کراچی کی سیاست… ٹھیکیدار نہیں خدمت گار کی ضرورت

ایک طویل عرصہ بعد جماعت اسلامی کے زیادہ تر نوجوان ایم کیو ایم کا ہراول دستہ بن گئے

سال 1987ء میں مہاجر قومی موومنٹ میں جب میں اور میرے جیسے کئی اور نوجوان شامل ہوئے تو اس وقت ہماری عمریں 23 ,22 یا کچھ کی 24 برس رہی ہوں گی۔ اس زمانے میں ہمارے ایشوز کالج میں ایڈمیشن، نوکری' کوٹا سسٹم وغیرہ تھے۔

مہاجر شناخت ایم کیو ایم میں شمولیت سے پہلے اس وقت کے میرے جیسے نوجوان کے ذہن میں نہیں تھی' کم از کم لسانیت اور تعصب کو لے کر تو قطعی نہیں تھی' اور اس وقت کا نوجوان تعلیم کے حصول میں مصروف عمل تھا۔ مہاجر نعرہ اس لیے دل کو لگا کیونکہ محرومیوں کی علامت بن گیا تھا' قومیت سے زیادہ اس کا تعلق اس وقت کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کے ساتھ ہے۔

نوجوان کسی بھی تحریک کا ہراول دستہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایم کیو ایم کو یہ ہر اول دستہ دستیاب ہو گیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محنت بھی بہت کی گئی، اس جماعت کو منظم کرنے میں۔ اس سے پہلے یاد کریں کراچی میں جماعت اسلامی کا طوطی بولتا تھا۔ 1979 اور 1983 میں اس جماعت کے کراچی میں میئر عبدالستار افغانی صاحب ہوا کرتے تھے۔ اس وقت نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جماعت اسلامی کے ساتھ ہوا کرتی تھی' یہی سب زکوٰۃ' فطرہ' صدقات' خیرات' کھالیں جمع کرنا۔ جب نوجوانوں کے مسائل اور محرومیاں جماعت اسلامی بھی حل نہیں کر سکی تو نوجوان طبقہ ایم کیوایم میں شامل ہو گیا۔

1980کی دہائی تک مہاجروں کو پھر بھی نوکریاں اور داخلے مل جایا کرتے تھے اور بیورو کریسی میں مہاجروں کی بڑی اکثریت ہوا کرتی تھی۔ ایک طویل عرصہ بعدجماعت اسلامی کے زیادہ تر نوجوانوں ایم کیو ایم کا ہراول دستہ بن گئے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کی قیادت خود بھی نوجوان تھی اور میرا خیال ہے 1984 تک سب کی عمریں (یا کم از کم زیادہ تر) 40 سے کم تھیں۔1987 تک ایم کیو ایم اس طرح نہیں جیتی جیسے بتایا جاتا ہے' انتخابی نشان ایک نہیں تھا امیدواروں کا' شاید ایک دوسرے کو بھی نہیں جانتے تھے' آزاد امیدواروں کو ایم کیو ایم میں شامل کروایا گیا اور اس طرح کراچی اور حیدر آباد کا میئر بنایا گیا۔ پھر 1988 اور 1990کے عام انتخابات میں عوام بڑی تعداد میں باہر آئے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی جس کی ایک بڑی وجہ اس وقت قومیت اور لسانیت کے نام پر پنجابی پختون اتحاد کا بن جانا اور شہر میں لسانی فسادات کی آڑ میں قتل و غارت گری کا ہونا۔

ایم کیو ایم کا نعرہ تھا سب ہمارے دشمن ہیں اور اس وجہ سے ایک ہو جاؤ مہاجرو۔ بس جذباتیت Hysteria کیفیت اور بھیڑ چال میں نوجوان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا اور جڑ گیا۔ جب تک نوجوان جڑا رہا ایم کیو ایم توانا رہی۔ 1987 یا 1988 سے آج 30 برس ہو گئے ہیں اور اب وہ نوجوان جو 22 برس کا تھا52 برس کا ہو گیا ہے اور اس کے ذہن کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اب 45 برس سے زائد کے لوگوں کی بات اس Contextمیں سمجھ میں آتی ہے کہ انھیں آج کے نوجوان کے خیالات سے اتفاق نہیں ہے۔

آج کے نوجوان کے کیا وہی مسائل ہیں جو 1987 کے نوجوان کے تھے؟ میرا خیال ہے نہیں۔ آج بھی کیا کوٹہ سسٹم اتنا Relevant رہ گیا ہے؟ نہیں۔ کیاآج کوئی محصورین پاکستان کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے؟ نہیں۔ کیونکہ ان مطالبات کی اپنی افادیت نہیں رہی۔ کراچی جو 1987 میں تھا کیا آج وہی کراچی ہے؟ نہیں۔ کیا کراچی کی آبادی اور اس میں قومیتوں کی تفریق و تعریف 1987والی ہے؟ نہیں۔ کیا کراچی ترقی میں 1987 تا1992 سے آگے نکلا یا پیچھے چلا گیا؟ میرا خیال پیچھے چلا گیا۔ میں تو کالج گورنمنٹ بس 4D میں بیٹھ کر جایا کرتا تھا اور کہیں نلکے سے پانی پی لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ مالی جس پائپ سے باغ میں پانی دے رہے ہوتے تھے اس سے بھی پی لیا کرتے تھے۔ کیا آج آپ ایسا کر سکتے ہیں؟ نہیں۔ تو زمانہ بدل گیا ہے، آج کا نوجوان جو مانگ رہا ہے وہ آج کی مہاجر قیادت کے پاس دینے کو ہے نہیں اور نہ ہی ماضی کی کوئی ایسی منفرد شاندار مثال ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم اور قومی قیادت عوام کی کیا خدمت کی۔


کراچی میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں عوام کی بڑی اکثریت ووٹ ڈالنے نہیں نکلی لیکن پی ٹی آئی کو مہاجر نوجوانوں نے عمران خان سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں ووٹ دیا ہے۔ کیا عمران خان مہاجر ہیں؟ کیا وہ مہاجروں کے حقوق کی کھل کر بات کرتے ہیں؟ لیکن انھوںنے کراچی سے تقریباً تمام علاقوں سے مہاجر نمایندے کھڑے کیے اور ثابت کیا۔ (اگر الیکشن کے نتائج کو آپ تسلیم کر لیں) کہ مہاجروں کی اکثریت وفاق پرست جماعت اور پاکستانیت کے نام پر آج بھی ووٹ کاسٹ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پی پی پی بھی وفاق کے نام پر ووٹ لیتی ہے ، کراچی سے کم از کم اور مہاجروں کی ایک بڑی تعداد انھیں بھی سپورٹ کرتی ہے۔ اب مہاجروںنے آپ کو کیا دکھایا کہ وہ ایم کیو ایم کو کتنا سپورٹ کرتے ہیں اور پی ٹی آئی' پی ایس پی اور پی پی پی کو کتنا سپورٹ کرتے ہیں۔ اسی کو سامنے رکھ کر دیکھ لیں اور طے کریں کہ مہاجروں کی اکثریت اور خصوصا نوجوان یعنی 18 سے 40 برس والوں کی تو غالب اکثریت لسانیت اور قومیت کے بجائے وفاق اور وطن پرست ہے۔

نہایت احترام کے ساتھ 2018کے الیکشن میں جو ایک بات ثابت ہوئی وہ یہ کہ ایم کیوایم کا بھی ''صرف'' مہاجر بیانیہ کے ساتھ کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ آگے چلتے چلتے ان کی طاقت اور نمایندگی علامتی Symbolic ہی رہ جائے گی۔ مہاجر تو پی ٹی آئی میں بھی بہت ہے اور قومی اسمبلی میں کراچی سے جانے والا پی ٹی آئی کے نمایندوں کی اکثریت مہاجر ہے۔ ایم کیو ایم کے پاس اب نعرہ بھی کوئی نہیں رہ گیا کیسے اب حکومت میں رہ کر صوبے کی بات کریں گے۔ تلخ حقیقت ہے کہ مہاجر جب تک وفاق کے ساتھ جڑا تھا۔

اس ملک پر راج کرتا تھا اور سول بیورو کریسی میں آگے تھا... دیکھ لیں کیسے تنزلی ہوئی ہے اور کس تیزی کے ساتھ ہوئی ہے۔ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ تیس برس ہو گئے اور اب1987 کی طرح نئی سوچ اور نئے بیانیہ کا وقت آ گیا ہے۔ غیر سنجیدہ اعلانات ودعؤں سے عوام اب اکتا چکے ہیں' میڈیا اور سوشل میڈیا کا دور ہے اور منفی خبر زیادہ تیزی سے گردش کرتی ہے۔ کراچی کی سیاست کی کنجی الیکشن میں جیتنے یا جتائی جانے والی جماعت کے پاس آج بھی نہیں کیونکہ کراچی کی آواز کسی کراچی والے کی زبانی ہی پر اثر مقام بنا سکے گی۔ اس وقت کراچی میں قومی نشستوں پر منتخب ہونے والے تمام ہی ممبران کسی نہ کسی حوالے سے حکومتوں کا حصہ ہیں۔

14 ایم این اے پی ٹی آئی اور 4 ایم کیو ایم یعنی وفاقی حکومت اور باقی ماندہ پی پی پی یعنی صوبائی حکومت پھر اس شہر سے صدر' وزیر اعظم (عمران خان صاحب کراچی کی نشست سے بھی کامیاب ہوئے تھے)' گورنر' چار وفاقی وزراء اور اس شہر کا میئر بھی مطلب وفاقی حکومت' صوبائی حکومت اور مقامی حکومت پھر شکایت کون کر رہا ہے اور کس سے کرے گا۔ پہلی بار کراچی کی نمایندگی میں ایسی منفرد صورتحال ملک کی سیاست میں نظر آتی ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ پھر کراچی کیوں بدنصیب اور لاوارث دکھائی دے رہا ہے؟

اس ایک بات کو سمجھ لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ محض نشستیں حاصل کرنا ہی کسی جماعت کو اس شہر کا ٹھیکیدار نہیں بنا دیتا۔ دوسری اہم گزارش کہ پارٹی قیادت کی فہم و فراست اور شہر میں ذاتی رنجشوں و مخاصمتوں کو سیاست پر مقدم رکھنے کے باعث ہونے والی تقسیم کراچی کے عوام کو انتہائی حد تک بے زار کر چکی ہے اور کا ادراک تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہونا چاہیے کیونکہ بحیثیت مجموعی عوامی امنگوں اور خواہشات کا احترام نہ ہونا ا ور اس سے بھی بد تر از خود ایک تصوراتی دنیا قائم کر کے اس کا بادشاہ بن جانے سے انسان کا ایک ایسی تخیلاتی دنیا میں ذہنی طور پر چلا جانا جہاں پر زمینی حقائق پہنچتے پہنچتے بے معنی اور بے وقعت ہو جاتے ہیں: بس وہیں سے بنیادی خرابی اور بربادی کا آغاز ہو جاتا ہے۔

جس کے باعث عقل اور دانش کی بنیاد پر فیصلوں کے بجائے جذبات اور خواہشات کی بنیاد پر ضد اور ہٹ دھرمی اور کمزور فیصلے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ سیاست کا مقصد سوائے اقتدار کے حصول کے اور کچھ نہیں لیکن اقتدار کا حصول عوام کی خدمت کے لیے ہو تو پیغام میں جان پڑ جاتی ہے اور اگر یہی اقتدار کا حصول اپنے نظریاتی و سیاسی فریق کو فقط نیچا دکھانے کے لیے ہو تو پیغام بے روح و بے جان ہو جاتا ہے۔ فیصلہ آج بھی کراچی کے عوام نے کرنا ہے لیکن سوچنا ان تمام افراد کا کام ہے جو کراچی کے ٹھیکیدار بننا چاہتے ہیں کہ اب وقت ہے خدمتگار بننے کا۔ عمل کا دارومدار نیت پر اور نیت ''کراچی کے نام پر نہیں کراچی کے لیے سیاست'' کرنے کی ہو تو انفرادی اور ذاتی رنجشیں اجتماعی مفادات اور فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں... ذات سے بالا تر ہو کر اس غریب بندہ پرور شہر کی حقیقی نمایندگی اور خدمت کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے شائد ماضی میں کبھی نہ رہی ہو۔
Load Next Story