فیصل قتل کیس ملزم منصور کو روزانہ عدالت میں پیش کرنیکاحکم
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر تیزاب کی بوتل برآمد کی ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر تیزاب کی بوتل برآمد کی ہے۔ فوٹو: فائل
TANDO ADAM:
عدالت نے بینکار فیصل نبی ملک قتل کیس میں گرفتارمنصورمجاہد کو روزانہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
منگل کو مقدمے کے تفتیشی افسر نے قتل کے الزام میں گرفتار منصور مجاہد ،انعب حمید اور معصومہ عابدی کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے دوبارہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفی میمن کے روبرو پیش کیا تھا، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر تیزاب کی بوتل برآمد کی ہے ملزمان نے مقتول پر تیزاب پھینک کر خوف وہراس پھیلایا ہے، اس موقع پر پبلک پراسیکویٹر عبدالمعروف نے عدالت کو بتایا کہ 30جون کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایک روز کا ریمانڈ دیا تھا اور انسداد اور دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا ۔
تاہم واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ قتل چار دیواری اور فلیٹ کے ایک کمرے میں ہوا ہے،ملزمان نے مقتول کی ہلاکت کے بعدشناخت مٹانے کے لیے مقتول کے چہرے پر تیزاب ڈالا ہے ، ملزمان کے اس فعل سے دہشت گردی کا کوئی عنصر نہیں نظر نہیں آیا جس سے دہشت و خوف ہراس پھیلا ہو اور تفتیشی افسر کو ماتحت عدالت میں پیش کرنے کی رائے دی تھی ۔
واضح رہے کہ ماتحت عدالت نے ان کی رائے پر اتفاق کیا اور ایک روز کا جسمانی ریمانڈ دیا تھا، فاضل عدالت نے وکیل سرکار کے دلائل پر اتفاق کرتے ہوئے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمانڈ پیپر واپس کردیے،ملزمان کو ماتحت عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ،بعدازاں پولیس نے ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی حاتم عزیز سولنگی کے روبرو پیش کیا تھا۔
عدالت نے بینکار فیصل نبی ملک قتل کیس میں گرفتارمنصورمجاہد کو روزانہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
منگل کو مقدمے کے تفتیشی افسر نے قتل کے الزام میں گرفتار منصور مجاہد ،انعب حمید اور معصومہ عابدی کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے دوبارہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفی میمن کے روبرو پیش کیا تھا، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر تیزاب کی بوتل برآمد کی ہے ملزمان نے مقتول پر تیزاب پھینک کر خوف وہراس پھیلایا ہے، اس موقع پر پبلک پراسیکویٹر عبدالمعروف نے عدالت کو بتایا کہ 30جون کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایک روز کا ریمانڈ دیا تھا اور انسداد اور دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا ۔
تاہم واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ قتل چار دیواری اور فلیٹ کے ایک کمرے میں ہوا ہے،ملزمان نے مقتول کی ہلاکت کے بعدشناخت مٹانے کے لیے مقتول کے چہرے پر تیزاب ڈالا ہے ، ملزمان کے اس فعل سے دہشت گردی کا کوئی عنصر نہیں نظر نہیں آیا جس سے دہشت و خوف ہراس پھیلا ہو اور تفتیشی افسر کو ماتحت عدالت میں پیش کرنے کی رائے دی تھی ۔
واضح رہے کہ ماتحت عدالت نے ان کی رائے پر اتفاق کیا اور ایک روز کا جسمانی ریمانڈ دیا تھا، فاضل عدالت نے وکیل سرکار کے دلائل پر اتفاق کرتے ہوئے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمانڈ پیپر واپس کردیے،ملزمان کو ماتحت عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ،بعدازاں پولیس نے ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی حاتم عزیز سولنگی کے روبرو پیش کیا تھا۔