امریکی روبوٹ مریخ کی سطح پر اتر گیا
مریخ کے لیے امریکا کے 20 مشن اس سے پہلے بھی جا چکے ہیں۔ گویا یہ اکیسواں مشن ہے۔
مریخ کے لیے امریکا کے 20 مشن اس سے پہلے بھی جا چکے ہیں۔ گویا یہ اکیسواں مشن ہے۔ فوٹو: فائل
امریکی خلائی ادارے ''ناسا'' نے مریخ سیارے کی تحقیق کی خاطر جو ''ان سائٹ'' کے نام سے روبوٹ خلاء میں روانہ کیا تھا اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کامیابی کے ساتھ مریخ پر لنگرانداز ہو چکا ہے۔ مریخ، جسے سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے، پر تحقیقات کے لیے، جو روبوٹ بھیجا گیا ہے وہ دو سال کے طویل عرصے تک وہاں قیام کرے گا اور تحقیقات جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ یہ روبوٹ سیارے کی بیرونی سطح کے نیچے تک تحقیقات کرے گا جو پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ مریخ پر پہنچنے والے روبوٹ نے وہاں کی تصاویر بھی زمین پر بھیج دی ہیں جو فوری طور پر زیادہ واضح نہیں ہیں۔ یہ خلائی مشن لاس اینجلس کے قریب ''جیٹ پروب لیبارٹری'' (جے بی ایل) سے روانہ کیا گیا ہے۔ اس مشن کی کنٹرول ٹیم کے اراکین نے امریکی ربوٹیک سیارچے کی کامیاب لینڈنگ پر خوشی سے بے قابو ہو کر تالیاں بجائیں اور رقص کیا۔
خلائی راکٹ 6 ماہ کی مسلسل پرواز کے بعد 548 ملین کلومیٹرز کا فاصلہ طے کر کے مریخ پر پہنچا ہے۔ اس کی روانگی اس سال مئی کے مہینے میں کیلی فورنیا سے ہوئی تھی۔ ''ان سائٹ'' کی ابتدائی تصاویر سے پتہ چلا ہے کہ مریخ پر 125 کلومیٹر کے حجم کا ایک صحرا بھی ہے۔ خلائی سفر کرنے والے راکٹ میں تحقیقات کے لیے بہت ساری مشینری بھی موجود ہے۔
مریخ پر کی جانے والی تحقیقات کے نتیجے میں مریخ کے علاوہ زمین اور دیگر سیاروں کی ساخت کے بارے میں معلومات بھی حاصل ہوں گی۔ ان سائٹ نامی یہ خلائی مشن 24 مہینے تک وہاں تحقیقات کرے گا۔ ان سائٹ کا اپنا وزن 360 کلوگرام ہے اور اس کی رفتار 19 ہزار 795 کلومیٹر ہے۔
مریخ کے لیے امریکا کے 20 مشن اس سے پہلے بھی جا چکے ہیں۔ گویا یہ اکیسواں مشن ہے۔ 1960ء میں خلائی تحقیق کے مشن شروع ہوئے جن میں مریخ کی تحقیقات کے لیے دو درجن سے زائد مشن بھیجے جا چکے ہیں جن میں امریکا کے علاوہ بعض دیگر ممالک کے مشن بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ روبوٹ سیارے کی بیرونی سطح کے نیچے تک تحقیقات کرے گا جو پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ مریخ پر پہنچنے والے روبوٹ نے وہاں کی تصاویر بھی زمین پر بھیج دی ہیں جو فوری طور پر زیادہ واضح نہیں ہیں۔ یہ خلائی مشن لاس اینجلس کے قریب ''جیٹ پروب لیبارٹری'' (جے بی ایل) سے روانہ کیا گیا ہے۔ اس مشن کی کنٹرول ٹیم کے اراکین نے امریکی ربوٹیک سیارچے کی کامیاب لینڈنگ پر خوشی سے بے قابو ہو کر تالیاں بجائیں اور رقص کیا۔
خلائی راکٹ 6 ماہ کی مسلسل پرواز کے بعد 548 ملین کلومیٹرز کا فاصلہ طے کر کے مریخ پر پہنچا ہے۔ اس کی روانگی اس سال مئی کے مہینے میں کیلی فورنیا سے ہوئی تھی۔ ''ان سائٹ'' کی ابتدائی تصاویر سے پتہ چلا ہے کہ مریخ پر 125 کلومیٹر کے حجم کا ایک صحرا بھی ہے۔ خلائی سفر کرنے والے راکٹ میں تحقیقات کے لیے بہت ساری مشینری بھی موجود ہے۔
مریخ پر کی جانے والی تحقیقات کے نتیجے میں مریخ کے علاوہ زمین اور دیگر سیاروں کی ساخت کے بارے میں معلومات بھی حاصل ہوں گی۔ ان سائٹ نامی یہ خلائی مشن 24 مہینے تک وہاں تحقیقات کرے گا۔ ان سائٹ کا اپنا وزن 360 کلوگرام ہے اور اس کی رفتار 19 ہزار 795 کلومیٹر ہے۔
مریخ کے لیے امریکا کے 20 مشن اس سے پہلے بھی جا چکے ہیں۔ گویا یہ اکیسواں مشن ہے۔ 1960ء میں خلائی تحقیق کے مشن شروع ہوئے جن میں مریخ کی تحقیقات کے لیے دو درجن سے زائد مشن بھیجے جا چکے ہیں جن میں امریکا کے علاوہ بعض دیگر ممالک کے مشن بھی شامل ہیں۔