قطر سے ایل این جی معاہدہ غیر قانونی نظر ثانی پر غور کر رہے ہیں وزیر پٹرولیم
قطرکی نسبت پاکستان کو ترکمانستان، ایران سے کہیں سستی گیس مل سکتی تھی، غلام سرور خان
قطرکی نسبت پاکستان کو ترکمانستان، ایران سے کہیں سستی گیس مل سکتی تھی، غلام سرور خان۔ فوٹو:فائل
وفاقی وزیر پٹرولیم وقدرتی وسائل غلام سرورخان نے الزام عائد کیا کہ سابق دورحکومت میں قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدہ غیرقانونی ہے جس پر نظر ثانی کیلیے غورکررہے ہیں۔
پٹرولیم ہاؤس میں پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر پٹرولیم وقدرتی وسائل غلام سرور خان نے کہا کہ وزارت کے ماتحت اس وقت 14 کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں 5 کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈجبکہ 9 غیر رجسٹرڈ ہیں۔
غلام سرور خان نے کہا کہ قطرکی نسبت پاکستان کو ترکمانستان، ایران سے کہیں سستی گیس مل سکتی تھی۔ ہماری ترجیح تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ ہے۔
پٹرولیم ہاؤس میں پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر پٹرولیم وقدرتی وسائل غلام سرور خان نے کہا کہ وزارت کے ماتحت اس وقت 14 کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں 5 کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈجبکہ 9 غیر رجسٹرڈ ہیں۔
غلام سرور خان نے کہا کہ قطرکی نسبت پاکستان کو ترکمانستان، ایران سے کہیں سستی گیس مل سکتی تھی۔ ہماری ترجیح تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ ہے۔