درآمد شدہ بلٹ پروف گاڑی کی جعلی دستاویز پر کلیئرنس کا انکشاف
جرمنی سے بی ایم ڈبلیو درآمدکی گئی، کلیئرنس کے لیے جعلی این او سی کا سہارا لیاگیا
محکمہ داخلہ کا این اوسی سے اظہار لاتعلقی، درآمدکنندہ و کلیئرنگ ایجنٹ کیخلاف مقدمہ درج فوٹو: فائل
پاکستان کسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ کلکٹریٹ نے جعلی دستاویزات پر جرمنی سے درآمد ہونے والی قیمتی بلٹ پروف گاڑی کی کلیئرنس کا انکشاف کرتے ہوئے متعلقہ درآمدکنندہ اور کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ میسرزایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈکے سی ای او محمدامجدکی جانب سے جرمنی سے بی ایم ڈبلیو750Liبلٹ پروف گاڑی سال 2013 میں درآمد کی گئی تھی جس کی کلیئرنس کلیئرنگ ایجنٹ جاویدعمرانٹرپرائزز کے توسط سے کروائی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ میسرزایڈن ہائوسنگ لمیٹڈکی جانب سے مذکورہ بلٹ پروف گاڑی کی کلیئرنس کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کی جعلی این او سی کاسہارا لیاگیا تھا۔
ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ میسرزایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈکے سی ای او محمدامجدکی جانب سے جرمنی سے بی ایم ڈبلیو750Liبلٹ پروف گاڑی سال 2013 میں درآمد کی گئی تھی جس کی کلیئرنس کلیئرنگ ایجنٹ جاویدعمرانٹرپرائزز کے توسط سے کروائی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ میسرزایڈن ہائوسنگ لمیٹڈکی جانب سے مذکورہ بلٹ پروف گاڑی کی کلیئرنس کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کی جعلی این او سی کاسہارا لیاگیا تھا۔