امریکا نے بنگلہ دیش سے تجارتی رعایتیں واپس لے لیں

صنعتی سانحے پر اقدام، ڈھاکا ورکرز کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا، امریکی صدر

کارکنوں کے تحفظ کیلیے اقدامات کیے، فیصلے پرتشویش ہے، تجارت میں رکاوٹیں آئیں گی، بنگلہ دیش فوٹو: فائل

FAISALABAD:
امریکی حکومت نے گارمنٹ فیکٹری کے سانحے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے بعد بنگلہ دیش کے لیے تجارتی رعایتیں کم کرنے کافیصلہ کیا ہے جس پر بنگلہ دیش نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کارکنوں کے تحفظ میں بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔

امریکی صدر اوباما نے بنگلہ دیش کے ڈیوٹی فری تجارتی استحقاق کی حیثیت کھونے کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈھاکا ورکرز کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا ہے تاہم بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ 24 اپریل کے صنعتی سانحے کے بعد سے متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔




وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بنگلہ دیشی حکومت نے فیکٹری سیفٹی میں بہتری اور ورکرز حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور واضح اقدامات کیے گئے ہیں، یہ فیصلہ فیکٹری ورکرز کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوگا، اس سخت اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارت میں نئی رکاوٹیں پیدا ہوں گی جس پر ہمیں تشویش ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے بنگلہ دیش کو جی ایس پی کے تحت ڈیوٹی فری مارکیٹ رسائی دے رکھی تھی جس کے تحت ترقی کے لیے درآمدات پر ٹیرف ختم کردیے جاتے ہیں، امریکا نے 127 ممالک کو یہ رعایتیں دے رکھی ہیں۔
Load Next Story