وزیراعظم نواز شریف کی درست ترجیحات
بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی اس اعتبار سے بھی درکار ہے کہ پاکستان توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے بھارت سےبجلی بھی۔۔۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی اس اعتبار سے بھی درکار ہے کہ پاکستان توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے بھارت سے بجلی بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ فوٹو:فائل
SIALKOT:
وزیر اعظم نواز شریف نے ہفتہ کو پی ایم ہاؤس میں پاک بھارت مشترکہ بزنس کونسل کے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ ''مسلم لیگ (ن) گزشتہ ادوار حکومت میں بھارت کے ساتھ دوستی اور تعاون کی پالیسی پر گامزن رہی ہے اور خطے میں امن اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے دوستی کی یہ پالیسی جاری رہے گی'' اس کے ساتھ ہی پاک چین تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ''چین سے تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون لیکن دونوں ممالک کے یہ تعلقات کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ یہ پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔''
نواز شریف کی حکومت کے گزشتہ دور میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی حتیٰ کہ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاک بھارت دوستی بس میں بیٹھ کر واہگہ بارڈر کے راستے نہ صرف لاہور آئے تھے بلکہ مینار پاکستان پر جا کر انھوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے اور بھارت اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم اتنی اہم پیشرفت کو بعض عناصر نے پر تشدد مظاہروں سے ناکام بنانے کی کوشش کی اور پھر کارگل کے واقعے نے نوازشریف حکومت کی کامیابی کو مکمل ناکامی میں تبدیل کر دیا۔ اس اعتبار سے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ نے بھارت سے تعلقات کا آغاز اسی نکتے سے شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے جہاں سے بات ختم ہوئی تھی۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی اس اعتبار سے بھی درکار ہے کہ پاکستان توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے بھارت سے بجلی بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مزید براں بھارت کے ساتھ تجارت سے پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے بالخصوص ایسی صورت میں جب اسمگلنگ کے ذریعے روز اول سے ہی بھارتی اشیا ء کی پاکستان آمد اور ہماری چیزوں کا سرحد پار جانا روٹین میں جاری ہے لیکن پاکستان کے قومی خزانے میں کوئی ریونیو داخل نہیں ہوتا۔ اور وہی لوگ جو اس ذریعے سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں' وہ بھلا معاملات کو قاعدے قانون کے ضابطے میں لایا جانا کیونکر قبول یا برداشت کریں گے۔
پاک انڈیا مشترکہ کونسل کے زیراہتمام بھارتی تاجروں کے دورے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ دونوں جانب اکھٹے بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اجلاس کو بتایا کہ انھوں نے وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کو بھارت کا دورہ کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے بھارتی تاجروں کو بتایا کہ ہمیں ملک میں بجلی کی قلت کا سامنا ہے اور اس شعبے میں کوئی بھی تعاون ہمیں اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے درمیان رابطے بڑھا کر ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، بھارت تجارت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔
وزیر اعظم کے دورۂ عوامی جمہوریہ چین کے حوالے سے چائنیز میڈیا کا ایک خصوصی وفد وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے لیے یہاں آیا ہوا ہے جس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، چین کے ساتھ توانائی، تعمیرات اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں تعاون کا خواہاں ہے، میرے دورۂ چین سے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا، پاکستان کی تاجر برادری چین کے ساتھ اعلیٰ سطح پر کام کرنا چاہتی ہے، پاک چین تعلقات پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان آ کر توانائی کے شعبے میں کام کریں، چینی کارکنوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، معیشت اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے کہا کہ جلد ہی کراچی سے پشاور 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز رفتار ٹرین چلائی جائے گی، جیسی چین میں بیجنگ سے شنگھائی کے لیے چل رہی ہے۔
ڈرون حملوں کے بارے سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملوں سے پاکستان میں منفی رائے پیدا ہو رہی ہے اور اس کے بارے میں بین الاقوامی قوانین بھی بالکل واضح ہیں، ڈرون ہماری فضائی حدود اور ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بھارت اور چین پاکستان کے ہمسائے ہیں' وقت آ گیا ہے کہ پاکستان ایسی خارجہ پالیسی اپنائے جس کے تحت دونوں ہمسایوں سے اچھے تعلقات قائم رہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان اختلافات موجود ہیں' اسی طرح چین اور بھارت میں بھی اختلافات ہیں' ان اختلافات کے باوجود بھارت اور چین ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں اور اس کا حجم اربوں روپے ہے۔یہ دونوں ملک اختلافی امور پر مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان کو بھی انھی خطوط پر خارجہ پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار تجارتی تعلقات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہو گا' پاکستان اگر بھارت سے بجلی حاصل کرتا ہے تو یہ ایک اچھا فیصلہ ہے ۔یہ امر خوش آیند ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنی سمت کا تعین کر لیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی ترجیحات اور سوچ واضح ہے' اگر انھوں نے اپنے ویژن کو عملی شکل دے دی تو پھر پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے ہفتہ کو پی ایم ہاؤس میں پاک بھارت مشترکہ بزنس کونسل کے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ ''مسلم لیگ (ن) گزشتہ ادوار حکومت میں بھارت کے ساتھ دوستی اور تعاون کی پالیسی پر گامزن رہی ہے اور خطے میں امن اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے دوستی کی یہ پالیسی جاری رہے گی'' اس کے ساتھ ہی پاک چین تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ''چین سے تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون لیکن دونوں ممالک کے یہ تعلقات کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ یہ پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔''
نواز شریف کی حکومت کے گزشتہ دور میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی حتیٰ کہ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاک بھارت دوستی بس میں بیٹھ کر واہگہ بارڈر کے راستے نہ صرف لاہور آئے تھے بلکہ مینار پاکستان پر جا کر انھوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے اور بھارت اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم اتنی اہم پیشرفت کو بعض عناصر نے پر تشدد مظاہروں سے ناکام بنانے کی کوشش کی اور پھر کارگل کے واقعے نے نوازشریف حکومت کی کامیابی کو مکمل ناکامی میں تبدیل کر دیا۔ اس اعتبار سے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ نے بھارت سے تعلقات کا آغاز اسی نکتے سے شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے جہاں سے بات ختم ہوئی تھی۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی اس اعتبار سے بھی درکار ہے کہ پاکستان توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے بھارت سے بجلی بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مزید براں بھارت کے ساتھ تجارت سے پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے بالخصوص ایسی صورت میں جب اسمگلنگ کے ذریعے روز اول سے ہی بھارتی اشیا ء کی پاکستان آمد اور ہماری چیزوں کا سرحد پار جانا روٹین میں جاری ہے لیکن پاکستان کے قومی خزانے میں کوئی ریونیو داخل نہیں ہوتا۔ اور وہی لوگ جو اس ذریعے سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں' وہ بھلا معاملات کو قاعدے قانون کے ضابطے میں لایا جانا کیونکر قبول یا برداشت کریں گے۔
پاک انڈیا مشترکہ کونسل کے زیراہتمام بھارتی تاجروں کے دورے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ دونوں جانب اکھٹے بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اجلاس کو بتایا کہ انھوں نے وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کو بھارت کا دورہ کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے بھارتی تاجروں کو بتایا کہ ہمیں ملک میں بجلی کی قلت کا سامنا ہے اور اس شعبے میں کوئی بھی تعاون ہمیں اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے درمیان رابطے بڑھا کر ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، بھارت تجارت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔
وزیر اعظم کے دورۂ عوامی جمہوریہ چین کے حوالے سے چائنیز میڈیا کا ایک خصوصی وفد وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے لیے یہاں آیا ہوا ہے جس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، چین کے ساتھ توانائی، تعمیرات اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں تعاون کا خواہاں ہے، میرے دورۂ چین سے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا، پاکستان کی تاجر برادری چین کے ساتھ اعلیٰ سطح پر کام کرنا چاہتی ہے، پاک چین تعلقات پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان آ کر توانائی کے شعبے میں کام کریں، چینی کارکنوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، معیشت اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے کہا کہ جلد ہی کراچی سے پشاور 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز رفتار ٹرین چلائی جائے گی، جیسی چین میں بیجنگ سے شنگھائی کے لیے چل رہی ہے۔
ڈرون حملوں کے بارے سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملوں سے پاکستان میں منفی رائے پیدا ہو رہی ہے اور اس کے بارے میں بین الاقوامی قوانین بھی بالکل واضح ہیں، ڈرون ہماری فضائی حدود اور ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بھارت اور چین پاکستان کے ہمسائے ہیں' وقت آ گیا ہے کہ پاکستان ایسی خارجہ پالیسی اپنائے جس کے تحت دونوں ہمسایوں سے اچھے تعلقات قائم رہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان اختلافات موجود ہیں' اسی طرح چین اور بھارت میں بھی اختلافات ہیں' ان اختلافات کے باوجود بھارت اور چین ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں اور اس کا حجم اربوں روپے ہے۔یہ دونوں ملک اختلافی امور پر مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان کو بھی انھی خطوط پر خارجہ پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار تجارتی تعلقات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہو گا' پاکستان اگر بھارت سے بجلی حاصل کرتا ہے تو یہ ایک اچھا فیصلہ ہے ۔یہ امر خوش آیند ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنی سمت کا تعین کر لیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی ترجیحات اور سوچ واضح ہے' اگر انھوں نے اپنے ویژن کو عملی شکل دے دی تو پھر پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔