عوام کو معاشی ریلیف دینے کی ضرورت
حکومت معاشی پالیسیوں کی حتمی شکل کو حکومت کے 100 روزہ پلان کی بنیاد بناتے ہوئے معاشی پیش قدمی کی قوم کو نوید دے۔
حکومت معاشی پالیسیوں کی حتمی شکل کو حکومت کے 100 روزہ پلان کی بنیاد بناتے ہوئے معاشی پیش قدمی کی قوم کو نوید دے۔ فوٹو: فیس بک
وزیراعظم عمران خان نے ملک کی معیشت میں بہتری کے لیے مڈٹرم فریم ورک سمیت محروم طبقے کے لیے سوشل پروٹیکشن فریم ورک کی منظوری دیدی ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت بنی گالا میں اقتصادی مشاورتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ملکی برآمدات بڑھانے ، ٹیکس اصلاحات پر غور، روزگار میں اضافے، اقتصادی ترقی کے لیے اکنامک ایڈوائزری کونسل کی سفارشات پر مشاورت کے علاوہ درآمد اور برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات بھی زیر غور آئے۔
اقتصادی مشاورتی کونسل کے اکابرین کو اپنے حکومتی بنیادی اہداف کی طرف لپکنے کی ضرورت ہے، ملکی معیشت شدید بحرانی صورتحال سے اسی وقت نکل سکتی ہے جب حکومتی اقدامات کے فوری ثمرات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچیں ، مہنگائی کم ہو ، غربت ، بیروزگاری کے سرنگ کے پار ریلیف کے روشنی کے واضح آثار نظر آئیں۔
ملکی اقتصادی مسائل وہ اعصاب شکن چیلنجز ہیں جنھیں مسلسل اجلاسوں کے ساتھ ساتھ نتیجہ خیز عملی اقدامات سے جوڑا جانا اور معاشی آسودگی کے لیے بجلی، گیس ، سی این جی، ٹرانسپورٹ کرایے وغیرہ میں من مانے اضافہ اور اشیائے صرف کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ناگزیر ہے، وزیراعظم کی کوششیں قابل ستائش ہیں، مگر عوام عملی معاشی تبدیلی چاہتے ہیں جب کہ مہنگائی کے طوفان اور غربت و بیروزگاری کے سدباب کے لیے وزیر خزانہ اسد عمر کو بریک تھرو سگنل دینے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔
اگر ادائیگیوں کا بحران حل ہوچکا تو حکومت محدود ٹیکس نیٹ کو بڑھائے اور پھیلی ہوئی مالیاتی پالیسیی کے چنگل سے نکلنے کے لیے ریپڈ اکنامک فارمولے استعمال میں لائے ، عوام کو 100 دنوں میں کم از کم ٹریکل ڈاؤن ریلیف تو ملنا چاہیے، چہ جائیکہ انھیں بجلی ،گیس اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے صدمات ملیں تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ مشاورتی کونسل میں ٹیکس ریفارمز، روزگار کے مواقعے ، ہاؤسنگ، زراعت، ایس ایم ایز میں مراعات ، غربت، صحت ، تعلیم سے متعلق چیلنجزسے نمٹنے کے اقدامات سمیت ملک میں پچاس لاکھ نئے گھروںکی تعمیر کے لیے ''نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے''کو پانچ ارب روپے دینے کی منظوری دیدی گئی ہے۔
اب لازم ہے کہ حکومت معاشی پالیسیوں کی حتمی شکل کو حکومت کے 100 روزہ پلان کی بنیاد بناتے ہوئے معاشی پیش قدمی کی قوم کو نوید دے۔ ریلیف اورینٹڈ معاشی پیکیج کے لیے موقع مناسب ہے جب کہ اقتصادی ایکسلیٹر پر حکمراں اپنے پیر جمائے رکھیں۔ اقتصادی الجھنیں کم ہونی چاہئیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ملکی برآمدات بڑھانے ، ٹیکس اصلاحات پر غور، روزگار میں اضافے، اقتصادی ترقی کے لیے اکنامک ایڈوائزری کونسل کی سفارشات پر مشاورت کے علاوہ درآمد اور برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات بھی زیر غور آئے۔
اقتصادی مشاورتی کونسل کے اکابرین کو اپنے حکومتی بنیادی اہداف کی طرف لپکنے کی ضرورت ہے، ملکی معیشت شدید بحرانی صورتحال سے اسی وقت نکل سکتی ہے جب حکومتی اقدامات کے فوری ثمرات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچیں ، مہنگائی کم ہو ، غربت ، بیروزگاری کے سرنگ کے پار ریلیف کے روشنی کے واضح آثار نظر آئیں۔
ملکی اقتصادی مسائل وہ اعصاب شکن چیلنجز ہیں جنھیں مسلسل اجلاسوں کے ساتھ ساتھ نتیجہ خیز عملی اقدامات سے جوڑا جانا اور معاشی آسودگی کے لیے بجلی، گیس ، سی این جی، ٹرانسپورٹ کرایے وغیرہ میں من مانے اضافہ اور اشیائے صرف کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ناگزیر ہے، وزیراعظم کی کوششیں قابل ستائش ہیں، مگر عوام عملی معاشی تبدیلی چاہتے ہیں جب کہ مہنگائی کے طوفان اور غربت و بیروزگاری کے سدباب کے لیے وزیر خزانہ اسد عمر کو بریک تھرو سگنل دینے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔
اگر ادائیگیوں کا بحران حل ہوچکا تو حکومت محدود ٹیکس نیٹ کو بڑھائے اور پھیلی ہوئی مالیاتی پالیسیی کے چنگل سے نکلنے کے لیے ریپڈ اکنامک فارمولے استعمال میں لائے ، عوام کو 100 دنوں میں کم از کم ٹریکل ڈاؤن ریلیف تو ملنا چاہیے، چہ جائیکہ انھیں بجلی ،گیس اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے صدمات ملیں تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ مشاورتی کونسل میں ٹیکس ریفارمز، روزگار کے مواقعے ، ہاؤسنگ، زراعت، ایس ایم ایز میں مراعات ، غربت، صحت ، تعلیم سے متعلق چیلنجزسے نمٹنے کے اقدامات سمیت ملک میں پچاس لاکھ نئے گھروںکی تعمیر کے لیے ''نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے''کو پانچ ارب روپے دینے کی منظوری دیدی گئی ہے۔
اب لازم ہے کہ حکومت معاشی پالیسیوں کی حتمی شکل کو حکومت کے 100 روزہ پلان کی بنیاد بناتے ہوئے معاشی پیش قدمی کی قوم کو نوید دے۔ ریلیف اورینٹڈ معاشی پیکیج کے لیے موقع مناسب ہے جب کہ اقتصادی ایکسلیٹر پر حکمراں اپنے پیر جمائے رکھیں۔ اقتصادی الجھنیں کم ہونی چاہئیں۔