پرائس کنٹرول کمیٹیاں قانونی بھلا چکیں غریب کو افطاری کیلیے ٹماٹر بھی نہیں ملیں گے جسٹس دوست محمد

اشیا کے نرخ آسمان کوچھورہے ہیں،مویشیوں،پولٹری کی افغانستان اسمگلنگ عروج پرہے،اسمگلرنہیں سدھرتے توڈنڈااٹھاناچاہیے.

کرپشن اتنی بڑھ گئی کہ سبسڈی کے باوجودیوٹیلیٹی اسٹورپرپرانی قیمت وصول کی جارہی ہے،حکومت فیصلے پرعملدرآمد کرائے، ریمارکس. فوٹو: فائل

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ رمضان المبارک سر پر پہنچ گیا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں پرائس کنٹرول ایکٹ کے قانون کو بھلا چکی ہیں جس میں پرائس ریویوکمیٹی بھی شامل ہے اور یہ کمیٹی ہر15 روز بعد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تعین باقاعدہ سروے کے بعد کرتی ہے تاہم کمیٹیاں غیر فعال ہیں۔

مویشیوں اور پولٹری کی افغانستان کو اسمگلنگ کا دھندہ عروج پر ہے اور لگتا ایسا ہے کہ مقدس مہینے میںملک کے غریب عوام کو افطاری کیلیے ٹماٹر بھی نہیں ملیںگے۔ یہ ریمارکس انھوں نے نورعالم خان ایڈووکیٹ کی جانب سے قبائلیوںکو عام شہریوں کے برابر حقوق دینے کیلیے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران دیے۔ درخواست گزارنے بتایا کہ گذشتہ پیشی پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے اٹارنی جنرل کی عدالت عالیہ میں پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم آج بھی اٹارنی جنرل پیش نہیں ہوئے جس پرڈپٹی اٹارنی جنرل اقبال مہمند نے بتایا کہ اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میںمقدمات کے زیادہ ہونے کے باعث مصروف ہیں جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ اب تو عوامی مفادکے مقدمات کی تعدادبڑھ گئی ہے اورضرورت اس امرکی ہے کہ چاروںصوبوں کیلیے علیحدہ اٹارنی جنرل مقررہونے چاہئیں۔




فاضل بینچ نے اٹارنی جنرل کوآخری مہلت دیتے ہوئے سماعت 12ستمبر تک ملتوی کر دی۔ قبل ازیں چیف جسٹس نے ریمارکس میںکہاکہ عدلیہ نے مویشیوںاورپولٹری کی اسمگلنگ روکنے کیلیے اقدامات کیے، حکومت کو چاہیے کہ عدالتی فیصلے پرعملدرآمدکے اقدامات کرے اور اگر اسمگلر نہیں سدھرتے تو پھر ان کیخلاف ڈنڈااٹھانا چاہیے کیونکہ ملکی حالات روز بروز بگڑ رہے ہیں، کرپشن اتنی بڑھ گئی ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورزکو اشیا کی قیمتوں میںکمی کیلیے سبسڈی دینے کے باوجود پرانی اضافی قیمتیں نافذ ہیں۔
Load Next Story