خفیہ ایجنسیاں ایک دوسرے کونیچا دکھانے میں لگی ہیںرانا تنویر
دہشتگردی پرایک ماہ میں اپنا موقف واضح کردینگے، لیگی رہنما کی لائیو ود طلعت میں گفتگو
دہشتگردی پرایک ماہ میں اپنا موقف واضح کردینگے، لیگی رہنما کی لائیو ود طلعت میں گفتگو. فوٹو : فائل
KARACHI:
تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا ہے کہ کچھ طاقتیں پاکستان میں جمہوریت کو پروان چڑھنے نہیں دینا چاہتیں۔
ابھی حکومت سنبھالے چند ہی روز ہوئے ہیں اور دہشت گردی میں شدت آگئی ہے۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی موجود ہے اور ہم نے وفاق سے مشاورت کی بات بھی کی ہے۔ حکومت انٹیلی جنس ایجنسیوں میں رابطہ کے لیے فوری طور پر کمیٹی بنائے، اس وقت ہرایجنسی کے پاس دہشت گردوں کے بارے میں مختلف ڈیٹا ہے، انسٹی ٹیوشنز موجود ہیں لیکن کوارڈینشن نہیں ہے، پورا اسٹیٹ اسٹرکچردوبارہ نہیں بنا سکتے، دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی بنانے کی کوئی بھی ذمے داری نہیں لے رہا۔ ن لیگ کے رہنما رانا تنویر حسین نے کہا کہ ابھی حکومت سنبھالے زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن عوام فوری طورپر نتائج چاہتے ہیں، دہشت گردی 12،13 سال پرانا مسئلہ ہے جو فوری طورپر حل نہیں ہوسکتا۔
بہت جلد ایک میٹنگ بلانے والے ہیں جن میں دوسری جماعتوں کے لوگ بھی شامل ہوں گے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگی ہوئی ہیں، حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو بہت سی چیزوں کا پتہ نہیں چلتا لیکن جب آپ حکومت میں آتے ہیں تو پھر حقائق کا اندازہ ہوتا ہے۔ دہشتگردی پر ایک ماہ میں اپنا موقف واضح کردیں گے، باتیں کرنا بہت آسان اور ان پر عمل کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ تجزیہ کار فہد حسین نے کہاکہ حکومت کو مشاورت نہیں رہنمائی کرنی چاہیے، عوام نے ن لیگ کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، تمام سیاسی جماعتیں بھی مانتی ہیں تو اب کس سے مشاورت کرنی ہے، اب واضح پالیسی کا اعلان کرنا چاہئے۔ تمام سیاستدانوں کا دہشت گردی پراتفاق رائے نہیں ہوسکتا، اگر ن لیگ یہ کہتی ہے کہ ہم مشاورت کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ دہشت گردی سیاستدانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں کیونکہ یہ بہت بڑا کام ہے۔
تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا ہے کہ کچھ طاقتیں پاکستان میں جمہوریت کو پروان چڑھنے نہیں دینا چاہتیں۔
ابھی حکومت سنبھالے چند ہی روز ہوئے ہیں اور دہشت گردی میں شدت آگئی ہے۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی موجود ہے اور ہم نے وفاق سے مشاورت کی بات بھی کی ہے۔ حکومت انٹیلی جنس ایجنسیوں میں رابطہ کے لیے فوری طور پر کمیٹی بنائے، اس وقت ہرایجنسی کے پاس دہشت گردوں کے بارے میں مختلف ڈیٹا ہے، انسٹی ٹیوشنز موجود ہیں لیکن کوارڈینشن نہیں ہے، پورا اسٹیٹ اسٹرکچردوبارہ نہیں بنا سکتے، دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی بنانے کی کوئی بھی ذمے داری نہیں لے رہا۔ ن لیگ کے رہنما رانا تنویر حسین نے کہا کہ ابھی حکومت سنبھالے زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن عوام فوری طورپر نتائج چاہتے ہیں، دہشت گردی 12،13 سال پرانا مسئلہ ہے جو فوری طورپر حل نہیں ہوسکتا۔
بہت جلد ایک میٹنگ بلانے والے ہیں جن میں دوسری جماعتوں کے لوگ بھی شامل ہوں گے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگی ہوئی ہیں، حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو بہت سی چیزوں کا پتہ نہیں چلتا لیکن جب آپ حکومت میں آتے ہیں تو پھر حقائق کا اندازہ ہوتا ہے۔ دہشتگردی پر ایک ماہ میں اپنا موقف واضح کردیں گے، باتیں کرنا بہت آسان اور ان پر عمل کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ تجزیہ کار فہد حسین نے کہاکہ حکومت کو مشاورت نہیں رہنمائی کرنی چاہیے، عوام نے ن لیگ کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، تمام سیاسی جماعتیں بھی مانتی ہیں تو اب کس سے مشاورت کرنی ہے، اب واضح پالیسی کا اعلان کرنا چاہئے۔ تمام سیاستدانوں کا دہشت گردی پراتفاق رائے نہیں ہوسکتا، اگر ن لیگ یہ کہتی ہے کہ ہم مشاورت کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ دہشت گردی سیاستدانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں کیونکہ یہ بہت بڑا کام ہے۔