بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصولیاں درست قرار

اگست 2012سے نومبر2012 تک روکی گئی وصولی کی جا سکے گی،انٹراکورٹ اپیل پراسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کافیصلہ

اگست 2012سے نومبر2012 تک روکی گئی وصولی کی جا سکے گی،انٹراکورٹ اپیل پراسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کافیصلہ فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد انورکاسی اور جسٹس نور الحق این قریشی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصولیوں کیخلاف سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ہے اور وصولیوںکو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ استعمال شدہ فیول کی قیمت میں رد و بدل کے باعث سرچارج میں اضافہ یا کمی کی جا سکتی ہے۔

24 اکتوبر 2012ء کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے نہ صرف ادا شدہ یونٹوں پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصولیوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا بلکہ تقسیم کارکمپنیوںکو حاصل کی گئی وصولیاں صارفین کو واپس کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیخلاف عام صارفین اور صنعتکاروں جن کی تعداد سات سو تھی انھوں نے پرانے بلوں پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصولیوں کو چیلنج کیا تھا۔




فیصلے میںکہا گیا ہے کہ بعض اہم پہلو نظروں سے اوجھل ہونے کی بناء پر سنگل بینچ کا فیصلہ درست نہیں۔ فیصلے میں بجلی چوری اورکرپشن روکنے کیلیے خصوصی اقدامات کرنے اور کوتاہی کے مرتکب تقسیم کارکمپنیوں کے متعلقہ افسران کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔آئی این پی کے مطابق فیصلے کے بعد اگست 2012سے نومبر2012ء تک روکی گئی بجلی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصولی کی جاسکے گی۔
Load Next Story