پی ٹی آئی 100 دن کا مقدمہ

اپوزیشن نے حکومت کے100روزہ منصوبے کے سلسلے میں حکومت کے پہلے سودن کی کارکردگی کو مایوس کن قراردیا ہے۔

اپوزیشن نے حکومت کے100روزہ منصوبے کے سلسلے میں حکومت کے پہلے سودن کی کارکردگی کو مایوس کن قراردیا ہے۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے گزرے ہوئے 100 دنوں کا پورا ایجنڈا قوم کے سامنے پیش کردیا ہے ۔ سیاسی و معاشی مبصرین کے نزدیک وزیراعظم کی تقریر ان کے عہد حکومت کا ایک امید افزا ابتدائیہ ہے، جس کے بادی النظر میں ان کی پوری پانچ سالہ آئینی میعاد کا ایک منظم و مربوط رول ماڈل پیش کیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم نوکری سے نہ نکالاجائے، شوگر ملزکے مسائل کے حل کے عمل کے دوران گنے کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں 8 نکاتی ایجنڈا زیرغور آیا، اجلاس میں وزارتوں اور وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومتی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے سو روز میں بھر پورکام کیا ہے، مالی مشکلات پر قابو پا لیا ہے جب کہ کابینہ پاکستان کو آگے لیکر جانے کے لیے محنت جاری رکھے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی سمت طے کردی ہے، پاکستان کی خود مختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،کرتار پور سرحد کھول کر ہم نے پرامن ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزارت خارجہ کی 100روزہ کارکردگی رپورٹ جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ پاک چین اسٹرٹیجک تعلقات میں استحکام آیا اور سعودی عرب سے قابل ذکر اقتصادی پیکیج اور سرمایہ کاری میں تعاون ملا۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اولین قدم کے طور پر حکومت کے پہلے 100روز میں راستے کا تعین کردیا جس میں ابتدائی پیش رفت کے تحت ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لیے سوئٹزرلینڈ سمیت 26ممالک سے معاہدے کرلیے ہیں،375 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے،پاکستانیوں کے 11ارب ڈالر کے غیرملکی قانونی اثاثوں کا سراغ لگایا ہے، دبئی نے اقامہ رکھنے والوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات نہیں دیں، ابھی مزید بڑی بڑی چیزیں سامنے آرہی ہیں،کرپشن اور غربت کے خاتمے کے لیے اتھارٹی تشکیل دے رہے ہیں، غریبوں کے لیے اخوت پروگرام کے تحت 5 ارب روپے تفویض کردیے گئے ہیں، چھوٹے کسان کے لیے لاہور میں بڑی سبزی منڈی کا افتتاح کریں گے۔

ملک میں سیاحت کو فروغ دے کر غربت کو ختم کرنے کی بھرپورکوشش کریں گے، ہر غریب کو صحت کارڈ فراہم کیا جائے گا، جو نیب کرتا ہے ہم اس کے ذمے دار نہیں، ہمارا نیب پرکوئی اختیار یاکنٹرول نہیں، 100روزہ کارکردگی کا کریڈٹ بشریٰ بیگم کو دیتا ہوں، سردار عثمان بزدار سادہ آدمی ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 40لاکھ بچوں کو خصوصی پروگرام کے تحت غذائی قلت کے مسئلے سے نکالیں گے۔

اپوزیشن نے حکومت کے100روزہ منصوبے کے سلسلے میں حکومت کے پہلے سودن کی کارکردگی کو مایوس کن قراردیا ہے ، مسلم لیگ (ن)نے حکومت کے سو روزکے پلان کو ملک کے لیے بد نامی اور شرمندگی کا باعث قرار دیدیا ۔ مریم اورنگ زیب نے وزیر اعظم کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی تقریر عذرگناہ ، بدتر ازگناہ تھی ، سو دن کی کارکردگی بتانے کے بجائے آئندہ سو دن کا پروگرام دے دیا ، حکومت کے100دن عوام کے لیے100اذیت ناک دن تھے، قوم انتظارکرتی رہی کہ وہ کارکردگی کہاں ہے؟


وزیراعظم بھینسوں کے بعد اب کٹّے، دیسی مرغیوں، جھینگوں اور اسلامی ٹورازم سے ملکی معیشت ٹھیک کریں گے ،''سو دن سوناکامیوں'' کا اصل حقائق نامہ مسلم لیگ (ن) کل جاری کرے گی۔ پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کی 100روزہ کارکردگی کو شدید تنقیدکا نشانہ بنایا ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئیٹر پرحکومت کا ہی اشتہار ترمیم کے بعد ٹوئٹ کیا جس میں لکھا تھا کہ ہم مصروف تھے یوٹرن لینے میں، نیا پاکستان ، 100 دن اور 100 یوٹرن ۔ ترجمان بلاول بھٹو زرداری کے مطابق وزیراعظم کا حکومت کے سو دن مکمل ہونے پر خطاب غیرمتاثرکن تھا، سو دن حکومت میں رہنے کے بعد بھی عمران خان کے پاس بتانے کوکچھ نہیں تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 1970 میں ایک غلط فیصلہ ہوا جب بڑے کاروباری اداروں کو نیشنلائز کیا گیا ( یہ حوالہ بھٹوکی صنعتوں اور نجی اداروں کو قومی تحویل میں لینے کی پالیسی کو مسترد کرنے سے متعلق تھا)۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 100 دنوں کے حوالے سے کہا کہ وزارت خارجہ نے 100 روز میں مفاہمت کی19یادداشتوں پر دستخط کیے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد ارباب نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے سو دنوں میں36 میں سے 18 اہداف حاصل کیے ہیں۔ پانی کے تحفظ اور خوراک کے تحفظ کے لیے بنیادی کردار ادا کریں گے۔

سوشل پروٹیکشن پروگرام سے دوکروڑ افراد کو غربت سے نجات ملے گی۔ جنوبی پنجاب کا تحریک انصاف نے نہ صرف وعدہ بلکہ عزم بھی کر رکھا ہے۔ 30 جون 2019 سے پہلے جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکریٹریٹ بنا دیا جائے گا۔ فاٹا کا مرحلہ وار انضمام ابھی جاری ہے۔ بلوچستان کے عوام میں اجنبیت کا احساس ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کی قیادت سے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیے جا رہے ہیں ۔

اسد عمر نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول مہنگا نہیں بلکہ سستا کریں گے، پٹرول کی قیمت میں دسمبر تک کمی ہوگی، چین سے حاصل قرضوں کی تفصیلات آئی ایم ایف کو دے دیں گے، ٹیکس چوروں کا ڈیٹا نکال لیا گیا اب کارروائی شروع کر رہے ہیں۔یہ بات انھوں نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ انھوں نے یو ٹرن کے سیاسی جوازکے دفاع میں کہا کہ قوم کی بہتری کے لیے یوٹرن لینا ہو تو وزیراعظم یوٹرن لینے کو تیار ہیں، ادھر جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے مخصوص ایجنڈے پرکام کررہی ہے، متحدہ مجلس عمل نے قرار دیا ہے کہ حکومت سو دن میں کسی بھی اہم مسئلے بھی پیشرفت نہیں کرسکی۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ چہروں کی نہیں، نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے، حکومت یو ٹرن کے بجائے رائٹ ٹرن لے تاکہ صراط مستقیم پر چل سکے۔ عوام بتائیں حکومت کے سو دن کیسے گزرے۔ سو دن میں بیش بہا مہنگائی، بیروزگاری، افراتفری اور وعدہ خلافیوں میں اضافہ ہوا ۔

وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے سو دن کا کریڈٹ اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دیدیا۔ سودن میں پہلی چھٹی ہفتے کو لی۔ اس لیے اصل میں انھیں خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ کتنی مشکل گھریلو زندگی رہی ہے۔

اگر حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو پی ٹی آئی حکومت نے زبردست سیاسی حکمت عملی سے اپوزیشن کی تنقید کاکامیابی سے جواب دیا ہے اور اپوزیشن کے اس نکتہ چینی کا بھی موثر طور پر جواب پیش کیا ہے کہ سو دنوں کے بے سمت اور جھوٹ و یو ٹرن پر مبنی اقدامات اور دعوے لایعنی ثابت ہوئے ہیں، بہرکیف اپوزیشن جماعتیں ایک مربوط اور متاثرکن مزاحمتی اسٹرٹیجی بنانے سے بوجوہ گریز پا رہیں، اس لیے جو اسپیس پی ٹی آئی حکومت اور اس وزرا کو ملا اس میں ناتجربہ کاری اور اناڑی پن کے باوجود وزرا نے اپنے کمزور ، غیر فعال اور ادھورے اقدامات کی ''سنچری کہانی'' نپے تلے انداز میں پیش کی ہے۔

تجزیہ کار وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو بریک تھرو سے تعبیر نہیں کر رہے، بیشتر ٹی وی ٹاکس میں ''کیا ہوا تیرا وعدہ ؟'' کے ردھم پر نغمہ سرا ہیں ، جب کہ ن لیگ اور پی پی کے کئی تیر نیم کش حکومت کی کمیں گاہوں پر پھینکے گئے مگر تاثر یہی ہے کہ میڈیا پر عمران حکومت کا پوسٹ مارٹم کرنے میں اپوزیشن نے دیرکردی ، اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت کے سو دنوں پر اپوزیشن کا وائٹ پیپرکیا رنگ جماتا ہے۔
Load Next Story