پی سی بی اور فرنچائزز میں سرد مہری کم ہونے لگی

پیرکوڈیڈلائن کے خاتمے سے قبل بعض ٹیمیں مکمل فیس جمع کرانے پر آمادہ

چند نے بغیر ٹیکس کے ادائیگی،گارنٹی منی کی واپسی جیسے مطالبات دہرا دیے فوٹو: فائل

پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز میں سرد مہری کم ہونے لگیں، ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل بعض ٹیمیں مکمل فیس جمع کرانے پر آمادہ ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 14 نومبر کو انوائس جاری کرتے ہوئے فیس کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا مگر کسی فرنچائز نے اس پر عمل نہیں کیا، ان کا مطالبہ تھا کہ ٹیکس میں چھوٹ دی جائے، وہ ٹائٹل اسپانسر شپ سمیت دیگر معاہدوں کا زیادہ شیئر بھی چاہتے ہیں،پی سی بی نے3 دسمبر کی دوپہر 2 بجے تک کا وقت دیتے ہوئے ٹیموں کو دھمکی دی کہ اگر فیس نہ بھری تو بینک گارنٹی کیش کرا لیں گے۔


ذرائع نے بتایا کہ گوکہ فرنچائزز نے آپس میں طے کیا تھا کہ کوئی بھی بورڈ کی دھمکیوں میں نہیں آئے گا اور جب تک 26 فیصد ٹیکس کے معاملات حل نہیں ہوتے ادائیگی نہیں کی جائے گی، مگراب بعض ٹیموں نے بورڈ کو فیس دینے کا یقین بھی دلا دیا ہے،2 فرنچائزز نے بینک گارنٹی واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا تاکہ پھر وہی رقم فیس کی ادائیگی میں کام آئے، البتہ فی الحال پی سی بی ایسا کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔

بعض کی خواہش ہے کہ بغیر ٹیکس کے فیس لی جائے، اسی کے ساتھ ڈالر کے ریٹ پر بھی تنازع ہے۔ گزشتہ روز ڈالر ایک موقع پر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح142 تک بھی پہنچ گیا تھا، جس وقت فرنچائزز فروخت ہوئیں وہ 105 روپے کا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بورڈ سے یہ بھی کہاگیاکہ وہ سابقہ ڈالر ریٹ کے حساب سے فیس لے مگر اسے بھی تسلیم نہیں کیا گیا، فرنچائزز کا یہ کہنا ہے کہ اگر پی سی بی نے ان کی بات نہ سنی تو وہ جلد دیوالیہ ہو جائیں گی، چیئرمین احسان مانی نے مطالبات پر غور کا یقین دلایا ہے مگر ساتھ ہی وہ چاہتے ہیں کہ فرنچائزز ابتدائی مرحلے میں فیس ادا کر دیں۔
Load Next Story