غلام حیدر کے قاتل کو پھانسی پر لٹکتا دیکھنا چاہتے ہیں اہلخانہ

مقتول کے اہلخانہ نے رینجرز کی جانب سے50 لاکھ روپے دینے کی پیشکش ٹھکرا دی.

واقعہ ایک ماہ قبل پیش آیا تھا، رینجرز اہلکار شہزاد کو آج عدالت میں پیش کیا جائیگا ۔ فوٹو : ایکسپریس

شاہ فیصل کالونی میں رینجرز اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے غلام حیدر کے اہل خانہ کو رینجرز حکام نے 50 لاکھ روپے تک دینے کی پیشکش کی جوکہ انھوں نے ٹھکرادی۔

اہل خانہ نے اپنے پیارے کے قاتل کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کا عزم ظاہر کیا ہے ، مقدمے کی سماعت آج (جمعرات کو) ہوگی ، تفصیلات کے مطابق ایک ماہ قبل شاہ فیصل کالونی میں رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ سے 25 سالہ غلام حیدر ولد غلام مصطفی ہلاک ہوگیا تھا ، مقتول کورنگی سے اپنے کزن عبدالسلام کا ڈائلیسز کراکر اپنی رہائش گاہ واقع ملیر میمن گوٹھ جارہا تھا ، فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کے شیشے ٹوٹنے سے عبدالسلام بھی زخمی ہوگیا تھا ، عبدالسلام نے ایکسپریس کو بتایا کہ واقعے کے بعد رینجرز حکام نے ان کے گھر آکر پہلے تو تعزیت کی اور تفتیش میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔




بعد میں ٹیلی فون پر رینجرز حکام نے انھیں کہا کہ وہ 50 لاکھ روپے لے لیں اور معاملہ رفع دفع کریں ، عبدالسلام کا کہنا تھا کہ متعدد مرتبہ ٹیلی فون پر اسی طرح کی آفر کی گئی اور انھیں رینجرز حکام کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے اہلکاروں سے اگر ایسا کچھ ہوجاتا ہے تو ہم رقم دیتے ہیں لیکن انھوں نے رینجرز کی جانب سے اس پیشکش کو ٹھکرادیا ، مقتول کے والد غلام مصطفی نے بھی رقم لینے سے صاف انکار کردیا ، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہم اپنے پیارے کے خون کا سودا نہیں کرنا چاہتے ، اس کے قاتل کو قانون کے مطابق قتل کی سزا کے طور پر پھانسی پر لٹکنا دیکھنا چاہتے ہیں۔

عبدالسلام نے ایکسپریس کو مزید بتایا کہ شاہ فیصل کالونی تھانے میں واقعے کا مقدمہ الزام نمبر 148/13 بجرم دفعہ 302/34 کے تحت ان کی مدعیت میں درج کیا گیا ، رینجرز حکام نے اہلکار شہزاد کو شاہ فیصل کالونی پولیس کے حوالے کردیا تھا جس کے بعد آج (جمعرات) اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا ، انھوں نے کہا کہ مقدمے کی پہلی سماعت آج سیشن کورٹ میں ہوگی ۔

 
Load Next Story