پاکستان کی افغان سیاسی تصفیے کے لیے تعاون کی یقین دہانی

طالبان ہمیشہ شاکی رہے ہیں کہ افغان حکومت اورامریکا مذاکرات کا ڈھنڈورا تو پیٹتے ہیں مگر وہ اس میں قطعی طورپر مخلص نہیں۔

طالبان ہمیشہ شاکی رہے ہیں کہ افغان حکومت اورامریکا مذاکرات کا ڈھنڈورا تو پیٹتے ہیں مگر وہ اس میں قطعی طورپر مخلص نہیں۔ فوٹو : فائل

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے منگل کو امریکی نمایندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی جس میں افغان مفاہمتی عمل کے سلسلے میں پاکستان کے تعاون پر بات چیت جب کہ امن اور سیاسی حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔زلمے خلیل زاد نے امریکی صدر کے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا وزیر اعظم عمران خان نے افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کے تعاون کے حصول کے لیے صدر ٹرمپ کے پیغام کا خیرمقدم کیا ہے۔

شاہ محمود نے زلمے خلیل زاد کو یقین دہانی کرائی کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے،افغانستان میں سیاسی تصفیہ کے لیے خلوص نیت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ افغانستان کی جنگ کو 40سال بیت گئے ہیں آج تک اس خطے کی خون کی پیاس نہیں بجھی' آزادی پسند طالبان جنگجو امریکی اور موجودہ افغان حکومت کے خلاف برسرپیکار ہے' آئے دن ہر دوفریق کی جانب سے حملوں اور ایک دوسرے کی لاشیں گرانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔


پاکستان مسئلہ افغانستان کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے مگر اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ افغان امن عمل کو سبوتاژ کرنے میں درپردہ افغان حکومت اور امریکا کا ہاتھ رہا ہے۔

طالبان ہمیشہ شاکی رہے ہیں کہ افغان حکومت اور امریکا مذاکرات کا ڈھنڈورا تو پیٹتے ہیں مگر وہ اس میں قطعی طور پر مخلص نہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے چین بھی اس دور میں شامل ہو چکا ہے' خبروں کے مطابق پاکستان' افغانستان اور چین کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر افغانستان میں امن و سلامتی کے موضوع پر سہ فریقی مذاکرات 15دسمبر کو کابل میں ہوں گے' اس سلسلے میں پہلا دور گزشتہ سال دسمبر میں بیجنگ میں ہوا تھا جہاں تینوں ممالک نے سہ فریقی مذاکرات کے میکنزم پر اتفاق کیا تھا۔

افغان حکومت اور امریکا کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ تمام تر وسائل اور قوت کو بروئے کار لانے کے باوجود وہ افغان جنگجوؤں کا خاتمہ نہیں کر سکے' اور افغان جنگجو اب تک ان کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ لہٰذا افغان امن کو ٹریک پر لانے کے لیے ناگزیر ہے کہ افغان حکومت اور امریکا ڈبل گیم کھیلنے کے بجائے اس سلسلے میں مخلصانہ کوششیں کریں۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔
Load Next Story