ریاستی انتخابات میں بی جے پی کا دھڑن تختہ

بھارت میں عام انتخابات 2019ء میں ہوں گے مگر عام انتخابات سے قبل ریاستی انتخابات میں مودی حکومت کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔

بھارت میں عام انتخابات 2019ء میں ہوں گے مگر عام انتخابات سے قبل ریاستی انتخابات میں مودی حکومت کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ فوٹو؛فائل

بھارت میں متعصب ہندو جماعت بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) جس کے بارے میں دعوے کیے جاتے تھے کہ اب اس کا اقتدار کوئی بھی چھین نہیں سکے گا مگر بھارت کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کے تمام دعوے مٹی میں مل گئے ہیں اور یہ پارٹی اپنے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں میں بری طرح شکست کھا گئی ہے اور اس کی مدمقابل کانگریس کئی نششتوں سے فتح یاب ہو گئی ہے۔ بھارت میں عام انتخابات 2019ء میں ہوں گے مگر عام انتخابات سے قبل ریاستی انتخابات میں مودی حکومت کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کے خلاف زہر اگلنا، انتہا پسندی کے شرم ناک مظاہرے اور مسلم دشمنی نریندر مودی کو لے ڈوبی ہے اور بی جے پی چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجھستان میں اپنی حکومت برقرار نہیں رکھ سکی حالانکہ متذکرہ ریاستوں کو بی جے پی کا مضبوط قلعہ تصور کیا جاتا تھا، لیکن ان ریاستوں میں کانگریس نے میدان مار لیا جس کے لیڈر راہول گاندھی ہیں۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش کی 230 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں کانگریس نے 114نشستیں جیت لیں جب کہ بی جے پی کو 109 سیٹوں پر کامیابی مل سکی۔


اسمبلی میں سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کے لیے 116 نشستوں کی ضرورت ہے۔ راجستھان میں 199 نشستوں کے لیے مقابلہ ہوا جس میں سے کانگریس نے 101 نشستیں جیت لیں جب کہ بی جے پی کے ہاتھ صرف 73 نشستیں آ سکیں۔ ان ریاستوں میں کانگریس حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ تلنگانہ میں مقامی جماعت تلنگانہ راشٹرز سمیتھی نے وفاقی جماعتیں کہلانے والی بی جے پی اور کانگریس کو انتخابی دوڑ میں بہت پیچھے چھوڑ دیا اور 119 میں سے 88 سیٹیں جیت کر ریاستی اسمبلی میں سبقت حاصل کر لی۔

کانگریس کو 21 اور بی جے پی کو صرف ایک سیٹ مل سکی۔ بی جے پی کو سب سے بڑا دھچکا اپنے مضبوط گڑھ ریاست چھتیس گڑھ میں پہنچا جہاں 90 نشستوں پر انتخاب ہوا۔ کانگریس خلاف توقع حکمراں جماعت سے 68 نشستیں چھیننے میں کامیاب رہی جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) صرف 16نشستیں ہی بچا پائی۔یہاں بھی کانگریس حکومت بنا سکتی ہے۔

میزورام کے انتخابی نتائج کانگریس کے لیے دھچکا ہیں، یہاں کانگریس کی حکومت قائم تھی لیکن یہ میدان حیران کن طور پر مقامی جماعت میزو نیشنل فرنٹ کے نام رہا جس نے 40 میں سے 26 نشستیں جیت کر سبقت حاصل کر لی۔ اس ریاست میں کانگریس کو 5 اور بی جے پی کو صرف 1 نشست مل سکی۔ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے نتائج نے بی جے پی کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے وزیراعلیٰ نے شکست بھی تسلیم کر لی ہے اوراستعفیٰ بھی دیدیا ہے۔
Load Next Story