مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کی نئی لہر
مقبوضہ کشمیر میں رواں ماہ بھارتی فوج کی بربریت کے نتیجے میں اب تک 45 کشمیری نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں رواں ماہ بھارتی فوج کی بربریت کے نتیجے میں اب تک 45 کشمیری نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔ فوٹو: فائل
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی ریاستی دہشت گردی میں مزید 8 کشمیری شہید ہو گئے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوج کے اسپیشل آپریشن گروپ، سینٹرل ریزرو پولیس اور 34 راشٹریہ رائفل کے اہلکاروں نے ضلع شوپیاں کے علاقے بٹاگنڈ اورکاپرن کے علاقوں کا محاصرہ کر لیا، سرچ آپریشن کے دوران ایک مکان کو گھیرے میں لیتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی اور مکان کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا جس کے نتیجے میں 6 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے.
خبروں کے مطابق واقعے میں ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا، وحشیانہ کارروائی کے خلاف وادی کے مختلف اضلاع میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، اس موقع پر بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید اور 5 سالہ بچی سمیت 15سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
کٹھ پتلی انتظامیہ نے ضلع شوپیاں اور جنوبی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی۔ ادھر بھارتی فورسز نے ضلع پلواما میں بھی فائرنگ کرکے ایک کشمیری نوجوان شہید کردیا۔
مقبوضہ کشمیر میں رواں ماہ بھارتی فوج کی بربریت کے نتیجے میں اب تک 45 کشمیری نوجوان شہید ہوچکے ہیں جب کہ صرف رواں ہفتے میں 23کشمیریوں کو شہید کیا گیا، اس دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے بھارتی فورسز کی طرف سے شہریوں کے پے در پے قتل اور دیگر مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کے لیے بھارت نے اپنی فورسز کو نہتے کشمیریوں کے قتل کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جو ہر قسم کا ظالمانہ اور بہیمانہ ہتھکنڈا استعمال کر رہی ہے۔ دہلی حکومت کی جانب سے کھلی چھوٹ ملنے پر کشمیریوں کے خلاف کسی قسم کے تشدد اور قتل پر فوجیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، جس پر بھارتی فوجی دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذرا ذرا سی بات پر کشمیریوں پر فائر کھول دیتے ہیں۔
رواں برس اب تک 400سے زائد کشمیری شہید کیے جاچکے ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو فوجی طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے۔
بھارتی فوجی جب چاہیں سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیریوں کے گھروں کا گھیراؤ کر لیتے، نوجوانوں کو اٹھا لیتے، بچوں اور عورتوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی خبریں عالمی میڈیا میں روز شایع ہونے کے باوجود اقوام متحدہ، بڑی طاقتیں اور عالمی برادری مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ امریکا اور عالمی طاقتوں کی بے حسی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن او آئی سی، عرب لیگ اور مسلم دنیا کی اس ظلم پر خاموشی بھی معنی خیز ہے۔
بھارت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ وہ کشمیریوں پر خواہ کتنا ہی ظلم کیوں نہ توڑ دے، چاہے روز سیکڑوں کشمیریوں کو شہید کر دے، نہ تو عالمی برادری اور نہ اسلامی دنیا ہی اس پر آواز اٹھائے گی۔ یہی صورت حال بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا محرک بنی ہے اور وہ ممنوعہ پیلٹ گن تک کا استعمال کشمیریوں کے خلاف بے دریغ کر رہا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں بھارت پاکستان کے احتجاج کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ پاکستان سوائے رسمی احتجاج کے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بھارت کو بارہا مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے لیکن اس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی اس دعوت کو ہر بار مسترد کر دیا۔ جب سے مودی حکومت دہلی کے تخت پر متمکن ہوئی ہے، تب سے کشمیریوں کے خلاف کارروائیاں تیز ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں بھی اس کے رویے میں شدت اور جارحیت آئی ہے۔
واجپائی حکومت بھی شدت پسندوں پر مشتمل تھی مگر اس کے باوجود اس نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا، یہاں تک کہ وزیراعظم واجپائی خود لاہور تشریف لائے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کا عندیہ دیا۔ اگر اس وقت مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھا جاتا تو امید تھی کہ یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پرامن طور پر حل ہو جاتا اور آج جو مقبوضہ وادی میں بے بس اور مظلوم کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے اس کی نوبت نہ آتی۔
اب تحریک انصاف کی حکومت کا یہ بڑا امتحان ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور بھارت کے ظالمانہ رویے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے اور جہاں وزیراعظم ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لیے اپنے غیرملکی دوروں میں کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں وہاں مسئلہ کشمیر پر بھی دنیا کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں تو امید واثق ہے کہ یہ مسئلہ پرامن طور پر حل ہو جائے گا۔
خبروں کے مطابق واقعے میں ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا، وحشیانہ کارروائی کے خلاف وادی کے مختلف اضلاع میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، اس موقع پر بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید اور 5 سالہ بچی سمیت 15سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
کٹھ پتلی انتظامیہ نے ضلع شوپیاں اور جنوبی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی۔ ادھر بھارتی فورسز نے ضلع پلواما میں بھی فائرنگ کرکے ایک کشمیری نوجوان شہید کردیا۔
مقبوضہ کشمیر میں رواں ماہ بھارتی فوج کی بربریت کے نتیجے میں اب تک 45 کشمیری نوجوان شہید ہوچکے ہیں جب کہ صرف رواں ہفتے میں 23کشمیریوں کو شہید کیا گیا، اس دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے بھارتی فورسز کی طرف سے شہریوں کے پے در پے قتل اور دیگر مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کے لیے بھارت نے اپنی فورسز کو نہتے کشمیریوں کے قتل کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جو ہر قسم کا ظالمانہ اور بہیمانہ ہتھکنڈا استعمال کر رہی ہے۔ دہلی حکومت کی جانب سے کھلی چھوٹ ملنے پر کشمیریوں کے خلاف کسی قسم کے تشدد اور قتل پر فوجیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، جس پر بھارتی فوجی دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذرا ذرا سی بات پر کشمیریوں پر فائر کھول دیتے ہیں۔
رواں برس اب تک 400سے زائد کشمیری شہید کیے جاچکے ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو فوجی طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے۔
بھارتی فوجی جب چاہیں سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیریوں کے گھروں کا گھیراؤ کر لیتے، نوجوانوں کو اٹھا لیتے، بچوں اور عورتوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی خبریں عالمی میڈیا میں روز شایع ہونے کے باوجود اقوام متحدہ، بڑی طاقتیں اور عالمی برادری مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ امریکا اور عالمی طاقتوں کی بے حسی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن او آئی سی، عرب لیگ اور مسلم دنیا کی اس ظلم پر خاموشی بھی معنی خیز ہے۔
بھارت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ وہ کشمیریوں پر خواہ کتنا ہی ظلم کیوں نہ توڑ دے، چاہے روز سیکڑوں کشمیریوں کو شہید کر دے، نہ تو عالمی برادری اور نہ اسلامی دنیا ہی اس پر آواز اٹھائے گی۔ یہی صورت حال بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا محرک بنی ہے اور وہ ممنوعہ پیلٹ گن تک کا استعمال کشمیریوں کے خلاف بے دریغ کر رہا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں بھارت پاکستان کے احتجاج کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ پاکستان سوائے رسمی احتجاج کے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بھارت کو بارہا مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے لیکن اس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی اس دعوت کو ہر بار مسترد کر دیا۔ جب سے مودی حکومت دہلی کے تخت پر متمکن ہوئی ہے، تب سے کشمیریوں کے خلاف کارروائیاں تیز ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں بھی اس کے رویے میں شدت اور جارحیت آئی ہے۔
واجپائی حکومت بھی شدت پسندوں پر مشتمل تھی مگر اس کے باوجود اس نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا، یہاں تک کہ وزیراعظم واجپائی خود لاہور تشریف لائے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کا عندیہ دیا۔ اگر اس وقت مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھا جاتا تو امید تھی کہ یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پرامن طور پر حل ہو جاتا اور آج جو مقبوضہ وادی میں بے بس اور مظلوم کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے اس کی نوبت نہ آتی۔
اب تحریک انصاف کی حکومت کا یہ بڑا امتحان ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور بھارت کے ظالمانہ رویے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے اور جہاں وزیراعظم ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لیے اپنے غیرملکی دوروں میں کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں وہاں مسئلہ کشمیر پر بھی دنیا کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں تو امید واثق ہے کہ یہ مسئلہ پرامن طور پر حل ہو جائے گا۔