FATF کی ہدایات پیمنٹ سسٹم آپریٹرز مالیاتی اداروں کے عہدیداروں کی چھان پھٹک کا فیصلہ
دہشت گردوں کی فنانسنگ روکنے کیلیے مرکزی بینک کی جانب سے پیمنٹ آپریٹرز اورسروس پرووائیڈرز کو25 سوالات کا سوالنامہ جاری
مالیاتی اداروں کے کلیدی عہدیداروں کی سیاسی وابستگی، شہریت، کالعدم تنظیموں سے تعلق، مالیاتی فراڈ میں ملوث ہونے سمیت مختلف کوائف طلب فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ہدایات کی روشنی میں منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کو سرمائے کی فراہمی کی روک تھام کے لیے پیمنٹ سسٹم آپریٹرز اور ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کے کلیدی عہدے داروں کی چھان پھٹک کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں، مائیکروفنانس اداروں اور پیمنٹ آپریٹرز کو خصوصی مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے پیمنٹ سسٹم آپریٹرز اور سروس فراہم کرنے والوں کے لیے 25 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جاری کردیا ہے۔ ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو یقینی بنانا ہوگا کہ کلیدی عہدوں پر تعینات ملازمین کا اقوام متحدہ کی جانبسے دہشت گرد قرار دی گئی کالعدم تنظیم یا کسی شخص سے تعلق نہ ہو۔ پیمنٹ آپریٹرز اور سروس پروائیڈر کے کلیدی عہدے داروں کی سیاسی وابستگی اور شہریت کے بارے میں بھی کوائف مانگے گئے ہیں۔
پیمنٹ آپریٹرز اور سروس پروائیڈرز کو حلف نامے بھی جمع کرانے ہوں گے۔ ہر عہدے دار کے لیے الگ الگ حلف ناموں میں اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ مذکورہ عہدے دار کا یو این سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل کالعدم تنظیموں یا شخصیات سے کوئی تعلق نہیں۔ عہدے داروں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ان کا ماضی میں کسی مالیاتی فراڈ سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق رہا، کس ادارے سے وابستہ رہے اس کا لائسنس منسوخ ہوا۔
کسی ادارے سے نکالا یا استعفیٰ لیا گیا اسی طرح انفرادی یا پیشہ ورانہ حیثیت میں ٹیکس نادہندگی کے بارے میں بھی معلومات مانگی گئی ہیں۔25 سوالات کے جواب ہاں یا نہ میں دینا ہوں گے۔سیاسی وابستگی کے ساتھ ملک میں قانون سازی کے ایوانوں کی رکنیت کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں، مائیکروفنانس اداروں اور پیمنٹ آپریٹرز کو خصوصی مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے پیمنٹ سسٹم آپریٹرز اور سروس فراہم کرنے والوں کے لیے 25 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جاری کردیا ہے۔ ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو یقینی بنانا ہوگا کہ کلیدی عہدوں پر تعینات ملازمین کا اقوام متحدہ کی جانبسے دہشت گرد قرار دی گئی کالعدم تنظیم یا کسی شخص سے تعلق نہ ہو۔ پیمنٹ آپریٹرز اور سروس پروائیڈر کے کلیدی عہدے داروں کی سیاسی وابستگی اور شہریت کے بارے میں بھی کوائف مانگے گئے ہیں۔
پیمنٹ آپریٹرز اور سروس پروائیڈرز کو حلف نامے بھی جمع کرانے ہوں گے۔ ہر عہدے دار کے لیے الگ الگ حلف ناموں میں اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ مذکورہ عہدے دار کا یو این سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل کالعدم تنظیموں یا شخصیات سے کوئی تعلق نہیں۔ عہدے داروں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ان کا ماضی میں کسی مالیاتی فراڈ سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق رہا، کس ادارے سے وابستہ رہے اس کا لائسنس منسوخ ہوا۔
کسی ادارے سے نکالا یا استعفیٰ لیا گیا اسی طرح انفرادی یا پیشہ ورانہ حیثیت میں ٹیکس نادہندگی کے بارے میں بھی معلومات مانگی گئی ہیں۔25 سوالات کے جواب ہاں یا نہ میں دینا ہوں گے۔سیاسی وابستگی کے ساتھ ملک میں قانون سازی کے ایوانوں کی رکنیت کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے ہیں۔