فاٹا کے لیے ترقیاتی پیکیج کا اعلان

اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم کے اعلانات پر جلد عملدرآمد ہو، فاٹا کے عوام کو تمام آئینی حقوق حاصل ہوں۔

اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم کے اعلانات پر جلد عملدرآمد ہو، فاٹا کے عوام کو تمام آئینی حقوق حاصل ہوں۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے مسلط کی گئی جنگ میں بہت نقصان اٹھایا، اب پرائی جنگ دوبارہ نہیں لڑے گا۔ وہ دورہ شمالی وزیرستان کے دوران میران شاہ پہنچنے کے بعد جرگے سے خطاب کر رہے تھے۔

پیر کو وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ شمالی وزیرستان کا دورہ کیا، جہاں انھیں سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی آپریشن، معاشی و اقتصادی منصوبوں اور ٹی ڈی پیز پر بریفنگ دی گئی۔ وفاقی و صوبائی وزراء، گورنر، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے، وزیراعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع کے لیے جامع پیکیج کا اعلان بھی کیا۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان نائن الیون کے بعد کی پیداشدہ دہشت گردی کی دردناک صورتحال کا عجیب عنوان بن گئے تھے جہاں فاٹا کے عوام پر امریکی ڈرون حملوں کی بارش ہوئی، لاکھوں گھر اجڑے، ہزاروں شہریوں کو اس مسلط کردہ جنگ کا ایندھن بننا پڑا، سوات میں ملا فضل اللہ کے ظلم کی حکمرانی قائم ہوئی، اسکول مسمار ہوئے، معصوم بچیوں پر تعلیم حرام اور سماجی رابطے مسددو کیے گئے، پھر ان ہی قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان نے پاکستان کے آئین و حکمرانی کے خلاف سر اٹھایا، پاکستان کے شہروں کو نشانہ بنایا، بربریت کی انتہا کر دی گئی، ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جس کا بہر حال نتیجہ آپریشن ضرب عضب اور پھر آپریشن رد الفساد کی شکل میں سامنے آیا۔

دونوں وزیرستان دہشتگردوں کے عقابی نشیمن کہلاتے تھے ان کی دیومالائی حیثیت ابھاری گئی، کمانڈر ناقابل شکست سمجھے گئے تاہم پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے پہلی بار طالبانیت کے عفریت کو اس کے ہوم گراؤنڈ میں شکست دی اور عالمی سطح پر پاکستان کے مسخ شدہ امیج کو بحال کیا۔

وزیراعظم نے پرائی جنگ سے خود کو آیندہ علیحدہ کرنے کا اہم اعلان کیا ہے اور ملکی خارجہ و عسکری ڈاکٹرائن کے سیاق وسباق میں یہ پیراڈائم شفٹ ہے، یہ برس ہا برس کے بے نتیجہ '' تزویراتی گہرائی'' اسٹرٹیجک ڈیپتھ کے نقصانات کی تلافی کی جستجو سے عبارت ایک بریک تھرو ہو سکتا ہے بشرطیکہ ملکی سیاسی استحکام اور دہشتگردی کے خلاف قومی ادارے ایک ہی پیج پر رہنے کا اب عہد نبھائیں۔

فاٹا بلاشبہ داخلی دہشتگردی کا الم ناک باب تھا، افٖغانستان کی جنگ کے شعلوں سے وطن عزیز کا جسد سیاست اور سماجی و معاشی حالات ہمہ جہتی انتشار کا شکار رہے، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کا فرنٹ لائن کردار خطے کے اجتماعی مفاد کے لیے اہمیت کا حامل تھا جسے عالمی طاقتوں نے ہمیشہ نظر انداز کیا۔ افغانستان نے بھی مخاصمت اور بدگمانی کی ساری حدیں پار کیں ، بھارت نے اپنی دشمنی چکائی، مگر دہشتگردی کے خلاف پاک فوج اور عوام نے بے مثال قربانیاں دیں اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنا لہو نثار کیا۔


اب گیند وزیراعظم اور پی ٹی آئی حکومت کے کورٹ میں ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم سرحد پار بالخصوص افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں، انھوں نے مشکل حالات کا سامنا کرنے پر فاٹا، خیبر پختونخواہ کے عوام کی تعریف کی اور کہاکہ فاٹا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں، وزیراعظم نے فاٹا کے عوام کو روزگار کے مواقعے دینے، فاٹا میں قائم نئے اضلاع کے لیے صحت، تعلیم، روزگار اور انتظامی منصوبوں پر مشتمل سماجی ترقی کے بڑے پیکیج کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے تمام صوبوں کی جانب سے این ایف سی کا تین فیصد حصہ ضم ہونے والے اضلاع کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا۔انھوں نے کہا نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے لیے بلدیاتی اور صوبائی انتخابات کا جلد انعقاد کیا جائیگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیس اصلاحات کے تحت لیویز، خاصہ دار فورس کے تمام خدشات دور اور جاب سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔

فوری انصاف کے لیے تنازعات کے حل کی کونسل کا نظام اور تمام مسائل مشاورت سے حل کرنے، ضلع شمالی وزیرستان اور ضلع جنوبی وزیرستان میں الگ الگ میڈیکل کالج و اسپتال، ضلع شمالی وزیرستان میں یونیورسٹی، آرمی کیڈیٹ کالج قائم کیے جائیںگے۔ عمران خان نے مقامی افراد کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈ کے اجراء،ا سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی پوری کرنے کے لیے ٹیلی میڈکس سسٹم قائم کیا جائیگا۔

حقیقت یہ ہے کہ فاٹا انضمام کے بعد سے خیبرپختونخوا حکومت نے زیر التوا اصلاحات پر فوری عملدرآمد کرنے کے جس سلسلہ کا آغاز کیا ہے اسے ہمہ جہتی سماجی، تعلیمی، قانونی، اقتصادی اور انسانی آبادکاری و بحالی کے تناظر میں مثالی انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچنا چاہیے، فاٹا کے عوام سے ہمدردی، ایثار اور تعاون و امداد میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، اس علاقے کے عوام نے ملکی دفاع کے لیے غیر معمولی حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم کے اعلانات پر جلد عملدرآمد ہو، فاٹا کے عوام کو تمام آئینی حقوق حاصل ہوں، جنگ سے متاثرین کی بحالی کا کام فوج کی نگرانی میں جتنا مکمل ہوا ہے اب سیاسی قیادت اسے تکمیل تک پہنچائے تاکہ فاٹا کو ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جا سکے۔

 
Load Next Story