مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال جاری جھڑپ میں مزید2مجاہد شہید پولیس اہلکار ہلاک
قصبہ تارال کےگاؤں میڈورامیں فوج اورپولیس کا مشترکہ آپریشن،فائرنگ کےتبادلےمیں اعجازاورشاہ نوازشہید، اہلکار مارا گیا.
سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 2 نوجوانوں کی شہادت کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کے موقع پر علاقہ سنسان پڑا ہے ۔ فوٹو : اے ایف پی
مقبوضہ کشمیر کے جنوبی قصبے تارال میں مجاہدین کے خلاف فوج اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران شدید جھڑپ جاری ہے۔
پیر کی صبح جھڑپ میں 2 مجاہدین شہید اور ایک پولیس اہلکار ماراگیا۔ یہ جھڑپ ایک ایسے وقت ہوئی جب وادی میں ہڑتال کی جا رہی ہے اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حالات اتوار کی صبح اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ قصبہ میں فوج کی فائرنگ سے 2 طالب علم ہلاک ہوگئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی قصبہ تارال کے میڈورا گاؤں میں مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی فوج اور پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ یا ایس او جی نے مشترکہ آپریشن شروع کیا تو ایک مکان میں چھپے افراد نے فورسز پر فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں 2 مجاہدین اعجاز اور شاہ نواز مارے گئے جبکہ ایس او جی کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا، دریں اثنا2 طالب علموں کی ہلاکت کے خلاف پیر کو بانڈی پورہ میں مقامی تعلیمی اداروں کے طلبا نے احتجاجی جلوس نکالا۔ مشتعل نوجوانوں نے ایک سرکاری عمارت کو بھی نذرآتش کیا۔ اس واقعہ کے خلاف غم و غصہ کی لہر بتدریج پھیل رہی ہے۔ فوج اور مقامی انتظامیہ نے ان ہلاکتوں کی الگ الگ سطح پرتحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
پیر کی صبح جھڑپ میں 2 مجاہدین شہید اور ایک پولیس اہلکار ماراگیا۔ یہ جھڑپ ایک ایسے وقت ہوئی جب وادی میں ہڑتال کی جا رہی ہے اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حالات اتوار کی صبح اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ قصبہ میں فوج کی فائرنگ سے 2 طالب علم ہلاک ہوگئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی قصبہ تارال کے میڈورا گاؤں میں مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی فوج اور پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ یا ایس او جی نے مشترکہ آپریشن شروع کیا تو ایک مکان میں چھپے افراد نے فورسز پر فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں 2 مجاہدین اعجاز اور شاہ نواز مارے گئے جبکہ ایس او جی کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا، دریں اثنا2 طالب علموں کی ہلاکت کے خلاف پیر کو بانڈی پورہ میں مقامی تعلیمی اداروں کے طلبا نے احتجاجی جلوس نکالا۔ مشتعل نوجوانوں نے ایک سرکاری عمارت کو بھی نذرآتش کیا۔ اس واقعہ کے خلاف غم و غصہ کی لہر بتدریج پھیل رہی ہے۔ فوج اور مقامی انتظامیہ نے ان ہلاکتوں کی الگ الگ سطح پرتحقیقات کا اعلان کیا ہے۔