نئی حکومت کے قیام کے بعد دہشتگردی کی 9بڑی وارداتیں

نانگا پربت پر سیاحوں کاقتل،بولان میڈیکل اسپتال اورسانحہ زیارت جیسے بڑے واقعات ہوئے

نانگا پربت پر سیاحوں کاقتل،بولان میڈیکل اسپتال اورسانحہ زیارت جیسے بڑے واقعات ہوئے فوٹو: ایکسپریس

KARACHI:
11مئی کے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی حکومت کوپہلے ہی مہینے دہشت گردی کی9بڑی وارداتوں نے چکراکے رکھ دیا۔

ملک کے مختلف حصوں میں ہونیوالی دہشتگردی کی کارروائیوں میں 104 افرادجاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔جمعرات کو میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے پہلے ہی ماہ دہشت گردی کی نو بڑی کارروائیوں میں دہشت گردوں نے حکومت کی توجہ عوامی مسائل سے ہٹانے کی کوششیں ہیں،نئی حکومت کے قیام کے بعد3جون کوخیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن فریدخان کوہنگو میں ڈرائیور سمیت قتل کردیاگیا،15جون کو کوئٹہ میں ویمن یونیورسٹی کی بس اوربولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال پر دھماکے اور زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ پر حملے جیسے بڑے سانحات میں27 افراد جاںبحق ہوئے ۔18جون کو مردان کے علاقے شیرگڑھ میں جنازے پرخود کش حملے کے نتیجے میں رکن صوبائی اسمبلی عمران خان مہمندسمیت 35 افراد جاںبحق ہوئے۔




21جون کو کراچی میں ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی ساجدقریشی کو بیٹے سمیت قتل کردیاگیا جبکہ21 جون کوہی پشاور کی مسجد پرخود کش حملے میں 15افراد جاںبحق ہوئے۔ 23جون کو نانگا پربت میں ہونیوالے عظیم سانحے میں دوست ملک چین کے سیاحوں سمیت 10غیر ملکی سیاحوں اورایک مقامی شخص کو دہشت گردی کی سفاکانہ کارروائی میں قتل کردیاگیا۔24جون کو پشاورمیں ڈی ایس پی ٹریفک امان اللہ کوڈرائیورسمیت قتل کردیاگیا۔ 26جون کو کراچی میں ایک پھر جسٹس مقبول باقرکے قافلے پرحملہ کرکے 2رینجرز اہلکاروں سمیت 9افراد کوجاں بحق کردیاگیا ۔
Load Next Story