ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
چینی قونصلیٹ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے ٹرانسفر لیٹر پر چلائے جانے کے انکشاف کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کا حکم۔
5 سال کے دوران دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ میں کمی ، موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ ہوا، آئی جی کی اجلاس میں بریفنگ۔ فوٹو : فائل
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ٹرانسفر لیٹر پر گاڑی کا استعمال غیر قانونی ہے، لہٰذا انھوں نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی کہ ایسی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیاجائے۔
ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں آئندہ ہونے والی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے امن و امان کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر سید ناصر شاہ، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹر ولی اللہ دَل، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی اور دیگر نے شرکت کی۔
ایک سوال پر ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹرولی اللہ دَل نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ گاڑی جو دہشت گردوں نے چائنیز قونصلیٹ میں حملے کے لیے استعمال کی تھی وہ جس شخص کے نام پر تھی وہ یہ گاڑی 6 سال قبل فروخت کرچکا تھا اور اب اس کی وفات کو 5 سال گزر چکے ہیں۔گاڑی ٹرانسفر لیٹر پر استعمال ہورہی تھی۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کریں۔
آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے وزیر اعلیٰ سندھ کو جرائم کے اعداد و شمار پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 2013 میں 61 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے تھے جب کہ 2018 میں صرف2 واقعات ہوئے ہیں۔ اسی طرح2013 میں ٹارگٹ کلنگ کے 509 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اب 2018 میں ان کی تعداد کم ہوکے صرف 5 رہ گئی ہے 2013 میں بھتہ خوری کے 575 کیسز ریکارڈ کیے گئے اور اب2018 میں کم ہوکر ان کی تعداد 131 ہے۔
اغوا برائے تاوان کے کیسز کے بارے میں بتاتے ہوئے آ جی سندھ نے کہا کہ 2013 میں 173 کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور2018 میں یہ صرف 12 کیسزرجسٹرڈ ہوئے ہیں، اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انھوں نے پولیس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی ہیں اور انھیں جدید اسلحے اور تربیت سے آراستہ کیا ہے لہٰذا جرائم کی شرح کم ہوئی ہے۔ اب میں چاہتاہوں کہ تھانہ کلچر تبدیل ہو اس کے لیے میں نے پولیس پبلک فرینڈلی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ 2013 میں 12187 موبائل چھیننے کے واقعات ہوئے تھے اور 2018 میں اس میں اضافہ ہوا ہے اور 14051 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں اضافے کے اسباب کے بارے میں بتاتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ ماضی میں امن و امان کی صورتحال ابتر تھی اور لوگ موبائل چھیننے کے واقعات رجسٹرڈ کرانے سے گریز کرتے تھے اب امن و امان کی صورتحال بہتر ہے اور لوگوں نے اپنی شکایات درج کرانا شروع کردی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سبب کوئی بھی ہو جرائم پر لازمی طورپر کنٹرول ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ اہم مقامات مثلاً قونصلیٹس،سی ایم ہاؤس ، گورنر ہاؤس، آئی جی آفس کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس فراہم کی جائیں اور وہ لازمی طورپر بلٹ پروف جیکٹیں پہنیں۔
مراد علی شاہ نے سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ چائنیز قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 2 شہریوں (بلوچستان سے) کے لیے معاوضے کے حوالے سے انھیں سفارشات بھیجیں۔ انھوں نے ان سے زخمی سیکیورٹی گارڈ کے علاج کے حوالے سے بھی دریافت کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ زخمی سیکوریٹی گارڈ کی بہتر طریقے سے نگہداشت اور علاج ہورہا ہے۔
ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں آئندہ ہونے والی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے امن و امان کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر سید ناصر شاہ، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹر ولی اللہ دَل، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی اور دیگر نے شرکت کی۔
ایک سوال پر ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹرولی اللہ دَل نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ گاڑی جو دہشت گردوں نے چائنیز قونصلیٹ میں حملے کے لیے استعمال کی تھی وہ جس شخص کے نام پر تھی وہ یہ گاڑی 6 سال قبل فروخت کرچکا تھا اور اب اس کی وفات کو 5 سال گزر چکے ہیں۔گاڑی ٹرانسفر لیٹر پر استعمال ہورہی تھی۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کریں۔
آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے وزیر اعلیٰ سندھ کو جرائم کے اعداد و شمار پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 2013 میں 61 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے تھے جب کہ 2018 میں صرف2 واقعات ہوئے ہیں۔ اسی طرح2013 میں ٹارگٹ کلنگ کے 509 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اب 2018 میں ان کی تعداد کم ہوکے صرف 5 رہ گئی ہے 2013 میں بھتہ خوری کے 575 کیسز ریکارڈ کیے گئے اور اب2018 میں کم ہوکر ان کی تعداد 131 ہے۔
اغوا برائے تاوان کے کیسز کے بارے میں بتاتے ہوئے آ جی سندھ نے کہا کہ 2013 میں 173 کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور2018 میں یہ صرف 12 کیسزرجسٹرڈ ہوئے ہیں، اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انھوں نے پولیس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی ہیں اور انھیں جدید اسلحے اور تربیت سے آراستہ کیا ہے لہٰذا جرائم کی شرح کم ہوئی ہے۔ اب میں چاہتاہوں کہ تھانہ کلچر تبدیل ہو اس کے لیے میں نے پولیس پبلک فرینڈلی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ 2013 میں 12187 موبائل چھیننے کے واقعات ہوئے تھے اور 2018 میں اس میں اضافہ ہوا ہے اور 14051 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں اضافے کے اسباب کے بارے میں بتاتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ ماضی میں امن و امان کی صورتحال ابتر تھی اور لوگ موبائل چھیننے کے واقعات رجسٹرڈ کرانے سے گریز کرتے تھے اب امن و امان کی صورتحال بہتر ہے اور لوگوں نے اپنی شکایات درج کرانا شروع کردی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سبب کوئی بھی ہو جرائم پر لازمی طورپر کنٹرول ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ اہم مقامات مثلاً قونصلیٹس،سی ایم ہاؤس ، گورنر ہاؤس، آئی جی آفس کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس فراہم کی جائیں اور وہ لازمی طورپر بلٹ پروف جیکٹیں پہنیں۔
مراد علی شاہ نے سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ چائنیز قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 2 شہریوں (بلوچستان سے) کے لیے معاوضے کے حوالے سے انھیں سفارشات بھیجیں۔ انھوں نے ان سے زخمی سیکیورٹی گارڈ کے علاج کے حوالے سے بھی دریافت کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ زخمی سیکوریٹی گارڈ کی بہتر طریقے سے نگہداشت اور علاج ہورہا ہے۔