ارض فلسطین پر دو ریاستوں کا تصور
ارض فلسطین پر دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کا تصور خاصا پرانا ہے لیکن اسے حقیقی شکل تاحال نہیں دی جا سکی۔
ارض فلسطین پر دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کا تصور خاصا پرانا ہے لیکن اسے حقیقی شکل تاحال نہیں دی جا سکی۔ فوٹو: فائل
فلسطینی لیڈر محمود عباس نے ویٹیکن میں کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کے ساتھ ملاقات کی ہے جس میں پوپ نے فلسطین اسرایئل تنازعے کے حل کیلئے دو ریاستوں کے نظریہ پر عمل درآمد کے اپنے دیرینہ موقف پر اصرار کیا ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کی پوپ اور ویٹیکن کے وزیر خارجہ مونسگز پال گیلاغر کے ساتھ اگلے روز 20 منٹ تک ملاقات ہوئی۔ ویٹیکن کی طرف سے جاری کیے گئے رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت میں امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا گیا کہ وہ طویل عرصے سے جاری اس تنازعے کو حل کرانے میں مدد دے جس کے نتیجے میں ہزاروں جانوں کا اتلاف ہو چکا ہے اور اس تنازعہ سے پوری دنیا کے امن کے لئے خطرہ لاحق ہے لہٰذا مسئلہ کا ایسا حل نکالنا چاہیے جس سے دونوں فریق مطمئن ہو سکیں اور قتل و غارت کا یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہو سکے۔
ویٹیکن کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یروشلم کا عیسائیوں' مسلمانوں اور یہودیوں تینوں مذاہب کو ماننے والوں کے لئے مقدس شہر کا درجہ قائم رہنا چاہیے۔ امریکہ کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے اعلان کے بعد محمود عباس کا ویٹیکن کا یہ پہلا دورہ تھا۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان سے اسلامی دنیا میں بہت سخت اعتراض کیا گیا تھا۔ امریکہ نے اپنا سفارتخانہ بھی یروشلم میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ محمود عباس اور پوپ فرانسس نے ملاقات سے قبل معانقہ کیا اور دونوں نے ایک دوسرے کے رخسار پر بوسہ دیا جبکہ پوپ نے ویٹیکن کی لائبریری میں فلسطینی مہمان سے ملاقات کی۔
ویٹیکن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یروشلم کی تینوں ابراہیمی مذاہب اسلام عیسائیت اور یہودیت میں بہت خاص اہمیت اور تقدس ہے لہٰذا اس کی اس حیثیت کا بطور خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کے یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے اعلان نے عالم اسلام کے ساتھ عرب دنیا کو خاص طور پر مشتعل کر دیا تھا حالانکہ امریکہ بھی کئی عشروں سے سابقہ پالیسی پر عمل پیرا تھا لیکن امریکی پالیسی کی تبدیلی پر ویٹیکن کی طرف سے بھی شدید اعتراض کیا گیا تھا کیونکہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی واضح قراردادیں بھی موجود ہیں جبکہ پوپ کا موقف تھا کہ امریکہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔
بہرحال ارض فلسطین پر دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کا تصور خاصا پرانا ہے لیکن اسے حقیقی شکل تاحال نہیں دی جا سکی' حماس اور دیگر فلسطینی گروپ شاید اس پر تیار نہ ہوں لیکن پی ایل او اس حل پر رضا مند ہو سکتی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کی پوپ اور ویٹیکن کے وزیر خارجہ مونسگز پال گیلاغر کے ساتھ اگلے روز 20 منٹ تک ملاقات ہوئی۔ ویٹیکن کی طرف سے جاری کیے گئے رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت میں امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا گیا کہ وہ طویل عرصے سے جاری اس تنازعے کو حل کرانے میں مدد دے جس کے نتیجے میں ہزاروں جانوں کا اتلاف ہو چکا ہے اور اس تنازعہ سے پوری دنیا کے امن کے لئے خطرہ لاحق ہے لہٰذا مسئلہ کا ایسا حل نکالنا چاہیے جس سے دونوں فریق مطمئن ہو سکیں اور قتل و غارت کا یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہو سکے۔
ویٹیکن کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یروشلم کا عیسائیوں' مسلمانوں اور یہودیوں تینوں مذاہب کو ماننے والوں کے لئے مقدس شہر کا درجہ قائم رہنا چاہیے۔ امریکہ کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے اعلان کے بعد محمود عباس کا ویٹیکن کا یہ پہلا دورہ تھا۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان سے اسلامی دنیا میں بہت سخت اعتراض کیا گیا تھا۔ امریکہ نے اپنا سفارتخانہ بھی یروشلم میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ محمود عباس اور پوپ فرانسس نے ملاقات سے قبل معانقہ کیا اور دونوں نے ایک دوسرے کے رخسار پر بوسہ دیا جبکہ پوپ نے ویٹیکن کی لائبریری میں فلسطینی مہمان سے ملاقات کی۔
ویٹیکن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یروشلم کی تینوں ابراہیمی مذاہب اسلام عیسائیت اور یہودیت میں بہت خاص اہمیت اور تقدس ہے لہٰذا اس کی اس حیثیت کا بطور خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کے یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے اعلان نے عالم اسلام کے ساتھ عرب دنیا کو خاص طور پر مشتعل کر دیا تھا حالانکہ امریکہ بھی کئی عشروں سے سابقہ پالیسی پر عمل پیرا تھا لیکن امریکی پالیسی کی تبدیلی پر ویٹیکن کی طرف سے بھی شدید اعتراض کیا گیا تھا کیونکہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی واضح قراردادیں بھی موجود ہیں جبکہ پوپ کا موقف تھا کہ امریکہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔
بہرحال ارض فلسطین پر دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کا تصور خاصا پرانا ہے لیکن اسے حقیقی شکل تاحال نہیں دی جا سکی' حماس اور دیگر فلسطینی گروپ شاید اس پر تیار نہ ہوں لیکن پی ایل او اس حل پر رضا مند ہو سکتی ہے۔