ریکوڈک منصوبہ کینیڈین کمپنی عالمی ثالثی کیلیے رجوع کریگی

ثالثی فروری 2014 میں متوقع ہے، فیصلہ پاکستان کیخلاف آئے گا، کینیڈین ہائی کمشنر

انویسٹرز کو سرمایہ کاری کے تحفظ، شفافیت وسیکیورٹی پر خدشات ہیں، کراچی چیمبر کا دورہ۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ہارون اگر نے پاکستان میں نئی کینیڈین سرمایہ کاری کیلیے کینیڈا کے ہائی کمیشن سے تعاون طلب کرتے ہوئے کینیڈین سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ سرمایہ کاری کے لحاظ پاکستان خطے کی پرکشش سرزمین ہے۔

کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں کامیابی کے ساتھ یہاں کاروبار کر رہی ہیں اور اپنے کاروبار کو توسیع بھی دے رہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کینیڈین ہائی کمیشن گریگ گیوکاس کے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرکینیڈا کے اعزازی قونصل جنرل بہرام ڈی آواری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ہارون اگر نے کہا کہ دونوں ملکوں کو معاشی ترقی میں تعاون کیلیے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،پاکستان اور کینیڈا کے درمیان طے پانے والا دوطرفہ سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے معاہدے (ایف آئی پی اے) کے سود مند نتائج سامنے آئیں گے، دونوں ملکوں کے درمیان معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفرااسٹرکچر میں مشترکہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

اس موقع پر کینیڈین ہائی کمیشن گریگ گیوکاس نے کہاکہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، دنیا پاکستان میں دستیاب وسائل کے بارے میں بخوبی آگاہ ہے، پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے، کینیڈین سرمایہ کاروں کو بھی سرمایہ کاری کے قانونی تحفظ،شفافیت اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ہیں۔ کینیڈین ہائی کمیشن گریگ گیوکاس نے کہا کہ کینیڈا کی کمپنی نے پاکستانی حکومت سے ایک معاہدے کے تحت سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کے ریکو ڈک منصوبے پر تقریباً 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، پاکستان میں عدالتی فیصلے کے بعد کمپنی نے اپنا کام بند کر دیاہے،کمپنی اب انٹرنیشنل آربٹریشن میں جارہی ہے جو آئندہ سال فروری میں ہونے کی توقع ہے جس میں خیال کیا جارہاہے کہ فیصلہ پاکستان کے خلاف آئے گا۔




ہائی کمشنر نے کہا کہ کمپنی نے طویل عرصے کام کیا اور سرمایہ کاری کی لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں کا طرز عمل مناسب نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ کینیڈین سرمایہ کاروںمیں سرمائے کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ کینیڈین ہائی کمیشن گریگ گیوکاس نے کہا کہ زراعت اورریلوے کے شعبے میں تعاون کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، پاکستان ریلوے کی جانب سے ریلوے انجن کے طلب کی گئی پیشکشوں میں کینیڈاپیسفک ریلوے بولی دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم قابل ذکر نہیں جس کی بنیاد پر آزاد تجارتی معاہدہ ہو سکے، سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے معاہدے( ایف آئی پی اے)کے حوالے سے بات چیت بھی معنی خیز ثابت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں تک فعال رسائی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان علاقائی تجارت میں کلیدی ملک کے طور پر سامنے آئے، نئی حکومت کوتوانائی، انفرااسٹرکچر اور ٹرانسپورٹیشن پر زیادہ توجہ دینا ہوگی جبکہ دوطرفہ تجارت کے فروغ کیلیے دونوں ممالک کے تاجروں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر کراچی میں کینیڈین ٹریڈ کمشنر اطہر معین خان، سابق صدر کے سی سی آئی مجید عزیز، سینئر نائب صدر شمیم فرپو، نائب صدر ناصر محمود اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی اجلاس میں شریک تھے۔
Load Next Story