ادبی کانفرنس شہباز قلندر کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچایا جائے مقررین
عرس کے آخری روز ادبی کانفرنس سے نواز علی شوق،عصمت درانی، نظیر حیات سومرو و دیگر کا خطاب.
سہون شريف: سيكريٹري ثقافت سندھ سعيد احمد اعوان ، ڈاكٹر نواز علي شوق و ديگر محكمہ ثقافت كي جانب سے شايع كردہ كتب كي رونمائي كر رہے ہيں۔ فوٹو: ایکسپریس
ملک کے نامور دانشوروں نے حضرت عثمان مروندی المعروف سخی لعل شہباز قلندر کی سوانح حیات اور شاعری کے مجموعے کو نایاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز قلندر کے متعلق تحقیقی عمل کو فروغ دے ان کی حقیقی زندگی، فلسفہ اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچایا جائے تاکہ ملک اور عالمی سطح پر دہشتگردی، انتہا پسندی اور نفرتوں کا خاتمہ کر کے معاشرے میں امن، پیار و محبت اور ہم آہنگی قائم کی جا سکے۔
مقررین نے ان خیالات کا اظہار لعل شہباز قلندر کے761 ویں عرس کے تیسرے روز محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے منعقد کی گئی قومی ادبی کانفرنس میں اپنے مقالات پیش کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے سندھ کے نامور محقق و ادیب ڈاکٹر نواز علی شوق نے کہا کہ قلندر شہباز کے متعلق دستیاب مواد میں اصل حقائق کی نسبت عقیدت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ سیکریٹری محکمہ ثقافت سندھ سعید احمد اعوان نے کہا کہ پورے صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلیے ہر وقت کوشاں ہیں۔ بہاول پور کی ادیبہ ڈاکٹر عصمت درانی نے بتایا کہ قلندر شہباز کی سب سے پہلے آمد ملتان میں ہوئی اور آپ کی آمد کا وقت اور قصہ آج بھی مشہور ہے۔
ڈاکٹر عارف نوشائی نے مقالہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ قلندر شہباز نے اپنے 3 تخلصوں سے شاعری کی ہے، جن میں راجہ، شہباز اور سبزواری شامل ہیں۔ عزیز کنگرانی نے کہا کہ دادو اور جامشورو میں بہت سے مزارات موجود ہیں، جن میں سے قلندرکے مقبرے کو منفرد حیثیت حاصل ہے۔ نامور ادیب نظیر حیات سومرو نے کہا کہ سندھ کے مقامی باشندے قلندر کے عرس کو قلندری تِل بھی کہتے ہیں، جبکہ میلے کے دوران قلندر کی مہندی سمیت دیگر کئی رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ ثقافت سندھ منظور قناصرو نے کہا کہ اس وقت سندھ دہشتگردی کا شکار ہے، لہٰذا ہم اولیاء اکرام کے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے دہشتگردی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔
چیئرمین شہباز میلہ کمیٹی ڈپٹی کمشنر جامشورو ساجد جمال ابڑو نے کہا کہ قلندر کے عرس پر محکمہ ثقافت کی جانب سے قومی ادبی کانفرنس کا انعقاد ایک شاندار قدم ہے۔ اس موقع پر نامور شعراء ڈاکٹر مقبول بخاری، ہدایت بلوچ، رکھیل مورائی، آسی زمینی، زیب نظامانی، خلیل عارف سومرو، رجب بگھیو، جبار جوش، ایاز جانی، رجب آزاد، غلام مصطفیٰ سولنگی، اسیر امتیاز، معصوم بخاری، امیتاز دانش، نمانو صدیق مہیسر، گوہر گل گورڑ، رحمت سومرو، عبل اداس ببر، تابش بخاری، انور ساگر کاندھڑو، گل حسن ساگر کوری، آزاد انور، سرور نواز بگھیو، ذاکر کھٹی اور نصیر مرزا نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ جبکہ استاد فتح علی خان، ذوالفقار علی، مظہر حسین، تاج مستانی، امبر مہک اور اعجاز منگی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
مقررین نے ان خیالات کا اظہار لعل شہباز قلندر کے761 ویں عرس کے تیسرے روز محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے منعقد کی گئی قومی ادبی کانفرنس میں اپنے مقالات پیش کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے سندھ کے نامور محقق و ادیب ڈاکٹر نواز علی شوق نے کہا کہ قلندر شہباز کے متعلق دستیاب مواد میں اصل حقائق کی نسبت عقیدت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ سیکریٹری محکمہ ثقافت سندھ سعید احمد اعوان نے کہا کہ پورے صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلیے ہر وقت کوشاں ہیں۔ بہاول پور کی ادیبہ ڈاکٹر عصمت درانی نے بتایا کہ قلندر شہباز کی سب سے پہلے آمد ملتان میں ہوئی اور آپ کی آمد کا وقت اور قصہ آج بھی مشہور ہے۔
ڈاکٹر عارف نوشائی نے مقالہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ قلندر شہباز نے اپنے 3 تخلصوں سے شاعری کی ہے، جن میں راجہ، شہباز اور سبزواری شامل ہیں۔ عزیز کنگرانی نے کہا کہ دادو اور جامشورو میں بہت سے مزارات موجود ہیں، جن میں سے قلندرکے مقبرے کو منفرد حیثیت حاصل ہے۔ نامور ادیب نظیر حیات سومرو نے کہا کہ سندھ کے مقامی باشندے قلندر کے عرس کو قلندری تِل بھی کہتے ہیں، جبکہ میلے کے دوران قلندر کی مہندی سمیت دیگر کئی رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ ثقافت سندھ منظور قناصرو نے کہا کہ اس وقت سندھ دہشتگردی کا شکار ہے، لہٰذا ہم اولیاء اکرام کے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے دہشتگردی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔
چیئرمین شہباز میلہ کمیٹی ڈپٹی کمشنر جامشورو ساجد جمال ابڑو نے کہا کہ قلندر کے عرس پر محکمہ ثقافت کی جانب سے قومی ادبی کانفرنس کا انعقاد ایک شاندار قدم ہے۔ اس موقع پر نامور شعراء ڈاکٹر مقبول بخاری، ہدایت بلوچ، رکھیل مورائی، آسی زمینی، زیب نظامانی، خلیل عارف سومرو، رجب بگھیو، جبار جوش، ایاز جانی، رجب آزاد، غلام مصطفیٰ سولنگی، اسیر امتیاز، معصوم بخاری، امیتاز دانش، نمانو صدیق مہیسر، گوہر گل گورڑ، رحمت سومرو، عبل اداس ببر، تابش بخاری، انور ساگر کاندھڑو، گل حسن ساگر کوری، آزاد انور، سرور نواز بگھیو، ذاکر کھٹی اور نصیر مرزا نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ جبکہ استاد فتح علی خان، ذوالفقار علی، مظہر حسین، تاج مستانی، امبر مہک اور اعجاز منگی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔