اقصیٰ اور عمر حیات کی بیوی کو جلد بازیاب کرالیں گے صوبائی وزیر قانون

سی سی پی اومیری بیٹی کوبازیاب کرائیں،وارث،پولیس والے ریڈکرنے گئے توہمیںساتھ نہیںلے کرگئے، فرزانہ باری

اقصیٰ کوجلدبازیاب کرالیاجائیگا،ایس ایس پی انویسٹی گیشن،اہلکارپیسوںکاتقاضاکرتے رہے، قلی عمرحیات،تکرارمیں عمران خان سے گفتگو فوٹو: فائل

انسانی حقوق کے صوبائی وزیرخلیل طاہرسندھونے کہاہے کہ 14سالہ اقصیٰ کے اغواکے بعداب معاملات آگے بڑھے ہیں اور انشااللہ بہت جلداقصیٰ اورعمرحیا ت(قلی) کی بیوی کو بازیاب کرالیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرارمیں میزبان عمران خان سے گفتگومیں انھوںنے کہاکہ بعض علاقوںمیں بین الصوبائی اغواکاروں کے گروہ سرگرم ہیں جو سادہ لوح اور معصوم لوگوںکو تاوان کیلیے اغواکرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے پہلے بھی اس کانوٹس لیا اور ان گروہوںکے خلاف بڑا آپریشن کرکے بہت سے لوگوں کو گرفتارکیاگیا۔ اب بھی ایسے ہی آپریشن کی تیاری کررہے ہیں۔ ہماری ترجیحات میں شامل ہے کہ پولیس کلچر کو تبدیل کیا جائے اور جن لوگوں کا کوئی نقصان ہوتاہے ان کے ساتھ منفی سلوک نہ ہو، نہ مذاق اڑایاجائے۔ بعض بین الصوبائی گروہ بہت طاقتورہوتے ہیں اور ان کی مکمل چھان بین کے بعدہی کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اقصیٰ کی بازیابی کے حوالے سے سی سی پی او نے 3 دن کا ٹائم دیاتھا۔ وہ بہت محنتی اورقابل شخص ہیں۔ کسی قانونی پیچیدگی کی وجہ سے تاخیرہوئی ہے۔ جہاں تک اقصیٰ کے اغواکاروںکی طرف سے اس سے نکاح کے دعوے کی بات ہے تو 13سالہ بچی کانکاح نہیںہوتا۔ میں عمرحیات کی بیوی کے حوالے سے ایس ایچ اوحافظ عثمان سے پوچھوں گاکہ انھوںنے اغواکا مقدمہ درج کیوں نہیںکیا۔ اقصیٰ کے والدوارث نے کہاکہ میں سی سی پی اوسے اپیل کرتاہوں، خدا کے لیے میری بیٹی کو بازیاب کرایاجائے۔ اقصیٰ کی والدہ عشرت وارث نے کہاکہ پولیس والے ریڈکرنے توگئے لیکن ہمیںساتھ نہیںلے کرگئے۔ تفتیشی افسر محمداسلم خان نے کہاکہ ہم اس وقت سندھ کے دورافتادہ علاقے میںہیں جہاں ہم نے مقامی ڈی ایس پی سے بھی ملاقات کی ہے اور اگلے چندگھنٹوں میں ریڈ مارنے کے لیے نکلنے والے ہیں۔




ایس ایس پی انویسٹی گیشن عبدالرب چوہدری نے کہاکہ اقصیٰ کو اغوا کرنے والے شخص سے میں نے بھی بات کرنے کی کوشش کی تھی۔ کال اٹینڈ ہوتی ہے لیکن وہ آگے سے ٹھیک طرح بات نہیں کرتا۔ میری مقامی ایس پی سے بات بھی ہوئی ہے۔ انشااللہ بہت جلد اقصیٰ کو بازیاب کرالیا جائے گا۔ انسانی حقوق کی علمبردار فرزانہ باری نے کہاکہ اقصیٰ کاکیس ہمارے سارے سسٹم کو ایکسپوز کررہا ہے۔ جرم کی پوری طرح سائنٹیفک طریقے سے تحقیقات کرنی چاہئیں۔ لاہوراسٹیشن پرقلی کاکام کرنے والے عمرحیات نے کہاکہ میری بیوی سرگودھامیں اپنے میکے سے واپس لاہورآرہی تھی کہ بعض نامعلوم افرادنے اسے اغواکرلیا۔ ڈھونڈنے کے باوجود میری بیوی کاکچھ پتانہ چلا پھرایک دن فون آیاکہ تمہاری بیوی ہمارے پاس ہے۔ 5لاکھ دے دو، تمہاری بیوی کو چھوڑ دیں گے۔

میں نوازشریف اور شہبازشریف کو ان کے بچوں کا واسطہ دیتاہوںکہ میری بیوی کو رہاکرائیں۔ میں غریب آدمی ہوں 5لاکھ کہاں سے لائوں۔ میں تھانے گیا تو ایس ایچ اونے کہاکہ تم نے خود اپنی بیوی کو 2لاکھ میں بیچاہے۔ پھر پولیس والے کبھی 10تو کبھی 15ہزارکا تقاضا کرتے رہے۔ جس نمبرسے فون آتاہے میں نے ایس ایچ اوکی اس نمبرپر بات بھی کرائی مگر انھوںنے نمبرٹریس نہیں کیا۔ پھر میں نے اپنے طور پر ہی نمبرکا ایڈریس نکلوایا۔ نمبر صداقت پروین کے نام پرہے، میرپورماتھیلو گھوٹکی کا ایڈریس ہے۔ پونے2ماہ ہونے کوآئے، میری بیوی کاکچھ پتانہیں ہے۔ میری 3 بیٹیاں ہیں جواپنی ماں کی عدم موجودگی میں سونہیں پاتیں۔
Load Next Story