ہی معاملہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلیے آئی سی سی ایتھک آفیسر کو بھجوانے کااعلان کردیا۔ اس بارے میں ایگزیکٹیو چیئرمین پال مارش نے اپنے بیان میں کہا کہ فیکا نے پوری کوشش کی کہ آئی سی سی خود ہی یہ معاملہ ایتھک کمیٹی کو بھجوائے مگر 6 ہفتوں تک جب کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو ہمیں آگے بڑھنا پڑا، ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ کپتانوں کو ٹم مے کے مخالف سیواراما کرشنن کو ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا، ہم یہ ایتھک آفیسر کو پیش کریں گے۔
یہ شواہد کافی مضبوط اور ہمیں یقین ہے کہ ان کے تحت کارروائی کی جائے گی، ہمارا یہ ماننا ہے کہ آئی سی سی کو اپنے بنائے ہوئے ایتھک کوڈ کے تحت کام کرنا چاہیے مگر اس نے معاملہ دبانا چاہا جو کرکٹ میں ناقص گورننس کی ایک اور مثال ہے۔
دریں اثنا فیکا نے اپنے 6 ممبر ممالک کا اعلان کردیا جس میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں، ان ممالک کی پلیئرز باڈی نے چیمپئنز ٹرافی کے دوران ایک بیان پر دستخط کیے جس میں فیکا کو مشترکہ طور پر نمائندہ باڈی قرار دیا گیا، یہ اسٹیٹمنٹ آئی سی سی کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔