شمالی اور جنوبی کوریا نئی منزل کی طرف پیش رفت
شمالی اور جنوبی کوریا غیرمعمولی انداز میں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں
شمالی اور جنوبی کوریا غیرمعمولی انداز میں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔فوٹو: فائل
میڈیا کی اطلاع کے مطابق جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے ساتھ ٹرین رابطہ بحال کرنے کے لیے اپنی عائد پابندیوں میں چھوٹ دی ہے۔ اس طرح جنوبی کوریا شمالی کوریا تک ایندھن اور متعدد طرح کی مصنوعات پہنچا سکے گا اور اپنی گاڑیاں بھی وہاں ٹیسٹ کر سکے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ کے حوالے سے ایک تقریب رواں برس کے اختتام پر منعقد کی جائے گی۔
تاہم شمالی کوریا پر عائد امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس سلسلے میں زیادہ پیش رفت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ادھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا پر امریکی پابندیوں کے باعث اس منصوبے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں تاہم جنوبی کوریا کے امریکا کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے کے باعث منصوبہ قابل عمل لگتا ہے۔اگر منصوبہ مکمل ہوجاتا ہے تو دونوں ممالک کے لاکھوں افراد مستفید ہوںگے۔ امریکا اور شمالی کوریا کے مابین تنازعے اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود شمالی اور جنوبی کوریا غیرمعمولی انداز میں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں شمالی اور جنوبی کوریا کے صدور نے سرحد پر نومینز لینڈ پر ملاقات بھی کی تھی جو ایک بریک تھرو تھا۔ اب اگر اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر پابندیاں نرم کی ہیں تو یہ بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان پابندیوں کے نرم ہونے سے اگر دونوں ملکوں کے درمیان ٹرین رابطوں کی بحالی ہو جاتی ہے تو یہ بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد جہاں شمالی اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے' وہاں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کی بھی کوشش کی ہے' شمالی کوریا کی لیڈرشپ کے طرز عمل میں سختی کم ہوئی ہے۔
شاید اسی کی وجہ ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ویسے بھی آج کی دنیا باہمی تعلقات میں اقتصادیات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ اب معاشی مفادات کو سامنے رکھ کر عالمی صف بندی ہو رہی ہے۔ خانہ جنگی کا شکار براعظم افریقہ بتدریج امن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کینیا' ایتھوپیا' اریٹیریا' یوگنڈا اور گھانا نئی اقتصادی منڈی بن رہے ہیں اور یہ ملک اپنے باہمی تنازعات ختم کر چکے ہیں۔ نائجیریا اور سینگال تیزی ترقی کررہے ہیں۔
ویتنام ،کمبوڈیا اور لاوس بھی ماضی بھلا کر ترقی کے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور آج یہ تینوں ملک سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش بن چکے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کاروباری سرگرمیاں ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ اسپین کے وزیراعظم کیوبا کا دورہ کر چکے ہیں۔ سلطنت عمان اور متحدہ عرب امارات اسرائیل کے قریب ہو رہے ہیں' اس تناظر میں دیکھا جائے تو شمالی اور جنوبی کوریا آنے والے دنوں میں ایک بار پھر متحدہ کوریا کی شکل اختیار کر سکتے ہیں' جیسے مشرقی اور مغربی جرمنی متحد ہوئے ہیں۔
تاہم شمالی کوریا پر عائد امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس سلسلے میں زیادہ پیش رفت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ادھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا پر امریکی پابندیوں کے باعث اس منصوبے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں تاہم جنوبی کوریا کے امریکا کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے کے باعث منصوبہ قابل عمل لگتا ہے۔اگر منصوبہ مکمل ہوجاتا ہے تو دونوں ممالک کے لاکھوں افراد مستفید ہوںگے۔ امریکا اور شمالی کوریا کے مابین تنازعے اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود شمالی اور جنوبی کوریا غیرمعمولی انداز میں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں شمالی اور جنوبی کوریا کے صدور نے سرحد پر نومینز لینڈ پر ملاقات بھی کی تھی جو ایک بریک تھرو تھا۔ اب اگر اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر پابندیاں نرم کی ہیں تو یہ بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان پابندیوں کے نرم ہونے سے اگر دونوں ملکوں کے درمیان ٹرین رابطوں کی بحالی ہو جاتی ہے تو یہ بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد جہاں شمالی اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے' وہاں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کی بھی کوشش کی ہے' شمالی کوریا کی لیڈرشپ کے طرز عمل میں سختی کم ہوئی ہے۔
شاید اسی کی وجہ ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ویسے بھی آج کی دنیا باہمی تعلقات میں اقتصادیات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ اب معاشی مفادات کو سامنے رکھ کر عالمی صف بندی ہو رہی ہے۔ خانہ جنگی کا شکار براعظم افریقہ بتدریج امن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کینیا' ایتھوپیا' اریٹیریا' یوگنڈا اور گھانا نئی اقتصادی منڈی بن رہے ہیں اور یہ ملک اپنے باہمی تنازعات ختم کر چکے ہیں۔ نائجیریا اور سینگال تیزی ترقی کررہے ہیں۔
ویتنام ،کمبوڈیا اور لاوس بھی ماضی بھلا کر ترقی کے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور آج یہ تینوں ملک سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش بن چکے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کاروباری سرگرمیاں ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ اسپین کے وزیراعظم کیوبا کا دورہ کر چکے ہیں۔ سلطنت عمان اور متحدہ عرب امارات اسرائیل کے قریب ہو رہے ہیں' اس تناظر میں دیکھا جائے تو شمالی اور جنوبی کوریا آنے والے دنوں میں ایک بار پھر متحدہ کوریا کی شکل اختیار کر سکتے ہیں' جیسے مشرقی اور مغربی جرمنی متحد ہوئے ہیں۔