پانی کے 44 نمونوں میں کلورین نہیں محکمہ صحت کی رپورٹ

546 نمونوں میں کلورین کی مقدار کم تھی، ٹینک میں موجود کائی میں نگلیریا جنم لیتا ہے

ٹاؤنز کو کلورین کی گولیاں دینگے، گرمیوں میں نگلیریا زیادہ فعال ہوتا ہے، امداد اللہ صدیقی فوٹو: رائٹرز/فائل

شہر میں نگلیریا سے 3 اموات کے باوجود شہریوں کو فراہم کیے جانے والے پانی میںکلورین کی مطلوبہ مقدار یقینی نہیں بنائی جاسکی۔

محکمہ صحت کی نگلیریا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق شہر کے بیشتر علاقوں کے پانی میں کلورین کی مقدارکم یا بالکل نہیں ہے جبکہ بعض علاقوں میں کلورین کی مقدار زیادہ پائی گئی ہے ،مئی سے 28 جون تک کراچی کے مختلف علاقوں سے پانی کے مجموعی طورپر 1445 پانی کے نمونے حاصل کیے گئے نمونوں کے کیمیائی تجزیے کے دوران معلوم ہوا کہ 44 پانی کے نمونوں میں کلورین ہے ہی نہیں جبکہ 546 پانی کے نمونوں میں کلورین کی مقدار 0.25 پی پی ایم سے کم پائی گئی جبکہ 855 میں کلورین کی مقداردرست تھی۔

یہ رپورٹ محکمہ صحت نے مرتب کی ہے جو متعلقہ حکام کو بھیج دی گئی ہے، نگلیریاکمیٹی کے رکن نے بتایا کہ پانی کے ٹینکوں کو صاف رکھا جائے کیونکہ پانی کے ٹینکوں اور ٹنکیوں میں مختلف جرثومے جنم لیتے ہیں جس میں نگلیریا بھی شامل ہے، پانی کے ٹینک کی تہہ میں موجودکائی کوصاف کرنے سے نگلیریاکا جرثومہ ختم ہوجاتا ہے۔




اس سلسلے میں ماہرین طب نے بتایا کہ نگلیریا کا جرثومہ پانی میں اپنی خوراک دوسرے جرثومے کھا کر حاصل کرتا ہے اگر پانی کے ٹینک صاف ہوتو پریشانی کی کوئی بات نہیں، نگلیریا سے محفوظ رہنے کیلیے کوریا میں بننے والی گولیاں عوام کو فراہم کی جائیں، وضو کیلیے بھی پانی کوابال کراستعمال کیاجائے تو بہتر ہوگا، ادھرکراچی کے کسی بھی ٹاؤن میں عوام کو نگلیریا سے بچاؤکی گولی میسر نہیں جبکہ کہا جارہا تھا کہ نگلیریا سے بچاؤکی کلورین گولیاں ٹاؤنز کی سطح پر عوام کو فراہم کی جائیں گی۔

ای ڈی او صحت ڈاکٹر امداد اللہ صدیقی نے کہا ہے کہ کلورین کی گولیاں پیر سے ٹاؤنز کو فراہم کردی جائیں گی، گرمیوں میں فعال ہونے والے نگلیریا جرثومہ سے شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلیے پانی کی مماثلت (سیمپلنگ) جاری ہے، ترجیحی طور پر کچی آبادیوں پر توجہ دی جارہی ہے جہاں اس جراثیم کے پیدا ہونے کے خطرات زیادہ ہیں،شہرکی تمام آبادیوں میں پانی کے ذخائر سے نمونے حاصل کیے جارہے ہیں، نگلیریا سے حفاظتی تدابیرکے ذریعے بچاجاسکتا ہے، تمام سوئمنگ پولزکی صفائی اوران میں کلورین کی مناسب مقدار ڈالنے کاانتظام کر رہی ہے نگلیریا سے بچاؤ کیلئے ہر ممکن احتیاط برتی جائے پانی کے زیر زمین اوراوورہیڈ ٹینک کی صفائی کرائی جائے ٹینک کی تہہ میں موجودکائی کوصاف کرنے سے نگلیریا کا جرثومہ ختم ہوجاتا ہے۔
Load Next Story