سونا ساڑھے46ہزار تولہ ہو گیا خریدار خوش قیمت مزید گرنے کی توقع
عالمی مارکیٹ میں فی اونس قیمت 27 ڈالرکی کمی سے فی تولہ قیمت 46550 روپے ہوگئی،گولڈ مارکیٹ کی سمت غیر واضح ہوگئی،
سستا سونا شہریوں کا موضوع بحث بن گیا،سونے کی قیمت میں گزشتہ برسوں میں مصنوعی اضافہ کیا گیا،چند ماہ میں حقیقی قیمت 35000 روپے تولہ ہوجائے گی فوٹو: فائل
سونے کی قیمت میںگزشتہ 6 ماہ کے دوران فی تولہ مجموعی طور پر 15600 روپے کمی سے سستا سونا شہریوں کا موضوع بحث بن گیا۔
گاہکوں میں سونا خریدنے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے سونے کی قیمت میں کمی کے باوجود صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے زیورات کی خریداری نہ بڑھ سکی ہے، جمعہ کو عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 27 ڈالر کمی سے فی اونس سونا 1200 ڈالر کی سطح پر آگیا جس کی وجہ سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت 1000 روپے کی کمی سے46550 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت857 روپے کی کمی سے39900 روپے ہوگئی،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کی طرح اب گولڈ مارکیٹ کی سمت بھی غیر واضح ہے۔
کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بتدریج اتارچڑھاؤ کے ساتھ 1180 ڈالر کی سطح پر آجائے گی جسکی وجہ سے پاکستان میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت گھٹ کر42000 روپے پر آنے کے امکانات ہیں جبکہ بعض دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر گزشتہ چند سالوں کے دوران خالص سونے کی قیمت میں مصنوعی اضافے کا رحجان لایا گیا جس سے اس امر کا خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت گھٹ کر800 ڈالر کی سطح پر آجائے گی ۔
جسکے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت35000 روپے کی سطح پر آجائے گی اور فی تولہ قیمت کی یہی سطح حقیقی بھی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سونے کی قیمت میں مزید کمی کے خدشات نے نہ صرف سونے کے سرمایہ کاروں کو سائیڈ لائن کردیا ہے بلکہ عام آدمی بھی سونے کے زیورات کی خریداری میں ہچکچاہٹ محسوس کررہاہے، ''ایکسپریس'' کے سروے کے دوران سونے کی قیمت میں مزید کمی سے متعلق جیولری اور صرافہ انڈسٹری کے متعدد نمائندوں سے رائے لینے کے لیے جب رابطہ کیا تو انھوں نے سونے کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرافہ مارکیٹوں میں مندی اور ہو کا عالم عارضی نوعیت کا ہے،صرافہ مارکیٹوں کے بعض نمائندے گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار رہے ۔
کیونکہ انھیں یقین ہے کہ سونے کی قیمت مزید کم ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے انھیں اپنے غیر فروخت شدہ سونے کے ذخائر پر بھاری خسارے سے دوچار ہونا پڑے گا، سونے میں سرمایہ کاری کوئی نئی بات نہیں ہے حکومت سے لے کر ایک عام گھریلوخاتون تک اس قیمتی دھات کو خریدنا اور محفوظ رکھنا چاہتی ہے مگر گزشتہ چند سالوں میں قیمتوں میں مستقل اضافے کے رحجان کی وجہ سے سونے کی قدر بے قابو ہوکر63000 روپے فی تولہ کی بلندترین سطح تک پہنچ گئی تھی جو عام آدمی کی دسترس سے تو باہر ہوگیا تھا لیکن چند ہفتے قبل عالمی حالات میں تبدیلی اور بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بتدریج گھٹتے گھٹتے دو روز قبل1200 ڈالر کی سطح پر آنے سے پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی گولڈ مارکیٹس میں زبردست بحران پیدا ہوگیا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل آئی ایم ایف اور اٹلی سمیت دیگر متعدد ممالک کی جانب سے وسیع مقدار میں سونے کے ذخائر کو فروخت کیا گیا تھا لیکن بعض دیگر ممالک کی جانب سے سونے کی خریداری میں دلچسپی کے نتیجے میں عالمی سطح پر سونے کی قیمت مستحکم رہیں، فی الوقت بین الاقوامی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ نوعیت کی کمی کے علاوہ مستقبل میں مزید کمی کے خدشات برقرار رہنے سے نہ صرف سرمایہ کار بلکہ حکومت کو بھی اس صورتحال کی وجہ سے وسیع نقصان کا سامنا ہے لیکن عام آدمی سونے کی قیمت میں کمی سے خوش ہے اور سونے کی قیمت مزید کم ہونے کے لیے پر امید ہے،عام شہری کو اب یقین ہوچلا ہے کہ وہ دوبارہ سونے کے زیورات کی خریداری کرسکیں گے۔
گاہکوں میں سونا خریدنے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے سونے کی قیمت میں کمی کے باوجود صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے زیورات کی خریداری نہ بڑھ سکی ہے، جمعہ کو عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 27 ڈالر کمی سے فی اونس سونا 1200 ڈالر کی سطح پر آگیا جس کی وجہ سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت 1000 روپے کی کمی سے46550 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت857 روپے کی کمی سے39900 روپے ہوگئی،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کی طرح اب گولڈ مارکیٹ کی سمت بھی غیر واضح ہے۔
کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بتدریج اتارچڑھاؤ کے ساتھ 1180 ڈالر کی سطح پر آجائے گی جسکی وجہ سے پاکستان میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت گھٹ کر42000 روپے پر آنے کے امکانات ہیں جبکہ بعض دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر گزشتہ چند سالوں کے دوران خالص سونے کی قیمت میں مصنوعی اضافے کا رحجان لایا گیا جس سے اس امر کا خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت گھٹ کر800 ڈالر کی سطح پر آجائے گی ۔
جسکے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت35000 روپے کی سطح پر آجائے گی اور فی تولہ قیمت کی یہی سطح حقیقی بھی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سونے کی قیمت میں مزید کمی کے خدشات نے نہ صرف سونے کے سرمایہ کاروں کو سائیڈ لائن کردیا ہے بلکہ عام آدمی بھی سونے کے زیورات کی خریداری میں ہچکچاہٹ محسوس کررہاہے، ''ایکسپریس'' کے سروے کے دوران سونے کی قیمت میں مزید کمی سے متعلق جیولری اور صرافہ انڈسٹری کے متعدد نمائندوں سے رائے لینے کے لیے جب رابطہ کیا تو انھوں نے سونے کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرافہ مارکیٹوں میں مندی اور ہو کا عالم عارضی نوعیت کا ہے،صرافہ مارکیٹوں کے بعض نمائندے گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار رہے ۔
کیونکہ انھیں یقین ہے کہ سونے کی قیمت مزید کم ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے انھیں اپنے غیر فروخت شدہ سونے کے ذخائر پر بھاری خسارے سے دوچار ہونا پڑے گا، سونے میں سرمایہ کاری کوئی نئی بات نہیں ہے حکومت سے لے کر ایک عام گھریلوخاتون تک اس قیمتی دھات کو خریدنا اور محفوظ رکھنا چاہتی ہے مگر گزشتہ چند سالوں میں قیمتوں میں مستقل اضافے کے رحجان کی وجہ سے سونے کی قدر بے قابو ہوکر63000 روپے فی تولہ کی بلندترین سطح تک پہنچ گئی تھی جو عام آدمی کی دسترس سے تو باہر ہوگیا تھا لیکن چند ہفتے قبل عالمی حالات میں تبدیلی اور بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بتدریج گھٹتے گھٹتے دو روز قبل1200 ڈالر کی سطح پر آنے سے پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی گولڈ مارکیٹس میں زبردست بحران پیدا ہوگیا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل آئی ایم ایف اور اٹلی سمیت دیگر متعدد ممالک کی جانب سے وسیع مقدار میں سونے کے ذخائر کو فروخت کیا گیا تھا لیکن بعض دیگر ممالک کی جانب سے سونے کی خریداری میں دلچسپی کے نتیجے میں عالمی سطح پر سونے کی قیمت مستحکم رہیں، فی الوقت بین الاقوامی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ نوعیت کی کمی کے علاوہ مستقبل میں مزید کمی کے خدشات برقرار رہنے سے نہ صرف سرمایہ کار بلکہ حکومت کو بھی اس صورتحال کی وجہ سے وسیع نقصان کا سامنا ہے لیکن عام آدمی سونے کی قیمت میں کمی سے خوش ہے اور سونے کی قیمت مزید کم ہونے کے لیے پر امید ہے،عام شہری کو اب یقین ہوچلا ہے کہ وہ دوبارہ سونے کے زیورات کی خریداری کرسکیں گے۔