صرافہ بازاروں سے نکلنے والی گرد اور مٹی بھی سونا اگلنے لگی

زیورات کی تیاری کے دوران سونے کے باریک ذرات گرد اورمٹی میں ملکر گلیوں تک پہنچتے ہیں

صرافہ بازار میں کیچڑ تھیلیوں میں بھری جارہی ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی کے صرافہ بازاروں میں بکھری مٹی بھی سونا اگلتی ہے۔

صرافہ بازاروں میں بکھری مٹی کی خریدوفروخت اور مٹی سے سونا نکالنے کا کام منظم انداز میں ہورہا ہے، سونے کی قیمت میں حالیہ کمی کے بعد بازاروں سے مٹی جمع کرکے سونا نکالنے والے محنت کشوں کو بھی آمدن میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے،شہر کے تمام صرافہ بازاروں میں گلیوں سڑکوں اور کارخانوں کی مٹی سے سونا نکالاجاتا ہے،سیکڑوں کارخانیں ہونے کی وجہ صدر کے صرافہ بازار کو مرکزی اہمیت حاصل ہے جہاں200 سے زائد محنت کش صبح شام مٹی جمع کرکے میں مصروف ہیں،سونے کے زیورات کی تیاری کے دوران باریک ذرات کی شکل میں سونا گرد اور مٹی کی شکل میں صرافہ بازاروں کی گلیوں تک پہنچ جاتا ہے۔




کارخانوں کے راستوں کی دھول مٹی بھی سونے سے کم نہیں اسی لیے سونا تلاش کرنے والے مزدور دن کے مختلف اوقات میں یہ مٹی جمع کرکے اس سے سونا نکالتے ہیں، سونا نکالنے کے لیے مٹی کو پانی سے دھویا جاتا ہے مٹی میں سونے کے ساتھ چاندی، تانبا اور دیگر دھاتیں بھی شامل ہوتی ہیں مٹی کو دھونے کے بعد اوپر کی تہہ ہٹادی جاتی ہے۔

جبکہ وزن میں زیادہ ہونے کی وجہ سے سونے سمیت دیگر دھاتیں مٹی کی نچلی تہہ میں جم جاتی ہیں اس مٹی کو باریک جالیوں سے چھانا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مختلف دھاتوں کے انتہائی باریک ذرات حاصل ہوتے ہیں اس مٹی پر تیزاب ڈالا جاتا ہے جس سے چاندی تانبہ اور دیگر دھاتیں جل کر ضایع ہوجاتی ہیں جبکہ سونا رہ جاتا ہے سونے کے ان ذرات کو گلایا جاتا ہے اس طرح خالص سونا حاصل ہوتا ہے ۔
Load Next Story