آبی بحران معیشت کے لیے بڑا خطرہ
آئی ایم ایف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔
آئی ایم ایف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ فوٹو: فائل
ورلڈ اکنامک فورم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق آنیوالی دہائی میں پانی کا بحران، پاکستانی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ارض پاک ایک زرعی ملک ہے۔
آئی ایم ایف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق 2025تک پاکستان پینے کے ساتھ ساتھ ذرایع آبپاشی کے لیے بھی پانی کے بحران کا سامنا کرسکتا ہے جب کہ 2040تک تمام زیرکاشت اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس صورتحال میں دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلا ہمارا اندرونی بندوبست اور دوسرا بھارت کا پاکستان مخالف ایجنڈا۔ پہلے پہلوکا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بڑھے ڈیمز کا نہ بننا،گلوبل وارمنگ، بارشوں کی کمی، دریاؤں میں اور زیر زمین پانی میں کمی اس بحران کی بڑی بڑی وجوہات ہیں ۔ بارشیں نہ ہونے سے زیر زمین پانی کم ہو رہا ہے ۔ آزادی کے وقت تمام چھ بڑے دریاؤں کا منبع ہندوستان تھا یعنی تکنیکی اعتبار سے آبی وسائل میں بھارت بالائی اور پاکستان زیریں ریاست بن گیا۔
ورلڈ بینک کے ثالثی کرنے تک دونوں ممالک میں پانی کی تقسیم کا تنازعہ جاری رہا۔ 1960میں پنڈت جواہر لعل نہرو اور جنرل ایوب خان سندھ طاس معاہدے پر متفق ہوئے لیکن بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کے پانی میں رکاوٹ ڈالی۔ یہ اضافی پانی بھارت بجلی کی پیداوار اور زرعی استعمال میں لارہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی پنجاب کی زراعت تباہ اور زیر زمین پانی کی سطح کم ہوئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان پانی کا استعمال کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا صارف ہے۔ پاکستان اپنے علاقوں میں آنیوالے پانی کا صرف 7فیصداستعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اسی طرح تقریباً 10ملین ایکڑ فٹ پانی بھارت روک لیتا ہے، پاکستان میں بڑے ڈیم بنانا تو ضروری ہیں لیکن فوری طور پر اس مسئلے کا ایک حل مائیکرو ڈیمز ہیں، چھوٹے ڈیم ہر اس علاقے میں بنائے جا سکتے ہیں جہاں تھوڑی سی ڈھلوان دستیاب ہو۔
کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے سیاست کی نذر ہوچکے، اب چیف جسٹس آف پاکستان اور حکومت ملکر ڈیمز بنانے کے لیے عوام کو متحرک کررہے ہیں جوکہ ایک مستحسن عمل ہے کیونکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں پانی کے مناسب استعمال اور اس کے ضیاع کو روکنے کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے ۔
آئی ایم ایف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق 2025تک پاکستان پینے کے ساتھ ساتھ ذرایع آبپاشی کے لیے بھی پانی کے بحران کا سامنا کرسکتا ہے جب کہ 2040تک تمام زیرکاشت اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس صورتحال میں دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلا ہمارا اندرونی بندوبست اور دوسرا بھارت کا پاکستان مخالف ایجنڈا۔ پہلے پہلوکا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بڑھے ڈیمز کا نہ بننا،گلوبل وارمنگ، بارشوں کی کمی، دریاؤں میں اور زیر زمین پانی میں کمی اس بحران کی بڑی بڑی وجوہات ہیں ۔ بارشیں نہ ہونے سے زیر زمین پانی کم ہو رہا ہے ۔ آزادی کے وقت تمام چھ بڑے دریاؤں کا منبع ہندوستان تھا یعنی تکنیکی اعتبار سے آبی وسائل میں بھارت بالائی اور پاکستان زیریں ریاست بن گیا۔
ورلڈ بینک کے ثالثی کرنے تک دونوں ممالک میں پانی کی تقسیم کا تنازعہ جاری رہا۔ 1960میں پنڈت جواہر لعل نہرو اور جنرل ایوب خان سندھ طاس معاہدے پر متفق ہوئے لیکن بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کے پانی میں رکاوٹ ڈالی۔ یہ اضافی پانی بھارت بجلی کی پیداوار اور زرعی استعمال میں لارہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی پنجاب کی زراعت تباہ اور زیر زمین پانی کی سطح کم ہوئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان پانی کا استعمال کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا صارف ہے۔ پاکستان اپنے علاقوں میں آنیوالے پانی کا صرف 7فیصداستعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اسی طرح تقریباً 10ملین ایکڑ فٹ پانی بھارت روک لیتا ہے، پاکستان میں بڑے ڈیم بنانا تو ضروری ہیں لیکن فوری طور پر اس مسئلے کا ایک حل مائیکرو ڈیمز ہیں، چھوٹے ڈیم ہر اس علاقے میں بنائے جا سکتے ہیں جہاں تھوڑی سی ڈھلوان دستیاب ہو۔
کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے سیاست کی نذر ہوچکے، اب چیف جسٹس آف پاکستان اور حکومت ملکر ڈیمز بنانے کے لیے عوام کو متحرک کررہے ہیں جوکہ ایک مستحسن عمل ہے کیونکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں پانی کے مناسب استعمال اور اس کے ضیاع کو روکنے کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے ۔