رمضان میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت
کاغذی نہیں عملی اقدامات چاہئیں، رات کو مارکیٹوں کے فیڈر بند کیوں نہیں ہوتے؟، چیف جسٹس
کراچی سے350 میگاواٹ بجلی کے معاملے پر ای سی سی کے فیصلے ، طلب و رسد کا ریکارڈ طلب فوٹو: فائل
KARACHI:
لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے بجلی کی طلب اور رسد کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کر رہے ہیں۔ پیر کو دوران سماعت درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کمرشل مارکیٹوں کے بجائے رہائشی علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری ہے، لگتا ہے رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ مزید بڑھ جائے گی۔
اس پر عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے،کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ رات 8 بجے سے 10 بجے تک مارکیٹوں کے فیڈر بند کیوں نہیں کیے جاتے؟۔ عدالت نے کراچی سے350 میگاواٹ بجلی کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی تفصیلات، بجلی کی طلب اور رسد کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 11جولائی تک ملتوی کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے بجلی کی طلب اور رسد کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کر رہے ہیں۔ پیر کو دوران سماعت درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کمرشل مارکیٹوں کے بجائے رہائشی علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری ہے، لگتا ہے رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ مزید بڑھ جائے گی۔
اس پر عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے،کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ رات 8 بجے سے 10 بجے تک مارکیٹوں کے فیڈر بند کیوں نہیں کیے جاتے؟۔ عدالت نے کراچی سے350 میگاواٹ بجلی کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی تفصیلات، بجلی کی طلب اور رسد کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 11جولائی تک ملتوی کر دی۔