گیس لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی نوید

حکومت اس بات پر پورے یقین و اعتماد کے ساتھ پیش رفت کا عزم رکھنے کی دعویدار ہے کہ عوام کو جلد معاشی ریلیف دیا جائے گا۔

حکومت اس بات پر پورے یقین و اعتماد کے ساتھ پیش رفت کا عزم رکھنے کی دعویدار ہے کہ عوام کو جلد معاشی ریلیف دیا جائے گا۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
ملکی معیشت کی درست سمت میں پیش قدمی اور عوام کے ناگزیر معاشی خوابوں کی معقول تعبیر کا جلد یا جزوی حصول پی ٹی آئی حکومت کے لیے بلاشبہ مشکل ترین ٹاسک بن گیا ہے تاہم حکومت اس بات پر پورے یقین و اعتماد کے ساتھ پیش رفت کا عزم رکھنے کی دعویدار ہے کہ عوام کو جلد معاشی ریلیف دیا جائے گا اور بنیادی ضرورتوں کی فراہمی مثلًا پانی، بجلی ،گیس ، سی این جی اور مہنگائی و غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ بنائے جا چکے ہیں جس سے محروم طبقات کے روز و شب کی مشکلات میں بتدریج کمی آئیگی اور معیشت ہر قسم کے بحران سے نکل جائے گی۔

اس حوالہ سے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ نہ کرنے اور روٹی تندوروں پرگیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کا اطلاق نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو عوامی نوعیت کا ایک اہم قدم ہے ، اس فیصلہ سے نان بائیوں کی جانب سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے جس سے عوام کوروٹی8 روپے اور نان 10روپے میں ملے گا۔

واضح رہے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے گزشتہ دنوں روٹی اور نان کی گراں قیمتوں کے حوالہ سے نئے پاکستان کا جو نقشہ کھینچا تھا موجودہ پیش رفت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم کو عوامی ریلیف اور حکومت کے 100 دنوں کے علامتی سنگ میل پر قوم کو اعتماد میں لینے کی کتنی زیادہ ضرورت پیش آرہی ہے، اوراب وزیراعظم عمران خان قوم کے سامنے اہم معاشی اہداف کا اعلان کریں گے ۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں چار نکاتی ایجنڈے پر غورکیا گیا، سیکریٹری پٹرولیم ڈویژن نے موسم سرما کے لیے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان سے متعلق تفصیلی بریفنگ کے بعد فیصلہ کیا کہ سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی اور صارفین کو گیس کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھی جائے گی۔

یہ اصولی طورپربروقت فیصلہ ہے کیونکہ موسم سرما میں گیس کی ضروریات پورے ملک میں بڑھ جاتی ہیں، بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کے دیگر سرد مقامات پر گیس ہیٹرز،گیزر اور کچن میں اشیائے خور ونوش کی تیاری میں گیس کے استعمال کے عام معمولات قدرے غیر معمولی ہوجاتے ہیں جب کہ ملک بھر میں ہوٹلز ، ریسٹورنٹ ، کیفے اور فوڈا سٹریٹس میں گھریلو صارفین سے الگ گیس استعمال ہوتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو عوام دہری مشکل میں پھنس گئے کیونکہ گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ متوازی سمتوں میں جاری تھی جب کہ لوڈ شیڈنگ کے باعث پانی کی موٹریں بند ہوجانے سے شہروں میں پانی کی فراہمی کا نظام چوپٹ ہوجایا کرتا تھا۔


آج بھی کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں اور دیہی علاقوں میں پانی ، بجلی اور گیس کی قلت سے گھریلو خواتین کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں، چنانچہ اس مسئلہ کے تدارک کے لیے ای سی سی نے گیس کا لوڈ manageکرنے کے لیے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کوگھریلو و کمرشل صارفین کے استعمال کے لیے آر ایل این جی سسٹم میں شامل کرنے کی اجازت دیدی ہے،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیاکہ گیس قیمتوں میں حالیہ اضافہ کا اطلاق روٹی لگانے والے تندوروں پر نہیں ہوگا اور روٹی تندور مالکان سابقہ نرخوں کے مطابق اپنے گیس بلوں کی ادائیگی کریں گے۔

حقیقت میں دال روٹی کلچر پاکستان کے غریب اورمتوسط طبقات کی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے، آجکل پورے ملک میں جگہ جگہ پراٹھا چائے کلچر ایک متبادل بریک فاسٹ سہولت کے طور پر سامنے آیا ہے، دھابے ، چھوٹے ہوٹل اور نان بائیوں کی مشترکہ کاوشوں سے عام مزدور صبح چائے پراٹھا استعمال کرتے ہیں جس سے گیس کی ڈیمانڈ ملک گیر ہوئی ہے، گیس کی قلت یا لوڈ شیڈنگ ناقابل برداشت اذیت میں بدل جاتی ہے، حالیہ دنوں میں ملکی برآمدات میں کمی کا ایک سبب گیس کی مطلوبہ مقدار میں عدم فراہمی ہے۔

لہذا سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے ۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ای سی سی نے روٹی تندوروں پرگیس قیمتوں میں حالیہ اضافہ کا اطلاق نہ کرنے کا فیصلہ نان بائیوں کی وجہ سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے جو صائب اقدام ہے۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی کو اپنے دو پاور پلانٹس کی باقی ماندہ لاگت پوری کرنے کے لیے اسلامک فنانسنگ کے تحت پاور ہولڈنگ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے38 ارب روپے کا قرضہ حاصل کرنے کے لیے حکومتی گارنٹی فراہم کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے۔

میڈیا کے مطابق یکم دسمبر سے تندوروں کو پرانے ٹیرف پر گیس ملے گی جو مہنگائی میں پسے عوام کے لیے خوشخبری ہے، روٹی اور نان کی پرانی قیمت بحال ہو جائیں گی، روٹی 10 سے کم ہوکر 8 روپے اور نان 15 سے کم ہوکر 10 روپے میں ملے گا۔ اسی قسم کے عوامی اقدامات زندگی کے دیگر شعبوں تک وسیع ہونے چاہئیں۔ تب ہی معاشی تبدیلی سب کو نظر آئیگی۔
Load Next Story