اسلامی مالیات کو سود کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے گورنر اسٹیٹ بینک
5 سال میں اسلامی بینکاری نے سالانہ 20 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے، طارق باجوہ
5 سال میں اسلامی بینکاری نے سالانہ 20 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے، طارق باجوہ۔ فوٹو: فائل
گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اسلامی مالیات کو سود کے متبادل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
طارق باجوہ نے اکاؤنٹنگ اینڈ آڈٹنگ آرگنائزیشن فاراسلامک فنانشل انسٹیٹیوشنز (ایویفی) کے تحت اردوزبان میں شرعی معیارات کے اجرا کی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ وژن2023 کے تحت اسلامی بینکاری کا مارکیٹ میں 10فیصد حصہ بڑھایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ قومی زبان ملک میں ابلاغ کے لیے اہم ہے اور اردو میں معیارات کی کتاب سے اسلامی شریعہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اسلامی مالیات دنیا میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ یہ عالمی مالیاتی صنعت کا اہم جزو بن گئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسلامی بینکاری 2 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، دنیا بھر میں اسلامی مالیات کو سود کے متبادل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ آیوفی اسلامی مالیات کو درپیش مشکلات خود حل تلاش کررہا ہے۔ اسلامی بینک پاکستان میں تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔
طارق باجوہ نے بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں اسلامی بینکاری نے سالانہ 20 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے اور مجموعی مالیاتی صنعت کا 15 فیصد ہوگئی ہے۔ اسلامی بینکاری کو ایس ایم ای اور زرعی سرمایہ کاری کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی بینکاری کا مقصد ہے کہ سود کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان میں شریعہ ماڈل کو دنیا کا بہترین ماڈل قرار دیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک پاکستان میں اسلامی مالیات کو عالمی معیارات کے ساتھ منسلک رکھنا چاہتاہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالر اور اسلامی مالیات کے ماہر مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 1970کی دہائی میں اسلامی مالیات کے نفاذ کو ناممکن گردانا جاتا تھا۔ اسلامی فقہ اکیڈمی نے اس سلسلے میں کام کیا۔ سود کے خاتمے کے لیے آیوفی نے بہت علمی کام کیا۔ 1970 میں اسلامی مالیاتی ادارے قائم ہوئے جو سود کے بغیر کام کرتے تھے۔ اسلامی بینکوں کی ترقی دنیا بھر میں روایتی سودی بینکوں سے زیادہ ہے ، بینکاری نظام کو سود سے پاک کرنا ایک مشکل کام تھا۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سوڈان اور لیبیا نے مکمل اسلامی بینکاری نظام اپنالیا ہے۔ پاکستان میں اسلامی بینکاری کو ترجیح دینا ہوگی، پاکستان میں وسائل کی حقیقی تقسیم متوازی بینکاری نظام میں نہیں ہوسکتی۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹرعشرت حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ آیوفی نے اسلامی بینکاری کے اکاؤنٹنگ آڈٹنگ کے معیارات کا اردو زبان میں ترجمے سمیت دیگر متعدد اقدامات کیے ہیں جولائق تحسین ہے۔
طارق باجوہ نے اکاؤنٹنگ اینڈ آڈٹنگ آرگنائزیشن فاراسلامک فنانشل انسٹیٹیوشنز (ایویفی) کے تحت اردوزبان میں شرعی معیارات کے اجرا کی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ وژن2023 کے تحت اسلامی بینکاری کا مارکیٹ میں 10فیصد حصہ بڑھایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ قومی زبان ملک میں ابلاغ کے لیے اہم ہے اور اردو میں معیارات کی کتاب سے اسلامی شریعہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اسلامی مالیات دنیا میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ یہ عالمی مالیاتی صنعت کا اہم جزو بن گئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسلامی بینکاری 2 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، دنیا بھر میں اسلامی مالیات کو سود کے متبادل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ آیوفی اسلامی مالیات کو درپیش مشکلات خود حل تلاش کررہا ہے۔ اسلامی بینک پاکستان میں تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔
طارق باجوہ نے بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں اسلامی بینکاری نے سالانہ 20 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے اور مجموعی مالیاتی صنعت کا 15 فیصد ہوگئی ہے۔ اسلامی بینکاری کو ایس ایم ای اور زرعی سرمایہ کاری کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی بینکاری کا مقصد ہے کہ سود کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان میں شریعہ ماڈل کو دنیا کا بہترین ماڈل قرار دیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک پاکستان میں اسلامی مالیات کو عالمی معیارات کے ساتھ منسلک رکھنا چاہتاہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالر اور اسلامی مالیات کے ماہر مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 1970کی دہائی میں اسلامی مالیات کے نفاذ کو ناممکن گردانا جاتا تھا۔ اسلامی فقہ اکیڈمی نے اس سلسلے میں کام کیا۔ سود کے خاتمے کے لیے آیوفی نے بہت علمی کام کیا۔ 1970 میں اسلامی مالیاتی ادارے قائم ہوئے جو سود کے بغیر کام کرتے تھے۔ اسلامی بینکوں کی ترقی دنیا بھر میں روایتی سودی بینکوں سے زیادہ ہے ، بینکاری نظام کو سود سے پاک کرنا ایک مشکل کام تھا۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سوڈان اور لیبیا نے مکمل اسلامی بینکاری نظام اپنالیا ہے۔ پاکستان میں اسلامی بینکاری کو ترجیح دینا ہوگی، پاکستان میں وسائل کی حقیقی تقسیم متوازی بینکاری نظام میں نہیں ہوسکتی۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹرعشرت حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ آیوفی نے اسلامی بینکاری کے اکاؤنٹنگ آڈٹنگ کے معیارات کا اردو زبان میں ترجمے سمیت دیگر متعدد اقدامات کیے ہیں جولائق تحسین ہے۔